بھارتی قبضے کے 71سال
  28  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

خواتین اور بچیوں کی چٹیاں کاٹنے کا بھارتی حربہ بھی کارگر ثابت نہ ہو سکا۔کشمیریوں کو خوفزدہ کر کے سرینڈر کرانے کی کوئی سازش کام نہ آ سکی۔جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ71 سال سے نہیں بلکہ4 صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے بیرونی جارحیت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ شہنشاہِ کشمیریوسف شاہ چک کے بیٹے یعقوب شاہ چک خودمختار کشمیر کے آخری حکمران تھے۔19نومبر1586ء کو جب انھوں نے مغل فوج پر گوریلا حملے کا پہلا وار کیا تو اُسے کامیاب ترین حملہ قرار دیا گیا کیونکہ اس میں متعدد مغل فوجی ہلاک ہوگئے۔ یعقوب شاہ چک نے اپنی گوریلا فوج سے کہا ''آزادی صرف ایک دن دور ہے، ہم کل تک مغلوں کو کشمیر سے مار بھگائیں گے''۔ بدقسمتی سے وہ کل224 سال گزرنے کے باوجود نمودار نہ ہوسکا۔ مغلوں نے 1586 سے1752ء تک167 سال کشمیر پر حکومت کی۔ انہوں نے کشمیر کو ''باغِ خاص'' کا خطاب دے کر700 باغات تعمیر کئے۔ پھر افغانوں نے1752ء سے1819ء تک قبضہ جمایا۔1819ء سے1846ء تک سکھا شاہی نے کشمیریوں کو روند ڈالا۔ پھر100سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کا خون بہانے کا سلسلہ جاری رکھا۔1947ء سے بھارت نے اپنی درندہ صفت افواج کی مدد سے کشمیر کو اپنی کالونی بنا دیا ہے۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ بھارتی فوجی جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔

کشمیری تحریک مزاحمت بھارت کی جانب سے خواتین کی چٹیاں کاٹ کرخوف و دہشت پھیلانے،کرفیو، پابندیوں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں سے معصوم کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے کی تحریک ہی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔ بھارت کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے: (١) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے26اکتوبر1947ء کو دستاویزِ الحاق ہند (٢) 27اکتوبر1947ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا (٣) 26اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ مائونٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداللہ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا (٤) 27اکتوبر1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔ یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور مائونٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے26اکتوبر1947ء کو دستخط کئے تھے۔26اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی 300کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران بھارت سے دستاویز الحاق کیسے ہوئی جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن 27 اکتوبر1947ء کی صبح10 بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔ یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر26اکتوبر1947ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔ مہاراجہ اور مائونٹ بیٹن کے مابین خطوط کو28اکتوبر کو بھارت نے شائع کیا لیکن الحاق کی دستاویز کو شائع نہ کیا گیا جبکہ دونوں خطوط حکومتِ ہند نے تیار کئے تھے۔ دستاویزِ الحاق کی کاپی پاکستان کو بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے1947ء کے آغاز تک اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔1948ء میں حکومت ہند نے جو وائٹ پیپر شائع کیا اس میں دستاویز الحاق کو شامل نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قبضہ جائز قرار دینے کا دعویٰ کرسکے۔ آج تک مہاراجہ کے دستخط شدہ دستاویز الحاق کا کوئی بھی اصل پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اُن تمام دستاویزات کو جوکہ جعلی ہیں کو اصل قرار دیا بھی جائے تو لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو مشروط طور پر تسلیم کرنا اور عوام کی رائے معلوم کرنے کی بات سے بھی بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے خط میں عوام سے ریفرنس کا جو تذکرہ تھا وہ رائے شماری تھا۔ دستاویز الحاق کے جعلی ہونے پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ بھارت نے ایک خودمختار ریاست پر جبری فوجی قبضہ کیا تھا کیونکہ اس ریاست کے راجہ نے کسی بھی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جن کا مقصد کشمیر کا بھارت سے الحاق ہو۔لارڈ مائونٹ بیٹن کے مہاراجہ کو خط کے تناظر میں ہی جواہر لعل نہرو نے28اکتوبر1947ء کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں لارڈ مائونٹ بیٹن کے الفاظ کو دہرایا گیا اور اس پالیسی پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔اس پالیسی نے بھی دستاویز الحاق کی نفی کردی کہ اگر عوام نے الحاقِ پاکستان کا فیصلہ کیا یا خودمختاری جاری رکھنے کے حق میں رائے دی تو پھر دستاویز الحاق کی اہمیت بھی ردّی کے کاغذ جیسی ہی ہوگی۔ یہ رائے شماری کانگریس کی حکومت کے انتظام میں صوبہ سرحد میں کی گئی جبکہ غیر مسلم اکثریتی صوبے آسام کے مسلم اکثریتی ضلع سلہٹ میں بھی رائے شماری کرالی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جب کشمیر کے بالکل برعکس جونا گڑھ کی ہندو اکثریت کے مسلمان حکمران نواب نے 15اگست1947ء کو الحاق پاکستان کیا تو بھارت نے اس کی مخالفت کی۔ تو جواہر لعل نہرو نے 30ستمبر1947ء کو کہا کہ ''ہم اس مسئلے کا حل عوام کے ریفرنڈم یا رائے شماری سے چاہتے ہیں، ہم اس ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرلیں گے۔ پاکستان جونا گڑھ مسئلہ غیر جانبدارانہ ریفرنڈم سے حل کرے۔'' اسی طرح جونا گڑھ میں فروری 1948ء کو ریفرنڈم ہوا۔ ووٹ بھارت کے الحاق کو ملا۔ کشمیر میں بھارتی پالیسی کے تحت ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔ دستاویز الحاق کا سہارا لینے سے قبل نہرو نے 25اکتوبر1947ء کو وزیر اعظم برطانیہ کو لکھا کہ کشمیر کے الحاق کا مسئلہ عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہئے۔8نومبر1947ء کو بھارت کی جانب سے وی پی مینن اور پاکستان کے چوہدری محمد علی نے ریفرنڈم کی تفصیلی سکیم پیش کی جس کی بھارتی نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل نے سرپرستی کی تھی۔ اس میں یہ اصول سامنے لایا گیا کہ حکومت پاکستان اور بھارت کسی بھی ریاست کا الحاق تسلیم نہیں کریں گے جس کے عوام اور حکمران کے مذاہب مختلف ہوں۔ اس اصول کے تحت مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمران کے کسی نام نہاد الحاق کو بھارت کی جانب سے تسلیم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا بلکہ اسی اصول کے تحت الحاق کا فیصلہ بھی رائے شماری سے ہونا تھا۔ بھارت اپنے اُن وعدوں سے بالکل مُکر گیا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved