بہشتی جرنیل کے دانشمندانہ فیصلے
  21  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کسی انسان کے متعلق کوئی بھی انسان یہ فتویٰ جاری نہیں کر سکتا کہ فلاں انسان بہشت میں جائے گا اور پھر میرے جیسے گنہگار، دنیا دار اور عیبوں بھرے انسان کو ئی جرأت ہی نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ کسی بھی انسان کو جنت اور دوزخ کے سر ٹیفیکیٹ دیتا پھرے۔ لیکن مجھے کبھی کبھی اپنے آپ پر یہ فخر محسوس ضرور ہوتا ہے کہ کہ میرا تصوف سے گہرا لگاؤ ہے اور میری یہ بات اس خالقِ کائنات کو بھی پسند ہے کہ اس نے بہت مستند اولیائے کرام کے پاس بیٹھنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اپنے زمانے کے مستند ولی اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ اس دن وہ بھی اپنے موج میلے میں تھے اور مجھ پر خاص مہربانی اور شفقت فرمائے ہوئے تھے۔باتوں باتوں میں میری اصلاح فرما رہے تھے۔ اس شفقت اور محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں بھی سوالوں پر سوال کئے جا رہا تھا۔میرے خیال میں میرا سب سے سخت سوال یہ تھا کہ آپ اس منزل پر کیسے پہنچے تو فرمانے لگے کہ ایک دفعہ میں نے اپنے پیر صاحب سے سوال کیا تھا کہ اللہ کو سب سے افضل عبادت کونسی پسند ہے؟ تو پیر صاحب خاموش رہے وہ ویسے بھی کم بولتے تھے۔میں نے سوال دوبارہ تھوڑا موڑ کر پوچھا کہ حضور مجھے کوئی ایسا ورد بتائیں کہ میں بھی اعلیٰ مرتبے پر پہنچ جاؤں۔انہوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ اعلیٰ مرتبہ پانے کے لئے فرائض ہی کافی ہیں۔پہلے تو میں بہت خوش ہوا کہ پیر صاحب نے زیادہ لمبا چوڑا وظیفہ نہیں بتایا۔لیکن جب میں نے فرائض پر غور کیا تو دل کانپ اٹھا ۔ فرائض تو پورے کرنابہت ہی مشکل کام ہے۔ان میںکوتاہی ہو سکتی ہے۔اولاد، والدین، پڑوسیوں ، رشتہ داروں اور سب سے بڑھ کر انسانیت کے فرائض یہ سب کچھ مشکل تھا۔کچھ وقت گزرنے کے بعد پھر ایسے ہی موقع پا کر میں نے پیر صاحب سے سوال کیا کہ حضور سارے فرائض پورے کرنے ہوں تو میرے جیسے دنیا دار شخص کے لئے بہت مشکل ہے۔کوئی ایک کام بتائیں جو ان سب میں افضل ترین ہو اور اللہ کو بہت پسند ہو۔تو پیر صاحب نے فرمایاکہ انسانیت کی خدمت ۔میں نے ایک بار پھر پیر صاحب کو خوشگوار موڈ میں دیکھتے ہوئے پوچھا کہ حضور انسانیت کی خدمت بھی بہت وسیع و عریض کام ہے ۔ انسانیت کی خدمت میں سب سے افضل کام بتائیے تو پیر صاحب نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے۔ جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں صوبہ بلوچستان میں سخت احساسِ محرومی پایا جاتا ہے۔اور تقریباً ایسے ہی ملتے جلتے حالات افغانستان کے بھی ہیں ۔ بلوچستان میں غربت انتہا پر ہے ۔روٹی کے ایک ایک نوالے کو لوگ ترس رہے ہیں ۔افغانستان گزشتہ تیس پینتیس سال سے میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔پہلے اس پر روس پڑھ دوڑا۔جس میں پاکستان نے افغانستان کا بھر پور ساتھ دیا اور پھر قدرت نے بھی بے گناہ افغانوںکا خون بہانے پر روس سے انتقام لیا اور وہ خود ٹکرے ٹکڑے ہو گیا۔پھر 2001ء میں امریکہ49ممالک کی فوجیں لے کر افغانستان آ کر بیٹھ گیااور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ظلم ہوتے رہے۔ افغان مرتے رہے۔ جرائم بڑھتے رہے۔دہشت گردوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔بلکہ وہاں دہشت گردی کے لئے باقاعدہ پنیریاں تیار ہوتی رہیں ۔جو وہاں سے اپنے جسموں کے ساتھ بم اور بارود باندھ کر پاکستان کے تمام صوبوں میں آ کر دہشت گردی کرتے رہے۔اس مسئلے کوحل کرنے کے لئے مختلف سیٹنگز اور جرگے ہوتے رہے۔اسی سلسلے میں افغانستا ن اور پاکستان کے بارے میں برطانوی خصوصی نمائندے مسٹر اوون جینکن نے اپنے برطانوی ہائی کمشنرمسٹر تھامس ڈرو کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کی۔خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کے علاوہ پاک افغان تعلقات میں حالیہ پیش رفت بھی زیرِ بحث رہی۔سفیر نے افغانستان کے حالات کے بارے میں جنرل ناصرخان جنجوعہ کو آگاہ کیا۔انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے دورے اور افغانستان میں مثبت تبدیلی کے لئے خوش امیدی کا عندیہ اور اشارہ دیا۔

مسٹر اوون جینکن نے پاکستان کی کوششوں ، کاوشوں اور قربانیوں کو خلوصِ دل سے تسلیم کیا۔خطے کی سیکیورٹی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔انہوںنے افغانستان میں امن و سلامتی کی مضبوطی اورپورے خطے میں مزید مثبت نقط ٔ نظر اور امن کے لئے زور دیا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مثبت اقدامات کے سلسلے میں جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اطمینا ن ظاہر کیااور کہا کہ پاکستان انتہائی خوشحالی کو بہت مثبت طریقے سے دل سے تسلیم کرتا ہے۔ چیف آف آ رمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورے سے افغانستان میں مزیدترقی ، امن اور استحکام کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔انہوں نے صدر اشرف غنی کو اپنے ملک کے لئے منصفانہ اور تعاون کے نقطہ ٔ نظر پیش کرنے کی تعریف کی۔اور اس کی تصدیق کی کہ ہمیں امریکیوں اور افغانیوں کا مثبت رویہ اور اعتماد چاہیئے۔ انہیں ہمیں مزیر الزام تراشیوں سے دکھی نہیں کرنا چاہیئے۔یقینی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے کام کرنا چاہتا ہے۔ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل مشترکہ اور ایک ہے۔جنرل ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو ہر سطح پر سیاسی ، سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس فریم ورک دوبارہ مضبوط بنیادوں پر شروع کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔افغانستان کے ساتھ انتقامی کاروائیاں کر کے امن بحال نہیں کیا جا سکتا۔ہمیں افغانستان کے عوام کے دکھوں اور تکلیفوں کو بھی محسوس کرنا ہوگا۔ان کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہوگا ۔ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے بلوچستان میں امن کی بحالی اور دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لئے ہتھیار استعمال کیا تھا۔انہوں نے سب سے پہلے بلوچستان کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا۔ جیسا کہ کالم کے آغاز میں بفضل عبادت بھوکے کو روٹی کھلانے کا ذکر کیا۔اس کا بلوچستان میں آغاز جنرل ناصر خان جنجوعہ نے کیا۔فراریوں کے لئے روزگار کا اہتمام کیا۔اپنا روزگار بنانے کے لئے انہیں معقول رقم فراہم کی۔آج وہ فراری دہشت گردوں کے چنگل سے نکل گئے ہیں۔اسی طرح افغانستان میں بھی انتہاکی غربت ہے۔اگر انہیںغربت سے نکالنے کے لئے معقول انتظام کیا جائے تو دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں بھی مکمل امن ہو سکتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved