کابل اور کشمیر ہندوستان کے نرغے میں
  26  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اگر غور کیا جائے تو ہندوستان روزِ اول سے مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اور اسی ظلم و ستم سے تنگ آ کر 1940ء میں دو قومی نظریہ کی قرارداد پیش کر کے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا مطالبہ کر دیا اور سات سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان حاصل کر لیاگیا۔لیکن اس وقت مسلمان جو برصغیر میں اقلیت میں تھے ۔دوسری طرف ہندو، سکھ، انگریز ایک طرف تھے۔تقسیم ِ ہند کے وقت پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور پھر25سال کے بعد ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں بھیج کر مسلمانوں کا بہت ہی زیادہ قتلِ عام کرانے کے بعد مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کر کے بنگلہ دیش نام کا الگ ملک بنا دیا۔ادھر کشمیر میں تو روزِ اول سے ہی مسلمانوں کا خون بہانا شروع کر دیا گیا۔ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے۔کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سروے کر کے اپنی اپنی رپورٹوں میں انکشاف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کمسن قیدیوں کے ساتھ نہ صرف امتیازی سلوک روا رکھا گیا بلکہ کم عمر قیدیوں سے متعلقہ قانون کے مطابق ان کے ساتھ عدل و انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے جاتے۔رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں اس وقت درجنوں کمسن بچے بھی قید ہیں ۔جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں ۔ان بچوں کو صرف بھارت مخالف مظاہروں کی وجہ سے گرفتار کیا جاتاہے۔انہی مظاہروں کے دوران بھارتی افواج نے کئی نہتے کشمیریوں کو شہید کیا۔ان کم سن قیدیوں کی ان قید خانوں ، عقوبت خانوں اور جیلوں میں موجودگی بذاتِ خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔کیونکہ ان کے خلاف کسی بھی جگہ کوئی مقدمہ درج نہیں ۔اسی طرح کم سن قیدی لڑکیوں کو ان قیدخانوں میں رکھنے کے مناسب انتظامات بھی نہیں ہیں ۔بالغ افراد کی جیلوں میں ان کمسن قیدیوں کی موجودگی1997ء ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور کشمیریوں کی نسل کشی کی یہ روایات کوئی نہیں بات نہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے 27برسوں کے دوران بھارت کی سات لاکھ کے قریب قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیں اور ان کے ہاتھوں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ نہتے کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔شہید ہونے والے ان کشمیریوں میں معصوم بچے، بوڑھے، نوجوان اور خواتین سبھی شامل ہیں ۔ان کے علاوہ کم و بیش پندرہ ہزار کشمیری ایسے ہیں جو اسی عرصے کے دوران لاپتہ ہو گئے اور ابھی تک ان کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں ۔زندہ بھی ہیں یا انہیں بھی شہید کر دیا گیا ہے؟ یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ بھارت کے عقوبت خانوں میں تشدد اور ماورائے عدالت قتل یا جعلی پولیس مقابلوں کی نذر ہو گئے ہیں۔بحر حال ان لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب ، بہن بھائی اور والدین اپنے پیاروں کی تلاش میں مقبوضہ کشمیر کی جیلوں اور حراستی وتفتیشی مراکز کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں ۔گزشتہ سات سالوں میں 6000کے قریب اجتماعی اور بے نام قبروں کی دریافت نے بھی انسانی حقوق کے معاملے میں ہندوستان کے ظاہری طور پر چمکتے دمکتے چہرے پر سے پردہ اٹھایا ہے۔جس کا باطن نہایت بھیانک اور تاریک ہے۔ہندوستان کی قابض افواج کے ہاتھوں کم و بیش 15000کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کے سنگین واقعات بھی ہوئے ہیں جسے ہندوستان نے جنگی ہتھیا ر کے طورپر استعمال کیا ہے۔عالمی برادری اور خاص خواتین کے لئے انسانی حقوق کی تنظیمیں اس فوری تجسس اور توجہ طلب مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کوجس ظالمانہ انداز میں برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کئے گئے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں ۔عزت و احترام اور حقوق کے اعتبار سے تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں۔ بلا امتیاز نسل، قوم ، مذہب، زبان، سیاسی نظریات ِ زندگی ، آزادی اور سلامتی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔اسی طرح کسی انسان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی کسی انسان کو بغیر وجہ بنائے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ان تمام نکات کی اس منشور میں شمولیت اور اس کی بھارتی تو ثیق کے باوجود کشمیریوں کو اپنے غلام بنانے پر تلا ہوا ہے۔کشمیریوں کی زندگی اور عزت و احترام بھارتی قابض افواج کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے۔کشمیری نوجوان کو بلاوجہ نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ عرصۂ دراز تک عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں رکھ کر ان پر انسانیت سوز ظلم اور بد ترین تشدد بھی کیا جا تا ہے۔بدقسمتی سے ان قیدیوں کا کہیں بھی اندراج نہیں کیا جاتا ۔ کم سن قیدیوں کے حقوق سیرو گردانی بھی ہندوستان کے انہی مظالم کا تسلسل ہے جو سات دہائیوں سے کشمیر یوں کی تقدیر بنے ہوئے ہیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کودنیا کے سامنے لانے کے لئے کافی ثبوت مہیا کرتے ہیں ۔کشمیریوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی اور کشمیری مزاحمتی تحریک کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کچلنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں شامل ہے جس کی طرف فی الفور توجہ دینا تصفیہ طلب مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے۔ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھی پچھلی سات دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے چار ٹر پر موجود ہے۔جس کے حل کے راستے بھی بھارت کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی ہمیشہ ہی حائل رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ ِ متحدہ انسانی حقوق کی ان ضمانتوں کو جو اس کا منشور اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو دیتا ہے کہ ہندوستان نے تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔اس کے پچیس سال بعد مشرقی پاکستان میں مداخلت کر کے اس کو پاکستان سے الگ کر لیا۔آجکل کشمیر میں اس کے مظالم عروج پر ہیں ۔شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس دن مقبوضہ کشمیریوں کی لاشیں نہ اٹھائی جاتی ہوں ۔بلکہ اب تو مقبوضہ کشمیرکے علاوہ پاکستان میں لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روزانہ پاکستان پر بمباری کر کے بچوں ،نواجوانوں اور خواتین کو شہید کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ مغربی سرحد پر بھی خاص طور پر افغانستان کے اندر بھی بھارت نے اپنے خونخوار پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔افغانستان میں باقاعدہ کیمپوں میں نابالغ بچوں کی ٹریننگ کر کے دہشت گردی کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں جتنے بھی دہشت گرد ی کے واقعات ہو رہے ہیں ان میں98فیصد وارداتوں میں بھارت کا مکمل طور پر ہاتھ ہوتا ہے۔ کشمیر میں بے تحاشہ ظلم و زیادتی کے خلاف 27اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری احتجاج کریں گے اور خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کرنے کی بھی بھر پور کوشش کی جائے گی تاکہ وہ بھارت کے خونخوار ہاتھوں اور دہشت گرد ذہنوں کو قانون کی سخت شکنجوں میں جکڑا جائے۔

کشمیریوں کے بہنے والے خون کو روکا جا سکے اور افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو بارودباندھ کر پہنچنے کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔27اکتوبر کو کشمیریوں کے احتجاج میں آواز ملانے کے لئے پاکستان میں بسنے والے کشمیری بھی احتجاج کریں گے اور اقوامِ متحدہ کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی جائے گی کہ اقوامِ متحدہ اپنے وعدوں اور قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دلوانے کے لئے مدد کرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved