بچوں کو پڑھائی جانے والی کتابیں بہت مشکل
  27  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پہلے آپ کے پیغامات۔ علی پور سے تنویر: آپ کی تحریر بہت ہی دلچسپ۔ سچائی سے بھرپور۔ راولاکوٹ سے محمود احمد: آپ اتنی بڑی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ سچ میں بچوں کی کتابیں اتنی مشکل ہیں۔ سمجھ نہیں آتی انسان خوداپنے بچوں کے سامنے شرمندہ ہوجاتا ہے۔ بچوں کو پڑھا نہیں سکتا۔ بھمبر آزاد کشمیر سے طاہر محمود: آپ نے جس موضوع پر لکھا ہے۔ دل خوشی سے باغ باغ ہوا۔ آنکھوں سے آنسو بھی نکلے۔ میں ایک گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر ہوں۔ جس طرح حقیقت آپ نے بیان کردی ایک آنے کا بھی فرق نہیں۔ کاش ہم غیروں کے چنگل سے نکل سکیں۔ بالکل پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں پر چیک ہونا چاہیے۔ کتابوں پر مزید بات کرتے رہیں۔ ایم راجہ توقیر ٹیکسلا سے: ایک اہم بات آپ نے خوبصورت انداز میں سمجھائی ہے۔ شکریہ۔ آزاد کشمیر سے امیر حسین: بہت خوب لکھا ہے۔ مانسہرہ سے محمد قیصر سواتی: کتابوں کا بچوں پر بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اسکولوں کو کتابوں کی مد میں کمیشن ملتا ہے جو قیمت زیادہ دے گا۔ اس کی کتابیں اتنی ہی تعداد میں لگیں گی۔ نور پور پاکپتن سے 18 سالہ مڈل پاس ابو حمزہ جانباز: جب نصاب غیر مادری زبان میں ہوگا۔ تو بچے کو اکثر توجہ غیر مادری زبان میں دینی پڑے گی۔ جس سے بچہ اپنی مادری زبان والا نصاب بھی نہیں سمجھ سکے گا۔ توجہ دونوں جانب بٹ کر رہ جاتی ہے۔ کراچی سے سید طارق حسین اسکولوں کی فیسوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ بہت زیادہ فیسیں۔ کتابیں بہت زیادہ مہنگی۔ اٹک سے نوید حسین: کالم کا موضوع بہت اہم ہے۔ اس پر مزید بات ہوتی رہنی چاہیے۔ زرتاش اسلم باغ آزاد کشمیر لیکچرر انگلش: آپ نے انتہائی اہم مسئلے کو چنا ہے۔ آپ نے ہمارے دل و دماغ میں یہ خیال اجاگر کیا ہے ہم اپنے بچوں کو کس طرف لے جارہے ہیں۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ چکوال سے غلام اصغر: نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔ جو کچھ بچوں کی کتابوں میں ہے۔ وہ ہماری حقیقی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔تعلیم ایک کاروبار بن گیا ہے۔ محمد نعیم (شہر نہیں لکھا): بہت اچھی تحریر۔

جاپان میں بچوں کے لیے تیسری کلاس تک فیل ہونے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ شخصی تعمیر کے لیے وہ اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔ ہر بچے کے بیگ میں ٹوتھ پیسٹ اور برش بھی تعلیم کا حصہ ہے۔ نام اور شہر نہیں لکھا۔ مگر یہ بتارہی ہیں کہ ایک الائیڈ اسکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرچکی ہوں۔ آپ نے بہت ہی زبردست موضوع پر قلم اٹھایا ہے مجھے بھی دُکھ ہوتا ہے جب دیکھتی ہوں۔ آکسفورڈ کی سوشل اسٹڈیز میں قومی ہیرو ڈانسرز اور سنگرز کو بتایا جاتا ہے۔ دل غم سے بھر جاتا ہے کہ کیا نصاب سازی ہورہی ہے۔ قومی سوچ کا نقصان ہے۔ کیا اب ہمیں گورے کلچر سکھائیں گے۔ ایک ہی کالم کے اندر آپ نے تعلیم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مختلف چیزوں کے متعلق خامہ خرسانی کی ہے۔ کاش ارباب اختیار بھی وہ وزن اپنے کندھوں پر محسوس کریں جو ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے اپنی کمر پر بھاری بستے کا محسوس کرتے ہیں۔ نظریاتی تعلیم سے نابلد نسل بلاشبہ باہر کی ہو کر رہے گی۔ ڈی ایم مالکی علائی ہزار: بہت اہم موضوع۔ کتابیں جو بچوں کو پڑھائی جارہی ہیں۔ ا ن پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ ایم سرفراز سدوزئی باغ آزاد کشمیر سے: اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی آپ نے۔ میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا۔ ہمارے ہاں معیار کا مطلب مشکل لیا جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے اسکولوں میں چوتھی اور پانچویں کی سوشل اسٹڈیز میں اکنامکس کے حوالے سے ایسا پڑھایا جاتا ہے جیسے ہم اکنامکس کی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ ایم طارق اعوان آباد آزاد کشمیر: دل کو تسلی ہوئی۔ اگر پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں تعلیم کا ایک نصاب ہوجائے تو سب سے اچھا کام ہوگا۔ باغ آزاد کشمیر سے ہی کبیر احمد اشرفی: آپ کی باتیں پڑھ کر دل کو سکون ملتا ہے۔ آپ وقت حاضر کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ آزاد کشمیر دھیرکوٹ سے ندیم مناسی: آپ کا کالم رات 11 بجے پڑھا۔ بہت اچھے انداز میں لکھا ہے۔ انگلش پڑھا پڑھا کر ہم بچوں کا مستقبل خراب کر رہے ہیں۔ اس طرح بچے کبھی بھی آپ کے وفادار نہیں ہوں گے۔ دینا جہلم سے حافظ تیمور: بہت اہم موضوع۔ اچھی باتیں۔ دیامیر گلگت سے ایم صالح: باتیں تو آپ کی ٹھیک ہیں۔ مگر ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد سے امجد محمود عباسی: کالم کی تعریف کر رہے ہیں۔ گلگت سے سجاد صاحب کہتے ہیں: سوشل ایکشن پروگرام کے ٹیچرز کی تنخواہ ابھی تک نہیں ملی۔ ڈنگا سے ناصر بھی بہت اچھا کہہ رہے ہیں۔ میں تو اللہ کا شکر ادا کررہا ہوں کہ مجھے کتنے اچھے پڑھنے والے ملے ہیں۔ جو انتہائی محبت سے پڑھتے ہیں۔ اچھے تاثرات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ دور باہمی تبادلۂ خیال کا ہے۔ میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔ ہمیں مل جل کر ایسے مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ تب ہی کچھ تبدیلی لاسکیں گے۔ آپ سب نے بہت اچھی باتیں لکھی ہیں۔ لیکن یہ زحمت نہیں کی کہ یہ بتاتے آپ نے بچوں کے ذہنوں میں جھانکنے کی کوشش کی یا نہیں۔ ٹاک شوز دیکھنے سے کچھ فرصت ملی۔ اور بچوں کے بھاری بستے میں سے کوئی کتاب نکال کر پڑھی۔ اتنی مشکل کتابیں ہیں۔ ہم اور آپ نے نہیں پڑھی ہیں۔ اس لیے آپ پھر ٹیوشن رکھنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ بھی ایک بڑا فائدے کا کاروبار ہے۔ اس پر بھی کسی وقت تفصیل سے لکھوں گا بچوں کے ذہن یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ وہ اسکولوں کے اوقات میں پڑھتے ہیں۔ پھر ٹیوشن میں کئی گھنٹے۔ انہیں ڈھنگ سے کھانے کا۔ سونے کا۔ کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ میں نے آج کے لیے موضوعات یہ چن رکھے تھے کہ اسکولوں کی ٹرانسپورٹ پر بات کروں۔ یہ بھی ایک مافیا بن چکی ہے۔ اسکول مالکان اور ٹرانسپورٹرز کا گٹھ جوڑ ہے۔ آپ کے پیغامات اتنے اہم تھے۔ اور دلچسپ۔ ملک کے مختلف حصوں سے۔ جس سے ’اوصاف‘ کی رسائی اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کالم کا زیادہ حصہ اب آپ کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ بچوں کو پڑھائی جانے والی کتابوں پر مزید لکھیں گے۔ لیکن آپ کی طرف سے بھی تفصیلات ملنی چاہئیں آپ کے بیٹے بیٹیاں۔ پوتے پوتیاں۔ نواسے نواسیاں سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہوں یا پرائیویٹ اسکول میں۔ آپ تکلیف کریں۔ ان کتابوں کو دیکھیں۔ کون پبلشر ہے۔ کون مصنف ہے۔ کیا قیمت ہے۔ بچے ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ فرصت نکالیں۔ اسکول جا کر پرنسپل سے ٹیچرز سے بات کریں وہ ان کتابوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ہم 70 اور 80 کے عشروں کے بارے میں بھی بات کریں گے جب نقل سے امتحان پاس کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس نے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کیے پھر جعلی ڈگریاں آئیں۔ اس کے بعد تین چار لاکھ میں ڈگری ملنے لگی۔ وہ جو فارسی میں کہا گیا تھا: گر ہمیں مکتب و ہمیں ملّا کار طفلال تمام خواہد شد اگر ایسے ہی اسکول رہے اور ایسے ہی ٹیچر۔ تو بچوں کا کام تمام ہوجائے گا۔ اور یہ کام تمام ہوچکا ہے ملک میں آج اگر افراتفری ہے۔ مافیاؤں کا راج ہے۔ سب صدیوں میں چھوٹے بڑے شہروں میں۔ دہشت گردی ہے۔ لوٹ مار ہے۔ بحران ختم ہی نہیں ہو پاتے تو اس کی بڑی وجہ تعلیم کا نہ ہونا۔ دوسری بڑی وجہ بے مقصد تعلیم۔ جو کاروبار بن گئی ہے۔ ہم اور آپ مل کر اس کا کچھ تدارک کرسکتے ہیں۔ اپنے اپنے شہر میں والدین کی کمیٹیاں بنائیں۔ تبادلۂ خیال کریں۔ پھر اسکول مالکان سے ملیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ میں کتابوں کے بارے میں آپ کی تفصیلات کا انتظار کروں گا۔ ایس ایم ایس کیجیے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved