سیاست، اقتدار اور خزانہ
  21  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

شہید ملت لیاقت علی خان قائداعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے، تقسیم ہند سے پہلے وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط حکومت میں وزیر خزانہ تھے، انہوں نے 1945ء میں جو بجٹ پیش کیا وہ غریب عوام کے حق میں انتہائی موثر اور کارآمد تھا کہ اسے غریب عوام کا بجٹ قرار دیا گیا۔ وہی شہید ملت لیاقت علی خان، خاندانی نواب تھے، انہیں پاکستان کا پہلا وزیراعظم بنایا گیا۔ ماسوائے موجودہ پاکستان، غیر منقسم ہندوستان میں پانی پت، سونی پت، باغپت، کرنال اور دہلی وغیرہ میںا چھی خاصی جائیداد تھی لیکن انہوں نے پاکستان میں کوئی کلیم نہیں کیا کہ یہاں متبادل جائیداد انہیں مل جائے، حالانکہ وہ وزیراعظم تھے، چاہتے تو کیا کچھ نہیں کرسکتے تھے مگر واہ رے ظرف…! شہید ملت نے بے سر و سامانی کے عالم میں پاکستان آکر انتہائی دیانتداری اور بے غرضی کی کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا جسے ایوب خان نے چوہدری خلیق الزماں جیسے خوشامدی سیاسی اُستاد کے مشورے پر اسلام آباد منتقل کرایا تھا۔ 1960ء میں نئے دارالحکومت کا قیام ایسی جگہ عمل میں لایا گیا تھا جس سے چار میل کے فاصلے پر ان کا گاؤں رحانہ واقع ہے جو ضلع ہزارہ کا حصہ ہے۔ بہر نوع!… لیاقت علی کے زمانے میں کراچی میں جتنی مرتبہ بھی بارش ہوئی وہ بغیر کسی پروٹوکول کے اپنی کابینہ کے چند وزراء یا احباب کے ہمراہ بارش زدہ علاقوں کا دورہ کرتے، متاثرین کے کھانے پینے کا بندوبست کرتے اور انہیں محفوظ جگہوں پر منتقل کراتے تھے۔ ایک مرتبہ بارش کے دوران ان کی رہائش گاہ کی چھت ٹپک ٹپک کر انتہائی بوسیدہ محسوس کرکے ان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ان سے گزارش کی کہ چھت کی مرمت کا بندوبست کرائیں تو انہوں نے بڑی دلسوزی کے ساتھ نصف بہتر کی خواہش یہ کہہ کر رد کردی کہ بیگم صاحبہ! آپ کو اپنی چھت کے ٹپکنے پر جو پریشانی محسوس ہورہی ہے وہ بے شمار مہاجرین کی پریشانی کا ایک فیصد بھی ہوتی تو میں بخوشی یہ کام کراتا لیکن پہلے مجھے ان بے خانماںا فراد کی فکر لاحق ہے جب تک ان کی تکالیف دور نہیں ہوجاتیں، میں آپ کی بات ماننے سے معذرت خواہ ہوں۔ جی ہاں یہ درد مند رہنما جب اپنی مثالی حب الوطنی کے باعث اپنوں ہی کے ہاتھوں شہید ہوئے تو ان کی شیروانی کے اندر قمیض میں تین پیوند لگے ہوئے تھے، جیب میں سات روپے کی رقم تھی اور بینک اکاؤنٹ میں صرف 57 روپے تھے۔ ناصرف یہ بلکہ انہوں نے، ان کی اہلیہ نے یا اولاد نے ناجائز دولت نہیں کمائی، بلکہ بڑا دلچسپ اور افسوسناک واقعہ یہ ہے کہ جونیجو دورِ حکومت (1985ء تا 1988ئ) میں اسمبلی میں ان کی اہلیہ کے لئے مبلغ پانچ ہزار روپے ماہانہ پنشن کی قرداد زیر بحث تھی تو مرحوم پیر پگاڑہ کے برادرِ نسبتی (مطلقہ مسز پیر پگاڑہ کے بھائی) ایم حمزہ نے اس کی شد و مد سے مخالفت کی تھی۔

لیاقت علی خان کی بات ہوئی تو تحریک پاکستان کے ایک اور ممتاز رہنما نواب اسماعیل خان کا بھی ذکر ہوجائے جو معروف شاعر نواب مصطفی خان شیفتہ کے پوتے تھے، میرٹھ ان کا آبائی شہر ہے، مصطفی خان شیفتہ کے بیٹے اور نواب اسماعیل خان کے والد نواب صادق علی خان کے نام سے موسوم عمارت ''صادق کسیل'' آج بھی بھارت کے شہر میرٹھ میں اپنی آب و تاب کے روپ میں شیفتہ خاندان کی عظمتِ رفتہ کی بہاریں لٹا رہی ہے۔ والد کے بعد مسلم لیگ کے خاذن کا منصب بیٹے نواب اسماعیل کو سونپا گیا تو ان کی ملکیت میں 94 گاؤں تھے جو تحریک آزادی کی نذر چڑھتے چڑھتے صرف 19 رہ گئے تھے۔ نواب صاحب کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا لیکن جب بانی پاکستان 7 اگست 1947ء کو پاکستان آگئے تو نواب اسماعیل اور مولانا حسرت موہانی مرحومین نے ہندوستان میں رہ کر مسلمانوں کی حفاظت کو مقدم جانا اور حتی المقدور مسلمانوں کی مدد کی۔ مولانا حسرت موہانی وہ عظیم مسلمان لیڈر تھے جنہوں نے 1919ء میں منعقدہ کمیونسٹ پارٹی کی کانفرنس میں سب سے پہلے آزادی کا نعرہ لگایا تھا۔ جوہر برادران نے بھی 1919ء میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تھا، حسرت اور محمد علی جوہر صحافی بھی تھے کئی بار جیل گئے، ضمانتیں ضبط کرائیں لیکن کبھی کسی سے مالی مدد مانگی نہ چندہ جمع کیا اور نہ ہی حرام مال کمانے کے لئے جعل سازی کی، چلئے یہ تو تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی باتیں تھیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن بھٹو حکومت کے وزیر خزانہ تھے، ملک معراج خالد پنجاب کے وزیراعلیٰ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نگراں وزیراعظم رہے، ان عظیم لوگوں نے بھی بے غرضی کے ساتھ سیاست کی اور حکومت بھی کی، تاریخ میں سردار عبدالرب نشتر مرحوم جیسے عظیم رہنماؤں کا بھی ذکر ملتا ہے جو خاندانی رئیس اور جاگیردار ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو سائیکلوں یا ماہانہ کرائے پر دستیاب گاڑیوں کے ذریعے اسکول آمد و رفت کا پابند رکھتے تھے، مگر یہ کیسا مہیب دور ہے کہ اسحاق ڈار جو عدالتی احکامات کی دستاویزات کو پکوڑے فروخت کرنے والے کاغذات (ردّی پیپر) قرار دیتے ہیں اربوں روپے کا ہیر پھیر کرنے کے باوجود بھی شرمندہ نہیں۔ اچھے گھرانے کے چشم و چراغ کبھی ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔ جن عظیم لوگوں کا قدرے تفصیل سے ذکر ہوا ان کا شعبہ بھی مالیات یا خزانے کا تھا اور اسحاق ڈار بھی خزانے کے وزیر ہیں۔ میاں صاحب بھی حادثاتی طور پر سیاست میں آئے تو پہلی بار پنجاب کے وزیر خزانہ بنے تھے۔ ان لوگوں نے سیاست کو کروڑ پتی بیوپار سمجھ کر جو ایک طویل درانیے کا کھیل ہے اپنی سیاست کو کھرب پتی بیوپار کا نام دے دیا ہے ان سے بہتر تو اکبر اعظم کا ان پڑھ وزیر خزانہ مہاراجہ ٹوڈرمل تھا جو بے ایمان نہیں تھا۔ کاش… غیرت زندہ رہے۔ آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved