دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے
  24  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہندو راشٹرکا پرچار کرنے والے طرح طرح سے مسلمانوں پر وار کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں، مقصد مسلمانوں کی زندگی فکر کرنی ہے اور ان پر یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا اس ملک کی تاریخ اور ثقافت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ غیر ملکی حملہ آور اور غدار ہیں اور اس ملک میں ان کے لیے اس وقت تک کوئی جگہ نہیں جب تک وہ اپنا تشخص مٹا کرمکمل طور پر ہندو راشٹر کی ہندوستانیت قبول نہیں کرتے۔ ایک عرصہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پریوار ۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشوا ہندو پریشد نے مسلمانوں کی تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں کو قدیم ہندو مندر اور محل قرار دینے کی مہم شروع کی تھی۔ اسی مہم کے تحت 2015میں چھ وکلاء نے آگرہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست پیش کی تھی ، جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ تاج محل ، پرانے زمانے میں شیو کامندر تھا جو تیجو مہالایہ کہلاتا تھا اس لئے اب یہ مندر ہندووں کے حوالے کیا جائے تاکہ ہندو اس میں پوجاکر سکیں۔ اس درخواست میں دعوی کیا گیا تھا کہ بارہویں صدی میں راجہ پرماردی دیو نے تیجو مہالایہ تعمیر کرایا تھا جو بعد میں تاج محل کہلایا جانے لگا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ بعد ازیں یہ محل جے پور کے راجہ مان سنگھ کو ورثہ میں ملا تھا۔ راجہ مان سنگھ کے بعد سترویں صدی میں تاج محل ، راجہ جے سنگھ کی تحویل میں تھااور 1632میں اس پر شاہ جہاں نے قبضہ کر لیا تھا۔ آگرہ ہائی کورٹ نے یہ درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی تھی اور ہوم سیکریٹری ، وزارت ثقافت اور ہندوستان کے آثا ر قدیمہ کے سروے کو نوٹس جاری کر دیے تھے۔ اس کے جواب میں وزارتِ ثقافت نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ تاج محل مقبرہ ہے مندر نہیں ہے ۔ آثار قدیمہ کے سروے نے 17اگست 2017کو آگرہ ہائی کورٹ کوبتایا کہ تاج محل ایک مسلم مقبرہ ہے اور یہ کبھی مندر نہیں رہا۔ ہندو راشٹر کے پرچارک پرشوتم نگیش اوک نے 1964میں ہندوستان کی تاریخ کو از سر نو مرتب کرنے کا ادارہ قائم کیا تھا۔ انہوں نے عجیب و غریب دعوے کر کے RSSکے کارکنوں کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ وہ ان کی بیا ن کردہ تایخ اور دعوئوں کو حقیقت سمجھنے لگے ۔ یہی پرشوتم نگیش اوک ہیں جنہوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ جزیرہ نما عرب ، ہندو ستان کے راجہ وکرما دیتا کی سلطنت کا حصہ تھا اور کعبہ ، اصل میںہندو مندر تھا۔ پرشوتم نگیش اوک نے اپنی انداز کی تاریخ کی کئی کتابیں لکھی ہیں اور ہندوستان کی تاریخ کی غلطیوں کے بارے میں اپنی کتاب میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ قطب مینار در اصل نجوم پیمائی کا مینار تھاجو وشنو دھواج کہلاتا تھا۔ ان کے مطابق دلی کا لال قلعہ در اصل ، ایک ہندو حکمران نے تعمیر کرایا تھا ۔اسی کتاب میں پرشوتم اوک نے یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ ہندوستان میں قرون وسطی کی تمام مساجد اور مقابر ہندئووں کے مندر اور محلات تھے جن پر مسلم حکمرانوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ان کا یہ دعوی ہے کہ گوالیار میں غوث محمد کا مزار ، فتح پور سیکری میں سلیم چشتی کا مقبرہ، دلی میںنظام الدین اولیا کا مزار ، اور اجمیر میں معین الدین چشتی کا مقبرہ سب ہندووں کی عمارتیں تھیں جن پر مسلم فاتحین نے قبضہ کر لیا تھا۔ در اصل ایسے ہی دعوے ایودھیا میں بابری مسجد کی مسماری کا پیش خیمہ تھے۔ بہر حال پرشوتم اوک کے ان مضحکہ خیز دعوئوں کا خود سنجیدہ ہندو تاریخ دانوں نے مذاق اڑایا ہے ۔ اس نوعیت کے مضحکہ خیز دعوئوں میں نریندر مودی نے بھی اپنے اس دعویٰ کا اضافہ کیا ہے کہ پلاسٹک سرجری قدیم ہندوستان میں ایجاد ہوئی تھی ۔ اب RSSنے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کی پرانی عمارتوں کو ہندو مندر اور محلات قرار دینے کی کوشش کا مستند تاریخ دانوں نے مذاق اڑایا ہے اور یہ کوشش کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہے تو اب پینترا بدلا ہے اور اب تاج محل اور دوسری مغل عمارتوں کو ہندو مندر اور ہندو راجائوں کے محل قرار دینے کے بجائے ان عمارتوں کو غیر ملکیوں اور غداروں کی تعمیرات قرار دیا جارہا ہے اور ان تاریخی عمارتوں کو ہندوستان کی ثقافت اور تاریخ سے یکسر خارج کرنے کی مہم شروع کی جارہی ہے۔ اترپردیش کے نئے وزیر اعلی یوگی ادتیا ناتھ کا کہنا ہے کہ تاج محل ، ہندوستان کی تہذیب کا مظہر نہیں ہے ۔پچھلے ستر سال کے دوران تاج محل کی فیس سے اربوں روپے کمانے کے بعد اب ان کا کہنا ہے کہ اسے ہندوستان کی تاریخ کاحصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوگی وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ اب تک ہندوستان کا دورہ کرنے والے غیرملکی صدور اور مہمانوں کو تاج محل اور دوسری مغل عمارتوں کے Replicasہندوستان کی ثقافت کے نشان کے طور پر دئیے جاتے تھے لیکن اب پہلی بار نریندر مودی نے اس طریقہ کو ترک کر کے ہندوستان کا دورہ کرنے والے غیر ملکی صدور کو بھگوت گیتا اوررامائین کے تحفے دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل رائو جو ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کے خلاف زہر اگلنے میں سب سے پیش پیش ہیں ، انہوں نے الزام لگایا ہے کہ مسلم حکمرانوں کے دور میں ہندوستان سخت استحصال اور بڑے پیمانے پر عدم برداشت کا شکار رہاہے۔ RSS کی طرف سے خاص طور پر اورنگ زیب کو نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اور جہانگیر اور شاہ جہاں کو بھی جن کی والدہ ہندو شہزادیاں تھیں ، غیر ملکی غدار قرار دیا جا رہاہے ۔ ان ریاستوں میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں ،ہندوستان کی تاریخ دوبارہ لکھی جارہی ہے، جن میں مغل حکمرانوں کوقاتل اور ہندو راجائوں کو بڑی جنگوںمیں فاتح قرار دیا جا رہا ہے۔ 1576 میں شہنشاہ اکبر نے میواڑ کے حکمران مہارانا پرتاپ کو ہلدی گھاٹی کی جنگ میں شکست دی تھی جس کے بعد مہارانا پرتاپ نے راہ فرار اختیار کی تھی اور ناکام چھاپہ مار جنگ شروع کی تھی ۔ راجھستان کی یونی ورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تاریخ کی نئی درسی کتاب میں یہ کہا جائے گا کہ ساڑھے چار سوسال قبل اس جنگ میں رانا پرتاپ نے اکبر کو شکست دی تھی ، مسلم حکمرانوں کی بات تو الگ رہی تاریخ کی نئی درسی کتاب میں گاندھی اور نہرو کا ذکر بھی خارج کر دیا گیا ہے ان کی جگہ RSSکے ویر ساورکر کو زبردست حب الوطن اور انقلابی قرار دیا گیا ہے۔

نریندر مودی کی قیادت میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی بر سر اقتدار آئی ہے ،مسلمانوں کو سیاست سے بڑی حد تک خارج کرنے کے بعد اب انہیں تاریخ اور ثقافت سے بھی جدا کرنے کے لئے بڑے منظم طریقہ سے مہم چلائی جارہی ہے کیونکہ RSSکا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک '' غیرملکی مسلمانوں'' سے نجات حاصل نہیں کی جاتی اور تاریخ اور ثقافت پر ان کے نشانات مٹا نہیں دئے جاتے اس وقت تک ہندوستان میں ہندو راشٹرکا قیام ممکن نہیں ہے۔ گذشتہ تین سال کے دوران جس بری طرح سے ترقی پسند اور سیکولر طاقتیں پسپا ہوئی ہیں اس کے پیش نظر ہندوستان کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved