پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کا رکن!
  23  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہوگیاہے، اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر پاکستان کو کامیاب کیا ہے، یہ پاکستان کی بہت بڑی فتح وکامرانی ہے ، کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے خصوصیت کے ساتھ 2016-15اور 2017کے درمیان پاکستان دشمن طاقتوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان دشمن ’’تحریک‘‘ میں سابق سفیر امریکہ حسین حقانی، ایم کیو ایم لندن کے الطاف اور بلوچستان کے چند بھٹکے ہوئے عناصر جو بھارت ، اسرائیل اور امریکہ کی مالی وسفارتی مدد سے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ بلوچستان کے عوام کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہاہے، انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہاہے، اس قسم کا بیانیہ بھارت کی بد نام زمانہ ایجنسی ’’را‘‘ کے بھی ذریعہ ان عناصر تک پہچتی ہے جو بعد میں میڈیا کے سامنے ایسے ہی الفاط استعمال کرکے دنیا کو دھوکہ دینے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ بھارت بغیر کسی وجہ کے بلوچستان کا مسئلہ کھڑا کرکے پوری دنیا کے سامنے ذلیل وخوار ہورہاہے، وہ بلوچستان کا مسئلہ کھڑا کرکے دراصل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو چھپانا چاہتاہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج مقبوضہ کشمیر میں کسطرح نہتے مسلمان کشمیریوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑ رہی ہے، آئے دن نہتے کشمیریوں کو قتل کیا جارہاہے، خود بھارت کے اندر آزاد خیال لوگ بھارت کی کشمیر پالیسی کی سخت مخالفت کررہے ہیں، اور اپنے مضامین میں بھارتی قابض فوج کے ظلم کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فی الفور کشمیر سے متعلق پاکستان سے مذاکرات کرے، ان مجوزہ مذاکرات میں مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کرے جو بھارت اور پاکستان کے ساتھ اس مسئلہ کے حقیقی فریق ہیں، یہی کشمیری بھارت کے ظلم وتشدد کو برداشت کررہے ہیں، اور اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، ان ہی کی قربانیوں کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے ، پاکستان اس ضمن میں ان کی اخلاقی ، سیاسی وسفارتی مدد کررہاہے، اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، جب تک کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتاہے،پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے، دوسری طرف بھارت بلوچستان کے چند بگڑے ہوئے عناصر کو بلوچستان کو ’’آزاد‘‘ کرانے کی ترغیب دے رہاہے، حالانکہ بلوچستان Disputed Territoryنہیں ہے ، بلکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ رہے گا، ان بھٹکے ہوئے اور بگڑے ہوئے بلوچیوں کو بھارت کی جانب سے مسلسل سیاسی اور مالی امداد مل رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے باشعور اور با اثر افراد ان عناصر کو مسترد کرچکے ہیں، محب وطن بلوچیوں کو اس بات کا ادراک و احساس ہے کہ انہیں جس قسم کی آزادی اور معاشی سہولتیں پاکستان میں میسر ہیں اسکا کسی دوسرے ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتاہے، دوسری طرف بھارت نے حسین حقانی کی خدمات حاصل کرلی ہیں، جو خود ایک انتہائی متنازعہ اور ابن الوقت آدمی ہے، جس نے چند سکوں کے خاطر موجودہ حالات میں پاکسان دشمنی کا ثبوت دیاہے، اس نے حال ہی میں بلوچستان اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کو بد نام کرنے کے لئے سوئزر لینڈ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا، جسکے تمام اخراجات بھارت اور امریکہ نے برداشت کئے تھے، اس نام نہاد کانفرنس میں کسی قسم کی منطقی باتیں نہیں کی گئیں بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ بلوچستان کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے، حالانکہ ان باتوں میں کوئی وزن نہیں ہے، اور نہ ہی بلوچستان کے عوام اس تاثر کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں،ماسوائے چند ایجنٹوں کے! عالمی ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچستان میں مقررہ وقت پر انتخابات ہوتے ہیں، منتخب نمائندے ہی صوبائی حکومت بناتے ہیں اور پاکستان کے وسائل سے عوام کی معاشی وسماجی خدمت کرتے ہیں، اسکے علاوہ پاکستان کے عسکری ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کررہے ہیں، بہترین اسکولوں کا قیام عمل میں آرہاہے، قدیم فرسودہ استحصالی نظام بھی بتدریج دم توڑ رہاہے، یہ سب کچھ وفاق پاکستان اور بلوچستان کی حکومت کی بدولت ہورہاہے، تاہم یہ بات بھی لکھنا بہت ضروری ہے کہ ماضی میں بیوروکریسی کی غلط پالیسوں کے سبب بلوچستان کو بہت نقصان پہنچا تھا، لیکن گذشتہ کئی سالوں سے اس غلطی کا ازالہ کیا جارہاہے، سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کو عالمی سطح پر ایک نئے انداز سے دیکھا جارہاہے، اور یہ محسوس کیا جارہاہے کہ آئندہ چند برسوں میں بلوچستان پاکستان کی مجموعی ترقی کا مرکز ومحور بن جائے گا، پاکستان دشمن عناصر سی پیک کے خلاف بھی مذموم پروپیگنڈا کررہے ہیں تاکہ یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکے بلکہ متنازعہ بن جائے، حلانکہ چین کی مالی اور اخلاقی مدد سے یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان کے لئے بلکہ پورے خطے کے لئے معاشی وسماجی ترقی کا باعث بنے گا، بھارت کھل کر اس منصوبے کے خلاف ہرزہ سرائی کررہاہے، جبکہ اس نے 70کروڑ ڈالر اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے اپنے ایجنٹوں میں تقسیم کئے ہیں، جس میں حسین حقانی ، الطاف حسین کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں بیٹھے ہوئے بلوچی بھی شامل ہیں، جہاں تک الطاف حسین کا تعلق ہے تو وہ ہر روز پاکستان کی حکومت اور عسکری اداروں کو برابھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں، ان کی اس پاکستان دشمنی رویے کی وجہ سے انکے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اب وہ تنہا رہ گئے ہیں ، حلانکہ اگر وہ اپنی ذہانت اور سیاسی طاقت کو پاکستان کی ترقی ، تعمیر اور عوام کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کرتے تو عوام ان کو محبوب رکھتے اور ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے،ان کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ’’مہاجرین ‘‘ کی کم از کم تین نسلیں تباہ وبرباد ہوگئی ہیں یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، چنانچہ یہ تمام عناصر جو پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے خلاف کام کررہے ہیں، انہیں پاکستان کا انسانی حقوق کارکن بننے سے بڑی تکلیف پہنچی ہے، بھارت کو سب سے زیادہ کیونکہ اس نے ہزاروں ڈالر اپنے ایجنٹوں پر تقسیم کئے تھے جن کی خواہش تھی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ممبر منتخب نہ بن پائے، لیکن ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیاہے، اکثریت نے پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا تھا، دراصل دنیا کے بیشتر ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھارت، امریکہ کی شہہ پر اس خطے میں حالات کو خراب کرنا چاہتاہے، وہ مختلف حیلے بہانے سے پاکستان کو بھارت کے تسلط میں لانا چاہتاہے، تا کہ بعد میں وہ چین کے خلاف اپنی حکمت عملی کو جامعہ پہناسکے، سی پیک کو بھی وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ ناکام بنانے کی مذموم کوشش کررہاہے، کوئٹہ اور بلوچستان کے بعض حصوں میں حالیہ جو دہشت گردی ہورہی ہے اسکا مقصد بھی یہی ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے، اسکے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے، اور بھٹکے ہوئے چند بلوچی جوان جو چند سکوں کی خاطر وطن دشمنی پر اتر آئے ہیں، استعمال ہورہے ہیں، لیکن یہ تمام عناصر کبھی بھی اپنے ناپاک اور مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، ایک دن آئے گا وہ اپنی ان حرکتوں پر پچتائیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved