آزاد کشمیر
  23  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

24اکتوبرآزادکشمیر اور اقوام متحدہ کایوم تاسیس ہے۔65سال قبل 1947ء میں اسی دن کشمیریوں نے ڈوگرہ شاہی سے بغاوت کے بعدآزاد کرائے گئے13ہزار297مربع کلو میٹر علاقے پرپہلی انقلابی حکومت قائم کی تھی۔ عبوری حکومت نے اپنے پہلے اعلانیہ میں کہا تھا کہ یہ حکومت اس امر کا انتظام کرے گی کہ یہاں غیر جانبدار مبصرین آئیں جن کی نگرانی میں پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کو مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے ایک بیس کیمپ کا کام کرنا تھا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے حکمرانوں کی ترجیحات بدل گئیں۔وہ پورے مکان کے بجائے ایک کمرے کی ملکیت پر ترنگ میں آنے لگے، اور مدہوش ہو گئے۔آج200سے زیادہ یونین کونسلوں اور تقریباً 1700دیہات پر مشتمل آزاد ریاست میں اقتدار اور مراعات کی جنگ جاری ہے۔ بجٹ کا خسارہ پانچ ارب روپے سے بڑھ گیا ہے ۔5کروڑ سے زیادہ کی رقم اوور ڈرافٹ ہونے کے باوجودکشمیر کونسل اور واپڈا آزاد کشمیر حکومت کو ادائیگی کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔آزاد کشمیر کو کشمیر کونسل کی جانب سے ٹیکسوں کی وصول کردہ رقم کا80فی صد ملتا ہے۔ماہانہ تقریباً 40کروڑ روپے اسی مد میں آمدن ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان کے ذمہ اربوں روپے واجب الادا ہیں۔یہ وہ رقم ہے جو فیڈرل ٹیکسوں کی مد میں آبادی کی بنیاد پر آزاد کشمیر کو 3.5فی صد کے حساب سے دی جاتی ہے۔واٹر چارجزکی مد میں واپڈا کے ذمہ تقریباً 40کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔آزاد کشمیر میں موبائل ٹاورز لگانے کے سلسلے میں کشمیر کونسل نے موبائل کمپنیوں سے 40ملین ڈالر سیکورٹی فیس وصول کی ہے ۔یہ رقم کونسل کے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔اس میں سے بھی آزاد کشمیر کو ادائیگی نہیں کی گئی جو کہ 40ملین ڈالرسے تجاوز کر گئی ہے۔اس کے علاوہ ایک سال کا مارک اپ6فی صد کے حساب سے 6.1ملین ڈالر ہے۔کشمیر کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو آزاد کشمیر کے عبوری آئین کی دفعہ 21کے تحت قائم کیا گیا ہے۔چونکہ وزیر اعظم پاکستان کشمیر کونسل کے چیئر مین اور صدر آزاد کشمیر وائس چیئر مین ہوتے ہیں اس لئے کونسل کو آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان روابط اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لئے ایک پل کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کے وزراء خارجہ،داخلہ ،امور کشمیر،تعلیم اور اطلاعات و نشریات کو 14رکنی کشمیرکونسل میں رکنیت دی گئی ہے۔ کشمیر کے معاملات اور مسلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی یہ ادارہ غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔21ارب روپے کشمیر کونسل کی آمدن،منگلا ڈیم رائلٹی اور فیڈرل ٹیکسوں سے حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان حکومت 10ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دیتی ہے۔1947ء سے1950ء تک آزاد کشمیر کا بجٹ جنگلات کی آمدن کا مرہون منت تھا ۔1947ء میں وادی نیلم کے جنگلات کی آمدن 49لاکھ روپے جبکہ کل بجٹ 48لاکھ روپے تھا ۔ایک لاکھ روپے سر پلس تھے۔آزاد کشمیرکی زراعت ،جنگلات،سیاحت ،فلوری کلچر کے حوالے سے اہمیت ہے ۔بل کھاتی ندیاں،جہلم ،نیلم اور پونچھ جیسے دریا نہ صرف خطے کی حسن کو مالا مال کرتے ہیں، بلکہ یہ انمول آبی وسیلہ ہیں ۔ان پر20ہزار میگا واٹ تک پن بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ لائم سٹون کے بڑے سلسلے بھی موجود ہیں۔وادی نیلم میں روبی کے پہاڑ ہیں ان قدرتی وسائل کا استعمال کیا جائے تو یہ سرزمین سونا اگل سکتی ہے۔عوام سست اور کام چورنہ ہوں تو وہ اپنی دھرتی کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کھیت لہلہا سکتے ہیں۔پالتو جانوروں کی افزائش ،ڈیری فارمنگ،فش فارمنگ سے معیشت میں انقلاب آسکتا ہے۔لیکن قیمتی روبی اور دیگر خزانہ کی چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر آبادی کے لحاظ سے ضلع راوالپنڈی سے بھی چھوٹا ہے۔راولپنڈی کی آبادی 44لاکھ جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی 34لاکھ ہے۔اس میں سے بھی 10لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ملک ہیں۔ضلع راولپنڈی سے آزاد کشمیر کا بجٹ پانچ سو گنا زیادہ ہے۔راولپنڈی کو ایک ڈی سی او(ڈی سی) چلاتا ہے ۔آزاد کشمیر میں صدر ،وزیر اعظم،ایک محکمے پر کئی وزیر، مشیربیٹھے ہیں۔سیکریٹریوں،کمشنروں اور افسران کی فوج موجود ہے۔جو کشادہ دفتر وں اور بڑی گاڑیوں کے چکر میں رہتی ہے۔2005ء کے زلزلہ میں بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوئیں تو حکمران اور افسران ملبہ صاف کرنے کے بہانے کروڑوں روپے ہڑپ کر گئے۔ بعد ازاں تعمیر نو کے 55ارب روپے منتقل کر لئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ عام انسان کی حالت نہیں بدل سکی ہے۔زرخیز زمین دستیاب ہونے کے باوجود اناج،سبزیاں اور پھل باہر سے درآمد ہوتے ہیں۔یہ خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن آبپاشی کے زرائع موجود نہیں۔ آزاد کشمیر کا زیر کاشت رقبہ صرف 13فی صد ہے جو ایک لاکھ 71ہزار ہیکٹر بنتا ہے۔حکوت تسلیم کر رہی ہے کہ زرعی زمین کا ایک بڑا رقبہ زیر کاشت نہیں لایا گیاہے ۔راولاکوٹ اور اس کے ملحقہ دیگر علاقوں میں سفیدے کے درخت زمین کو بنجر بنا رہے ہیں۔ لیکن متعلقہ محکمہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔یہ حکمرانوں کی نا اہلی ہے کہ ایک زرخیز ترین علاقہ بنجر بن چکا ہے ۔یہاں ہر گھر سے سیاستدان نمودار ہوتاہے۔ہر علاقہ سیاسی اکھاڑہ ہے۔ سیاست ایک مشن اور عبادت ہے کیوں کہ اس میں خدمت خلق کا جذبہ پنہاں ہوتا ہے۔آج کی سیاست تجارت بن چکی ہے جو اپنی زات اور مفاد کے لئے کی جاتی ہے۔قوم کے وسیع تر مفاد کے نام پرمفاد پرست ٹولے کو مفادات اور مراعات پہنچائی جاتی ہیں۔ المناک بات یہ ہے کہ پارٹی فنڈز کے نام پر ٹکٹ خریدے جاتے ہیں ۔اقتدار پر قابض ہو کر وزیر مشیر بن جائیں تو سرمایہ کاری کا ہزار گنا منافع کماتے ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والوں کوبھی سب سے پہلے اپنی جان عزیز تھی۔جو قوم کو لہو لہو کرگئے وہ بیرون ملک عیاشی کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیرحکومت کی حیثیت مسئلہ کشمیر کے حل تک عبوری ہے۔اس کا آئین بھی عبوری ہے۔ اس کا اصلی کام پورے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔توقع ہے کہ حکمران عوام کے خلوص کا جواب خلوص سے دیں گے، اقتدار اور اختیار کی جنگ کے ببجائے آزادی کی جنگ کی جانب توجہ دیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved