منی بجٹ اورغریب عوام
  21  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

انتہائی متنازعہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قوم کو مزید پریشانیوں اور اذیتوں سے دوچار کرنے کی غرض سے ایک منی بجٹ پیش کردیاہے، یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کام ہوا ہے کیونکہ اس منی بجٹ کے ذریعہ مہنگائی میںغیر معمولی اضافہ ہوگا، جبکہ غریب عوام جنکی تعداد 15کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے، ان کی قوت خرید (جو پہلے ہی بہت خراب تھی)اب مزید خراب وخستہ ہوجائیگی، اس صورتحال کے پیش نظر ان کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا، دوسری طرف امیر لوگوں کے لئے اس منی بجٹ کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی اکثریت رشوت اور بدعنوانیوں کے ذریعہ زندگی بسر کررہی ہے، نیز ان کے ارباب حل وعقدسے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں اس لئے وہ بہ آسانی اپنے لئے مزید سہولتیں پیدا کرلیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران امیروغریب کے درمیان فاصلہ بڑھ چکاہے، یعنی غریب ہر گذرتے دن کیساتھ مزید غریب وبدحال ہوتا جارہاہے، جبکہ امیر مزید امیر ہوکر عوام کے وسائل پر قبضہ کررہاہے، یہ صورتحال پاکستان جیسے غریب و ترقی پذیر ملک کے لئے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس منی بجٹ کے ذریعہ 10فیصد سے لے کر 80فیصد تک مختلف اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جس میں مختلف ممالک سے درآمد کی جانے والی کاریں بھی شامل ہیں، جہاں تک کاروں پر مزید اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا مسئلہ ہے تو یہ بالکل جائز ہے، کیونکہ کاروں کا استعمال یا تو سرکاری افسران اور وزراکرتے ہیں، جبکہ غریب عوام نئی کار خرید نے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں، جن اشیا پر سامان تعیش کہہ کر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، یہ ساری اشیا اب مڈل کلاس کی ضرورت بن چکی ہیں، مثلاً موبائل فون، پنکھے، فرج، پھل، سپاری وغیرہ جہاں تک کاروں کا تعلق ہے تو اس متعلق میںپہلے ہی لکھ چکاہوں کہ ان پر اضافی ڈیوٹی لگانا درست ہے، تاہم جب تک ہمارے ملک میں ایک اچھاپبلک ٹرانسپورٹ نظام تشکیل نہیں دیا جائے گا، اسوقت تک مختلف قسم کی کاروں کا سڑکوں پر راج رہے گا، کار خرید نے والوں کی اکثریت اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کا بہترین ذریعہ سمجھتی ہے، چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر متنازعہ اور کرپٹ وزیرخزانہ نے یہ منی بجٹ کا تحفہ عوام کو کیوں دیا ہے ؟جبکہ معیشت کا برا حال ہے باخبر ذرائع کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ نواز شریف کے ایما پر ہورہاہے، جو اپنی ''نا اہلی'' کا بدلہ قوم سے منی بجٹ کی صورت میں لے رہاہے، صنعتی شعبے کی پیداوار گررہی ہے، یہی صورتحال زرعی شعبے کی ہے، برآمدات میں کمی اس بات کو ظاہر کررہی ہے کہ ہم اس خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں، حالانکہ معیشت کی ترقی سے پوری دنیا واقف ہے کہ برآمدات ہی وہ شعبہ ہے جسکی ترقی اور قوت سے دنیا کے تمام ملکوں نے بے مثال ترقی کی ہے جس میںامریکہ اور چین سرفہرست ہیں، دوسری طرف ہمارا وزیر خزانہ ڈوبتی ہوئی معیشت کو مزید ڈبونے کے لئے منی بجٹ پیش کررہاہے، اس کا مقصد ماسوائے اور کچھ نہیں ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور افلاس کی وجہ سے انارکی پیدا ہوجائے، عوام ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجائیں اور ملک کا نظم ونسق تباہ و برباد ہوجائے،

اس ضمن میں ایک گہری تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس منی بجٹ کو قومی اسمبلی کے ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہے، اور نہ ہی اسکو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے، بلکہ یہ ایک ایسے شخص نے پیش کیا ہے جسکی ناجائز دولت کے قصے روزانہ ٹی وی اور اخبارات کی زینت بن رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی اکثریت اسحاق ڈار سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے، بلکہ پوری قوم یک زبان ہوکر نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کررہی ہے کہ اسکو فی الفور کابینہ سے نکالا جائے لیکن یہ'' اکائونٹیٹ'' ابھی تک اپنی کرسی پر برا جمان ہے، ملک اور عوام دونوں کو اپنی ناقص معاشی پالیسوں کے ذریعہ تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، حالانکہ اس موقع پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو متحد اور یکجا ہوکر اس منی بجٹ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اسکو واپس لینے کا مطالبہ کرنا چاہئے، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہاہے، بلکہ ایسا نظر آرہا ہے کہ قومی اسمبلی میں خورشید شاہ کی صورت میں خزب اختلاف اندرون خانہ حکومت سے ملی ہوئی ہے، بلکہ مسلم لیگ ن کے ہمارے بہت سے دوست یہ بتاتے ہیں کہ خورشید شاہ دراصل نواز شریف ہی کا آدمی ہے جس نے ان سے بہت زیادہ فوائد اور مراعات حاصل کررکھے ہیں، اس صورت میں بھلا کیوں کر حقیقی حزب اختلاف کا رول ادا کرسکتے ہیں؟ بہر حال میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس ناجائز منی بجٹ کے بعد ملک کی معیشت میں کسی قسم کی ترقی ہوسکے گی؟ مہنگائی اور بے روزگاری کی جڑواں لعنت ملک کو مزید غیر مستحکم کرنے کا باعث بن سکتی ہے، بلکہ بن رہی ہے، نوازشریف اور ان کا ٹولہ یہی چاہتاہے کہ ملک میں افراتفری پیدا ہوسکے تاکہ عوام کی توجہ ان کی ناجائز دولت اور ناجائز اثاثوں سے ہٹ کر مسائل امروز کی طرف مرتکز ہوجائے، تاہم یہ حکمت عملی زیادہ عرصہ کے لئے موثر ثابت نہیں ہوسکے گی، عوام اور سول سوسائٹی کے دبائو کی وجہ سے انہیں اس منی بجٹ کو واپس لینا پڑیگا، اور اسکے ساتھ ہی اسحاق ڈار کا استعفیٰ بھی جو ملک کی معیشت چلانے کا اہل نہیں ہے، اور نہ ہی اس نے ماضی میں معیشت کی ترقی کے ضمن میں کوئی نمایاں کام انجام دیا ہے، اسکو وزارت خزانہ کا عہدہ نواز شریف کی وجہ سے ملتا ہے جو اسکے قریبی رشتہ دار ہیں اور جو خود بھی نا جائز دولت کمانے اور اثاثوں کے مالک ہیں، کرپشن کرنے کا بادشاہ ہیں، پاکستان میںجو تھوڑی بہت معاشی ترقی ہوئی ہے، اس میں چین کی مدد شامل رہی ہے، جس کا کثیر سرمایہ تقریباً 58بلین ڈالر سی پیک میں لگاہواہے، ورنہ پاکستان کے سرمایہ دار مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ صنعتوں کو مہنگی بجلی دینے کی صورت میں نہ تو مقامی صنعتیں پیداوار بڑھا سکتی ہیں اور نہ ہی برآمدات میں اضافہ ہوسکتاہے، نیز لوڈ شیڈنگ اب بھی جاری ہے کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ روز مرہ کا معمول بن چکی ہے، یہی صورتحال اندورن سندھ کو بھی درپیش ہے، جہاں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، حکومت کا یہ دعویٰ کہ ہم نے لوڈشیڈنگ کو ختم کردیاہے، ایک سفید جھوٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ نواز شریف نے گذشتہ چارسالوں میں جن مختلف ممالک کا دورہ کیا تھا، کیا ان ممالک سے کسی قسم کی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی ہے؟ یقینا نہیں کیونکہ فالواپ ہی نہیں کیا جاتاہے، یہ محض سیروتفریح اور اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے دورے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک آہستہ آہستہ معاشی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہاہے، ذرا سوچئے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved