چیف جسٹس کا انتباہ
  21  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عدلیہ کے خلاف نازیبا مہم چلانے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ مگر اس سے پہلے میں بظاہر ایک عام سی دکھائی دینے والی مگر نہائت توجہ طلب خبر کا ذکر کرناچاہتا ہوں۔ پنجاب کے لائیو سٹاک محکمہ نے ایک اشتہار میں دکھ کااظہار اور انتباہ کیا ہے کہ بعض انسانیت فروش لوگ جانوروں کو خوراک کے طورپر کھلائی جانے والی بنولہ کی کھل( کھلی) میں گلی سڑی روئی، چونا، لکڑی کا برادہ، پھک اور زہریلے رنگ ملا رہے ہیں۔ ان کے استعمال سے ہزاروں مویشی پیٹ کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ان مویشیوں کا گوشت اور دودھ بھی عام انسانوں کے لیے نہایت مضر ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی جگہ اس قسم کی کھل دیکھیں تو محکمہ کو 08000-92نمبر پر اطلاع دی جائے۔ کل ہی اس کالم میں خبرچھپی تھی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور میں باہر سے آنے والا 21ہزار کلو دودھ ضائع کردیا جس میں یوریا کھاد،چونااور دوسرے زہریلے کیمیکلز ملے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے مردہ جانوروں کی انتڑیوں سے گھی بنائے جانے کی خبریں چھپ چکی ہیں۔ ٹماٹروں کی جعلی کیچپ عام بک رہی ہے! بناسپتی گھی زہریلاہونے کے باعث اس کی پیداوار بند کرنے کے احکام جاری ہو چکے ہیں!ایک تازہ خبر کے مطابق ہزاروں کلو جعلی مربّا پکڑاگیا ہے۔ کس کس بات کا ذکر کیاجائے! سیاسی پارٹیوں کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے ، مگر یہ انسانیت دشمن کاروبار تو سیاسی پارٹیاں نہیں، لوگ خود ہی کررہے ہیں۔ استغفراللہ! پنجاب میں ایک بار32 ہزار این جی اوز کی فہرستیں سامنے آئی تھیں۔ ان میں صرف لاہور میں14ہزار موجود تھیں۔ ان میں سے بیشترکو باہر سے فنڈ زآتے تھے، اب بھی آرہے ہیں۔ مگر یہ این جی اوز، انسانی حقوق کا کمیشن، بار ایسوسی ایشنوں کی انسانی حقوق کی کمیٹیاں، تمام بلدیاتی ادارے اور مذہبی وسیاسی پارٹیاں کہاں ہیں؟ کیاکررہی ہیں؟ قوم زہر کھارہی ہے۔ جانوروں کو کھلم کھلا زہر دیاجارہاہے اور تماشا دیکھا جا رہا ہے! ٭جناب چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتباہ کیا ہے کہ ''عدلیہ کے بارے میں ناروا باتیں تیز ہورہی ہیں ، یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں ،عدلیہ نے اب تک نہائت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے''۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ'' مجھے پیغام آتے رہتے ہیں کہ آپ کا وقار داؤ پر لگا ہواہے،آپ ایکشن کیوں نہیں لیتے، میں جذباتی نہیں اس لیے حوصلہ اور تحمل سے کام لیا جاتا ہے مگر ایسی باتیں کرنے والے ہوش کے ناخن لیں''۔ چیف جسٹس کا یہ انتباہ دیر سے آیا ہے پھر بھی مناسب ہے۔ عدالتوںمیں کسی کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو وہ برہم ہوکر ہوش و حواس سے عاری ہو جاتا ہے۔ عدالتی احکام کو تمسخرانہ انداز میں ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔ اس وقت طاہر القادری، عمران خاں، نوازشریف، حسین نواز، حسن نواز وغیرہ کو عدالتیں پیشیوں کے لیے طلب کررہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پروا نہیں کرتا۔ دوسری طرف شریف خاندان کے افراد اور ان کے بچہ جمورا قسم کے دستر خوانیوں نے عدالتوں کے بارے میںبد زبانی کی انتہا کردی ہے۔ صرف ایک دن '20اکتوبر' کے اخبارات دیکھ لیں۔ نوازشریف اور مریم نواز نے عدالتوں کے بارے میں کیا زبان استعمال کی ہے۔ اخبارات میں نمایاں خبریں چھپیں کہ مریم نواز اپنے چچا شہباز شریف کے گھر گئیں۔ انہیں شہبازشریف اور حمزہ شہبازنے دیر تک سمجھایا کہ سیاست کرنی ہے تو اداروں ( فوج سمیت) کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کیاجائے۔ مگراس دعظ تلقین کا یہ اثر ہوا ہے کہ مریم نواز نے سپریم کورٹ سمیت دوسری عدالتوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ سخت زبان شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت میں غیر حاضر میاں نوازشریف کا بیان بھی آگیا ہے کہ عدالتیں انصاف کا قتل کررہی ہیں! اس طرزعمل کو روکنے میں ناکام ہو کر چودھری نثارعلی پارٹی کی عملی سیاست سے کنارہ کش ہوچکے ہیں۔ اب صوبائی یک جہتی کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے بھی کھلی بغاوت کااعلان کردیاہے۔ مسلم لیگ ن میں نوازشریف کی قیادت کے خلاف فارورڈ گروپ کے قیام اور اجلاسوں کی خبریں بھی شرع ہوگئی ہیں اور واضح نقشہ دکھائی دے رہاہے کہ کسی قسم کی مفاہمت کی بجائے شریف خاندان کا ایک حصہ سڑکوں پر عدالتوں کے خلاف جلسے جلوسوں کے ذریعے کھلی محاذ آرائی پراتر آیا ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ عدلیہ کی اعلیٰ قیاد ت اس صورت حال سے کیسے نمٹے گی! خدا خیر کرے! ٭سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے ایک ترمیم منظور کی ہے کہ آئندہ پارلیمنٹ یا کسی اسمبلی میں کسی سیاسی پارٹی کاکوئی رکن اپنے ضمیر کے مطابق اپنی پارٹی کی کسی پالیسی سے اختلاف کااظہار کرے تو اسے پارٹی سے نکال دیئے جانے کے بارے میں پارٹی کے سربراہ کاموجودہ اختیار ختم کردیا جائے۔ میں اس ترمیم سے بالکل متفق ہوں۔ ہماری جمہوریت کا تصور مغرب سے آیا ہے۔ مغرب میں اپنے ضمیر کے مطابق بات کرنے کو قابل تعریف اظہار سمجھا جاتا ہے۔ مجھے امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں وہاں کے سینیٹ کا اجلاس دیکھنے کا موقع ملا ۔(امریکہ میں ریاستی سینیٹر صرف دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں) ۔ ایک سینیٹر نے اپنی پارٹی کے ایک مجوز ہ قانونی اقدام کی سخت مخالفت کردی۔ میرا خیال تھا کہ اس کی پارٹی اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ مگر اگلے روز نہ صرف اخباری تجزیوں میں اس کی اپنے ضمیر کے مطابق صاف گوئی کی تعریف کی گئی تھی بلکہ خود اس کی پارٹی کے سربراہ کا خیر مقدم کا بیان بھی چھپا ہوا تھا کہ اس سینیٹر کی تجاویز پر نئے سرے سے غور کیاجائے گا۔موجودہ صورت حال خاصی مضحکہ خیز ہے کہ حکومتی پارٹی ن لیگ کے سربراہ میاں نوازشریف کواسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قراردیاجا چکا ہے مگر اپنی مرضی اوراپنے احکام کے پیروی نہ کرنے والے اہل ارکان کو اسمبلی سے خارج کراسکتے ہیں! یہ بات بہت اہم ہے کہ سینٹ کی کمیٹی کے اجلاس میں خود مسلم لیگ ن کے ارکان نے اس ترمیم کی مکمل تائید کی ہے۔ ن لیگ کی حمائت کے معنی ہیں کہ یہ تجویز اسمبلی میں بھی منظورہو جائے گی! پارٹی کے سربراہ کے لیے ایک اور صدمہ! ٭ چند نمایاں ناموں کی باتیں بلاتبصرہ! '' عمران خاں بے شرم ہیں'' مریم نواز… ''آصف زرداری چہرے سے ہی ڈاکو لگتے ہیں'' عمران خاں… ''ن لیگ کے بد معاش اور پی ٹی آئی کا مافیا پیپلزپارٹی کا راستہ نہیں روک سکتے ''آصف زرداری… '' اشتہاری دندناتے پھررہے ہیں'' طلال چودھری…! ٭ ایک خبر:غیرملکی پھلوں وغیرہ کی درآمد پر نئی بھارتی ڈیوٹی عائد ہونے کے باعث افغانستان سے چمن آنے والے دوسوسے زیادہ ٹرک سرحد عبور نہیں کرسکے۔ کسٹم والوں کے پاس نئے ٹیکسوں کی تفصیل نہیں ہے۔ دوسری طرف افغان ٹرانسپورٹرزیادہ ٹیکس دینے سے انکارکررہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ دو تین دنوں تک پھل وہیں پڑے پڑے ضائع ہوجائیں گے۔ ادھرپاکستانی منڈیوں میں پاکستان کے اندر پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔ پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں پہلے ہی ناقابل برداشت تھیں، اب اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی بڑھ گئی ہے ۔ یہ سب کچھ شائد اس لیے ہورہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے مطابق ملک ترقی کررہاہے۔

٭ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کے باعث بدھ کے روز صرف سات منٹ چل سکا تھا۔ جمعرات کو صرف 22منٹ چلا اور ختم ہوگیا۔ جمعہ کے روز کالم کی تحریر کے وقت ایوان خالی پڑا تھااور اسمبلی کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ حکومتی پارٹی تو جوکچھ کررہی ہے، اپوزیشن کا یہ عالم کہ اس نے بدھ کے اجلاس کے لیے 22 سوالات کے جوابات مانگ رکھے تھے۔ اجلاس شروع ہوا اورصرف دوسوالات کے جوابات سامنے آئے تو اپوزیشن نے خود ہی کورم نہ ہونے کی نشاندہی کردی۔ اس پر اجلاس اگلے روز کے لیے ملتوی ہوگیااوراپوزیشن کے اپنے ہی 20سوالات غائب ہوگئے۔ کیا حکومت ، کیا اپوزیشن، سب کے سب ایک ہی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved