گریڈوں کے بوجھ تلے دبا پنجاب
  23  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بھلے وقتوں کے پنجاب میں گریڈ بائیس کا ایک ہی اعلی افسر ہوتا تھا ،چیف سیکرٹری پنجاب ۔اس وقت انسپکٹر جنرل پولیس بھی گریڈ اکیس کا ہوتا تھا ،گریڈوں اور افسروں کی عزت،احترام اور نام ہوا کرتا تھا ۔ زیادہ پرانی بات بھی نہیں جنرل مشرف کے پولیس آرڈر کے بعد پولیس نے ہاتھ پاؤں پھیلانے شروع کیے اور پی ایس پی افسروں کی پوسٹوں کے انبار لگ گئے بلکہ ہر طرف پولیس ہی پولیس ہوگئی ۔ایک ایڈیشنل آئی جی کی بجائے ایڈیشنل آئی جیز کا میلہ لگ گیا ۔ اس وقت ڈی ایم جیز اور اب پی اے ایس مارکہ افسروں نے اس پر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بڑی تنقید کی تھی کہ ایک ایڈیشنل آئی جی کے بجائے اتنے زیادہ ایڈیشنل آئی جیز کیا کریں گے؟ اس وقت یہ تنقید ٹھیک تھی اور بیوروکریسی کے معاملات کو سمجھنے والے ہم جیسے لکھاری بھی اس پر تنقید ہی کرتے تھے ۔مگر اب منظر اور دھندلا ہو گیا ہے اور ہمارے پی اے ایس افسران نے بھی کمال بلکہ جمال کر دیا ہے ۔پنجاب جہاں ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوتا تھا اب وہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹریوں کا اتوار بازار لگ گیا ہے۔پی اے ایس والے پولیس کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور جس صوبے میں گریڈ بائیس کے ایک سول افسر یعنی چیف سیکرٹری کو ہونا چاہئے وہاں اب گریڈ بائیس کے افسروں کی لائنیں لگا دی گئی ہیں ۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ان میں سے اکثر اچھے افسران ہیں اور وہ بہتر کام کر رہے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جو اس صوبے میں گریڈ سترہ میں آ جائے وہ گریڈ بائیس میں بھی یہاں سے جانا پسند نہ کرے یا اسے بھیجا ہی نہ جائے ۔چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن زاہد سعید محنتی اور دھیمے مزاج کے ایسے افسر ہیں جو سینئر افسروں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں مگر انہی کے گریڈ کے بہت زیادہ افسران صوبے میں ہوں گے تو یہ تاثر پھیلے گا کہ صوبے میں موجود گریڈ بائیس والے سارے افسران چیف سیکرٹری لگنا چاہتے ہیں اس لئے وہ یہاں ہی ٹک رہے ہیں تو ان حالات میں چیف سیکرٹری زاہد سعید کتنے دباو میں کام کر رہے ہوں گے یہ کوئی ان سے پوچھے۔میرے ذرائع بتاتے ہیں کہ وفاق ان سے بار بار یہ پوچھتا ہے کہ وہ کس کو رکھنا چاہتے ہیں اور کس کو نہیں تو وہ مروت میں کوئی واضح جواب ہی نہیں دیتے، ظاہر ہے وہ بھی اپنے باس یعنی وزیر اعلی سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پنجاب کی بیوروکریسی بہتر کام کر رہی ہے مگر دوسری طرف وزیر اعلی اپنی ہر میٹنگ میں کسی نہ کسی سیکرٹری کو ،،باعزت ،، کر دیتے ہیں اور اسے پنجاب سے دیس نکالا کے احکامات جاری کر دیتے ہیں ۔پچھلے دنوں سیکرٹری ہاؤسنگ خرم آغا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی حسین اتفاق ہوا مگر کیپٹن زاہد سعید نے اس معاملے کو بھی معافی تلافی کے ذریعے حل کر ا دیا۔مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ اتنی عزت افزائی کے بعد بھی افسران پنجاب سے جانا پسند نہیں کرتے ۔ہر دلعزیز اور اعلی بیوروکریٹ ، پنجاب میں کئی مرتبہ چیف سیکرٹری رہنے والے محمد پرویز مسعود سے ایک دفعہ میں نے پوچھا تھا ،سر پنجاب میں تعینات افسران مرکز یا دوسرے صوبوں میں جانا کیوں پسند نہیں کرتے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے پنجابی میں کہا تھا کہ گورایہ میں تینوں دساں، لاہور دے جی او آر،ایچیسن کالج تے جمخانہ کلب ایناں نوں نئیں جان دیندے۔ انہوں نے یہ بات بہت عرصہ قبل کہی تھی اب تو نہ جانے کتنے اور بہت سے عوامل بھی ہیں ۔ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری خواجہ شمائل کے وفاق میں تبادلے کو ایک مہینہ ہونے کو ہے مگر وہ ابھی تک پنجاب میں ہی ہیں ،اگر پنجاب حکومت انہیں نہیں بھجوانا چاہتی تو انکے تبادلے اور ریلییونگ کے احکامات ہی منسوخ کر دیں۔گریڈ بائیس میں ترقی کے بعد سیکرٹری مواصلات میاں مشتاق کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری انفر اسٹرکچر پنجاب لگایا جانا تھا مگر وہ گریڈ بائیس میں بھی سیکرٹری مواصلات ہی رہے۔ایک وقت تھا پنجاب میں چند وزرا ہوتے تھے اور لوگوں کو ان کے ناموں کا بھی علم ہوتا تھا اب کون کون وزیر ہے ،یہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے کیبینٹ ونگ سے بھی پوچھا جائے تو انہیں یاد نہیں ہوتا ۔اسی طرح اب پنجاب میں کون کون افسر گریڈ بائیس میں ہے اور کون کون ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہے یہ شائد سیکرٹری سروسز کو بھی یاد نہ ہو۔مجھے تو یہ یاد ہے کہ طویل عرصے بعد صوبائی سول سروس کا ایک اچھا افسر راجہ جہانگیر سیکرٹری اطلاعات لگا تھا اس نے بہت اچھا اور مثالی کام کیا ۔وہ کہاں چلا گیا ،وہ کس سیاست اور قانون کی نظر ہوا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔وزیر اعلی صاحب پلیز اسے واپس لائیں ۔ دوسری طرف اچھی بات یہ ہے کہ محرم بہت اچھے طریقے سے گزر گیا جہاں ایک طرف دہشت گردوں نے بہت سے منصوبے بنا رکھے تھے وہیں ہماری بیوروکریسی اور سول و عسکری اداروں نے اتفاق و اتحاد سے کام کرکے ملک دشمنوں کے ان عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔جہاں پہلے ان دنوں میں دہشت گردوں کے حملوں کی افسوس ناک خبریں سننے کو ملتی تھیں وہیں اب عاشورہ کے ایام میں دہشت گردی کے منصوبوں کی ناکامی اور دہشت گردوں کی موت سمیت ان کی بیخ کنی کی مثبت خبریں سننے کو ملیں۔ اس سب میں اہم ترین کردار ملک کے سول سیکیورٹی اداروں کا بھی ہے خاص طور پر پولیس نے اور دیگر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے اداروں نے بہت بہتر کام کیا ہے اس حوالے سے پنجاب میں بیوروکریسی کا کردار کافی قابل فخر رہا ہے موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب کی زیر نگرانی پنجاب پولیس نے بہت سے اہم سنگ میل عبور کیے ہیں معاملہ چاہے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا ہو یا پھر عاشور کے موقع پر امن و امان بحال رکھنے کا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ہر موقع پر پیش بندی کرکے بروقت اقدامات کیے ہیں جن کی بدولت ناصرف صوبے میں امن وامان کی فضا برقرار رہی ہے بلکہ اسی طرح عوام کوایک احساس تحفظ بھی فراہم رہا ہے۔اگر دیکھا جائے تو پورے ملک سمیت پنجاب میں خاص طور پر پنجاب پولیس نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قدر انتھک اور اپنی جان داو پر لگا کر کام کرنے والے افسران اور بیوروکریسی کے مسائل کا بھی مستقل حل تلاش کیا جائے اور صوبے میں ایک میرٹ کا نظام قائم کیا جائے جس کی وجہ سے کسی بھی قابل افسر کی دل آزاری نہ ہو ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved