میگا پروجیکٹ،میگا کرپشن۔۔!
  28  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میگا پراجیکٹ کا لفظ نواز حکومت کے دور میں پاپولر ہوا ،ویسے ہی جیسے ان کے شروع کردہ پراجیکٹس کی دھوم مچی ایسی ہی دھوم دھول میںتبدیل ہوئی اور ان پراجیکٹس میں ہونے والی بے اعتدالیاں اور بدعنوانیاں مقبول ہوئیں ،مگر وقت کے گردو غبارکے نیچے دب گئیں ،پھر اس پر مٹی کی ایسی تہہ جمی کہ سب کچھ اس میں دفن ہوگیا ،جہاں کہیں سے اس کے آثار نمایاں ہوتے انہیں آگ کی نذر کر دیا جاتا،کہ نہ ہوگابانس ،نہ بجے کی بانسری ۔ مگر دیکھنے والے بھی قیامت کی نظررکھتے ہیں ،کچھ کر دکھانا چاہیں تو تحت الثریٰ سے بھی ثبوت ڈھونڈ لاتے ہیں ،وہ جو محد ب عدسوں کے چشمے چڑھائے ہی دیکھے جاسکتے،ننگی آنکھوں سب نے دیکھااور پناہ مانگی۔سرائیکی زبان کی ضرب المثل ہے ''ککھ اوڈھر پہاڑ'' (تنکے کی اوٹ میں پہاڑ)آخر تنکے کتنے پہاڑ چھپا سکتے تھے ،تیز ہواچلی اور تنکوں کو اڑا لے گئی ،اب ننگ دھڑنگ پہاڑ ہیں اور ان کے پیچھے خود کو چھپاتے بددیانت اور خائن سیاستدان ۔ یوں قومی احتساب بیورو کے نئے نویلے چیئرمین نے خوب گرہ لگائی ''میگا کرپشن کیسز الماریوں میں بندنہیں رہیں گے''یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ،تیل اور تیل کی دھار دیکھنے میں میں وقت تو لگتا ہی ہے ،قرائن سے اندازے لگانا کچھ مشکل تو نہیں رہا مگر پھر بھی دور کی کوڑیاں لانے سے گریز ہی کیا جائے تو اچھا ہے ۔ پی آئی اے کے طیارے کی اونے پونے ہونے کی بات تو قصہء پارینہ ہوچکی ،کتنے اور سودے سُودو زیاں کی بھینٹ چڑھ چکے ۔ بڑاجھو ٹ بولنے سے چھوٹاسچ اچھا ہوتا ہے۔ چیئرمین نیب نے تین ماہ میں میگا کرپشن کے تمام مقدمات کی رپورٹ طلب کی ہے ،نوّے دن تو پانامالیکس والے واجد ضیا نے بھی نہیں لئے اوردودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دکھایا ،تین ماہ میں رپورٹ اور اس پر کارروائی ! اس وقت تک تو بہت کچھ اتھل پتھل ہو چکا ہوگا ،کہتے ہیں جس انصاف میں تاخیر ہو ،وہ انصاف ،انصاف نہیں رہتا ،انصاف کرنے والے جانیں یا قانونی موشگافیوں کا ادراک رکھنے والے۔ نیب کے اندر احتساب کو ترجیح دینا اچھی بات ہے ،مگر وقت کم ہے ،کام بہت زیادہ ،وہ جن کی نیتوں میں فتور رہا ہے،کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ،پہلے ان ہی پر ہاتھ ڈال لیا جائے ،وہی بہت کچھ اگل دینگے ،اگر ہاتھ واقعی آہنی ہو ۔ میٹرو منصوبوں کے ریکارڈ جل گئے،ان میں جو رسیاں تھیں انہیں ہی سنبھال لیا جائے تو بہت کچھ مل سکتا ہے ،رہی ملتان میٹرو ،اس میں ہونے والی بد عنوانیوں کے ثبوت بہت سارے لوگ لئے پھرتے ہیں ، مگر ڈر کے مارے زبان نہیں کھولتے کہ ''یار وگڑناں جاوے''اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ بلا ضرور ت اس کی داغ بیل ڈالی گئی ،گزشتہ سے پیوستہ اظہاریئے میں بھی بتایا تھا کہ اس کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے٠٠١ فیڈر بسوں کاجو تجربہ آزمایا گیا ہے وہ بھی محلِ نظر ہے کہ بِنا سواروں کے تیل پھونکتی پھرتی ہیں ،شہر کا سارا ٹریفک الگ درہم برہم ،کہ سڑکیں تنگ ہیں ،وہ پہلے ہی بے ہنگم ٹریفک کا بوجھ سہارنے سے قاصر تھیں ،اس امر پر توجہ دی جانی چاہیئے تھی ،سڑکیں کشادہ ہوتیں ،پھر آگے کی سوچی جاتی ،مگر اب تک کا المیہ یہ ہے کہ منصوبہ بنا کر اسے عملی شکل دے دی گئی، مگر اس بارے غورو فکر اب کیا جا رہا ہے ،کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت ! ملتان شہر کے لوگ بھی حیرت میں ہیں کہ صبح شام ترقیوں کے چرچے اور ایسی ایک ترقی یا پیش رفت بھی نہیں ،جو اہلِ خرد تو کیا عام شہریوں کی آنکھوں میں جچ پائی ہو۔

یہ تو نیب کے کام ہیں وہی دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کرے گی ،ہاں مگر نیب پر جو افتاد آن پڑی ہے اس کا کیاازالہ کہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ''نیب کا رویہ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے '' گو سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم سندھ میں غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران یہ بات کی ہے اور سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ''نیب نے ملزمان کے خلاف غیر ضروری امتیازی رویہ روا رکھا،احتساب بیورو کی وجہ سے انصاف ومیرٹ کی بنیادیں ہِل گئی ہیں''ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کے اتنے شدید تحفظات!نیب کی ذمہ داریوں کو آتشیں بنانے والی بات ہے ،اگر اتنا سر گرم ہوا تو رکاوٹیں اور بڑھ جائیں گی ، یہی رِیت رہی ہے یہاں کون کسی افسر کو پر کھولنے دیتا ہے کہ وہ اس قدر اڑان بھرے ،پر کاٹ لینے کی رسم ہی یہاں روا رہی ہے اورابھی تک اس رسم کو توڑنے والا کوئی ماں کا لعل پیدا نہیں ہوا ،ایک نسیم صادق نام کا بیوروکریٹ ایم پی اے ،ایم این اے زکے سامنے ڈٹ جانے والے افسر کی شہرت رکھتا تھا بعد از اں یہ عقدہ کشا ہوا کہ موصوف ایک خاص ٹاسک کے مطابق سب سرانجام دے رہے تھے ،حکومت کو جہاں کہیں کسی سے جاں خلاصی مطلوب ہوتی انہیں اپنے جوہر دکھانے کے مواقع فراہم کر دیئے جاتے ،ویسے بھی بندہ کام کا تھا کہ غریب پروری کی داستانیں جس شہر میں رہا ضرور چھوڑ گیا ،اسی لیئے لوگوں کی لوحِ ذہن پر آج بھی محفوظ ہے۔ جسٹس جاوید اقبال پرعزم لگتے ہیں ،میگا پراجیکٹس کی میگا کرپشن کو کو طشت از بام ہی نہیں کریں گے ملوث افرادکو بلا امتیاز کیفر کردار تک پہنچا پائیں گے تو بھلے لفظوں میں یاد رکھے جائیں گے ،آثارِتازہ سے گماں اچھا ہے آگے آگے دیکھیے،ہوتا ہے کیا ،تھک کر ہار جاتے ہیں یا اس قافلے میں نام درج کرواتے ہیں جو قتل گاہوں سے اَلم چُن کر عشاق کہلاتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved