کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
  28  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

27اکتوبر1947کو بھارت کی فوج بر صغیر کے آخری وائسرائے لارڈ ماونٹ بٹن کے حکم کے مطابق کشمیر میں اتر گئیں، حالانکہ اس دوران کشمیر کے آخری حاکم ہری سنگھ نے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہیں کیا تھا ، بلکہ وزیراعظم نہرو سے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ جب تک کشمیر کے عوام کی اس اہم مسئلہ پر رائے معلوم نہیں کرلی جاتی ہے الحاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہاں تک جب بھارتی فوج ہوائی جہاز کے ذریعہ سرینگر میں اتر گئیں تو مہاراجہ نے ایک بار پھر یہ کہا کہ جب تک کشمیریوں کی بھارت یا پاکستان کے ساتھ رہنے کے سلسلے میں رائے معلوم نہیں کرلی جاتی ہے اسوقت تک کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں اتارنے کا تنہا فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ اس فیصلے میں آنجہانی نہرو اور پٹیل بھی شامل تھے، حالانکہ ریڈ کلف ایوارڈ کے مطابق کشمیر کا پاکستان کے ساتھ شامل ہونا عین قانون اور تقسیم ہندکے فارمولے کے عین مطابق تھا لیکن اسکو نظر انداز کردیا گیا، دوسری طرف ضلع گرداس پور کو بھارت کے ساتھ ملا دیا گیا، حالانکہ یہاں بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی، ضلع گرداس پور کشمیر کو زمینی راستے سے ملاتاہے، اس طرح کانگریس اور لارڈ ماونٹ بٹن کی باہم سازش اورفوجی طاقت کے ذریعہ بھارت نے 27اکتوبر1947کو کشمیر پر ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کرلیا، چنانچہ قائد اعظم کی ایما پر شمالی علاقوں کے غیور قبائل نے کشمیر کو بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانے کا فیصلہ کرلیا انہوںنے معمولی ہتھیاروں کے ساتھ بھارت کی فوج کا مقابلہ کیا لیکن مکمل طورپر کشمیر کو بھارت کے تسلط سے آزاد نہیں کراسکے، لیکن ان بہادر قبائلوں کی پیش رفت جاری تھی کہ بھارت کی بزدل قیادت نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کے نتیجہ میں فائر بندی عمل میں آئی، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے جہاں جنگ بندی کو تسلیم کرادی تھی وہیں یہ بھی کہا کہ بھارت کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا پابند ہے، تاکہ کشمیریوں کی خواہشات معلوم کی جاسکیں، آیا وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ، ابتدا میں تو آنجہانیپنڈت نہرو نے کشمیر میں حق خودارادیت کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں وہ بھی اپنے وعدے سے مکر گئے آج مقبوضہ کشمیر تقسیم ہند کے فارمولے کے بر خلاف بھارت کے قبضے میں آچکاہے، جہاں بھارت کی سات لاکھ قابض فوج ننگی بربریت ، تشدد اور طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کو دبانے کی ناکام کوشش کررہی ہے لیکن ابھی تک بھارت کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے، اس ضمن میں بھارت کے بعض دانشوروں کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی زمین بھارت کے پاس لیکن دل پاکستان کے ساتھ ہیں، خود بھارت کے نیتا اس حقیقت کو تسلیم کررہے ہیں لیکن بھارت کا موجودہ انتہا پسند وزیراعظم نریندرمودی نے بھارت کی قابض فوج کو کشمیریوں کو کچلنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، حالانکہپوری دنیا بھارت کے ظلم کی مذمت کررہی ہے، جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یورپی یونین بھی شامل ہیں، نیز اب تک بھارت کی قابض فوج نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ڈیڑھ لاکھ نہتے کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاہے، بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید اتنی بڑی ہلاکتوں کے بعد کشمیر کے عوام بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے، جدوجہد آزادی سے کنارہ کش ہوجائیں گے، لیکن اسکی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی ہے، آج بھی مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی جاری ہے، جس میں صرف چھ ماہ کے اندر 200نوجوانوں ،خواتین اور بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، ان کا جذبہ حریت قابل دید اور قابل تحسین ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جاری جدوجہد کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد کررہاہے، اور کرتارہے گا،چنانچہ 27اکتوبر2017کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پوری دنیا میں جہاں جہاں کشمیری ، پاکستانی مسلمان قیام پذیرہیں وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اوربھارت کی قابض فوج کے ظلم وبربریت کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کا علم بلند کرتے رہیں گے، مظفر وانی کی شہادت نے کشمیریوں میں جدوجہد آزادی کی جو جوت جگائی ہے وہ ہر گذرتے دن کے ساتھ فروزاں ہوتی جارہی ہے، اسکی روشنی ہر سو، ہر سمت پھیل رہی ہے اورغاصبوں اور ظالموں سے اپنا بنیادی حق طلب کررہی ہے۔

27اکتوبر کے یوم سیاہ کے موقع پر پاکستان کے عوام ، دانشور اور پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنما مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اپنے قومی اتحاد اور ملی افکار کے ذریعہ پوری دنیا کو کشمیر ی عوام کے ساتھ ہونیو الی تاریخی ناانصافی اور سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے علاوہ عالمی برادری سے مطالبہ کررہے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا آئینی و قانونی حق دیا جائے، بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کراکر کشمیر کے عوام کو ان کا چھینا ہوا حق واپس کرے، مزید براں بھارت کو چاہیے کہ وہ اس اہم عالمی مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا آغاز کرے جس میں مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنمائوں کوبھی شریک کیا جائے دوسری طرف بھارت کو فی الفور مقبوضہ کشمیر سے اپنی سات لاکھ فوج کو واپس بلالینا چاہیے، ان کی درندگی سے مقبوضہ کشمیرمیں کبھی بھی حالات سنور یا سدھر نہیں سکتے ہیں، اور نہ ہی اس صورت میں بھارت کے خلاف کشمیریوں کی آزادی کی منظم تحریک ختم ہوسکتی ہے، جنوبی ایشیا کا امن ،ترقی، اور خوشحالی کا تعلق بھی براہ راست کشمیر کے مسئلہ سے وابستہ وپیوستہ ہے، اگر بھارت کا یہ خیال ہے کہ وہ مزید طاقت وتشدد کے ذریعہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو سلب کرسکتا ہے تو یہ اسکی بھول ہے، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved