تغیر کی پزیرائی!
  29  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

تحریک انصاف نے خیبر پختون خواہ میں اپنی قومی اسمبلی کی نشست آسانی سے جیت لی۔اس سے بجا طور پر یہ تاثر اجاگر ہوا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جواپنے سیاسی سفر کو آسان ہوتا دیکھ رہی ہے ،پشاور میں اس کی پوزیشن اول دن کی طرح موجود ہے ،اس نے اپنے سیاسی قد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی محسوس کرایا ہے ۔ تحریک انصاف کو اندرون پارٹی بہت سارے گھمبیرمسائل کا سامنا ہے ،اس کی بڑی وجہ اس کے سربراہ عمران خان کا میگا کرپشن کے خلاف شرح صدر کے ساتھ مصروف ہونا ہے ،اگر اتنا وقت وہ پارٹی امور کی دیکھ بھال میں صرف کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ تحریک انصاف کو ملک کی صف اول کی سیاسی جماعت بنانے میں کامیاب نہ ٹھہریں ۔ عمران خان کی خوش قسمتی یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ سے ملک کے پختہ کار سیاسی تبصرہ نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے خیر کے مشوروں سے مالامال رہے ہیں ،یہ الگ بات کہ انہیں عمران خان سے شکوے بھی بہت رہے ہیں کہ وہ ان کے مخلصانہ تبصروں کو پوری توجہ کا مرکز نہیں بناتے اور اپنی مجرد دانش کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ،ان کا یہ رویہ بعض اوقات ان کے فیصلوں کے راستے کی دیوار بن جاتا ہے ،عمران کو یہ پرواکم کم رہی ہے کہ ان کی پارٹی کا بنیادی ڈھانچہ نا مستحکم بلکہ بعض مقامات پر غیر معمولی طور پر لرزتا ہوا محسوس ہونے لگا ہے ،پارٹی وجود کو سنبھالنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے،مگر ایسا دکھائی نہیں دیتا اور یہ روش دیر تک رہی تو بہت ساری کامیابیاں سمیٹ کر بھی وہ کامیاب کہلانے کے استحقاق سے محروم ٹھہریں گے اور ان کی ساری تگ و دو سطحی ہوکر رہ جائے گی۔ دوسری اہم بات جس پر ان کے خیر خواہ لکھنے والے جوکہ ان کے ’’وظیفہ خوار‘‘ ہرگز نہیں ،بلکہ ایک تغیّر کی پزیرائی ان کا اصل مدّعا ہے جس کی امید کا مرکز انہوں نے عمران خان کو بنایا ہوا ہے ،مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ سیاسی قلابازیاں لینے والوں کا دائرہ عمران خان کے گرد تنگ ہوتا جارہا ہے ،عامر لیاقت جیسے یاوہ گو اور شعبدہ باز قسم کے کے لوگوں کے لئے آنکھیں بچھانا ایک مضحکہ خیز بات ہے ،اسی طرح سندھ اور پنجاب میں ایسی شخصیات کو گلے لگانا جن کی سیاسی ساکھ ختم ہو چکی اور ملکی سیاست میں ان کی ذرہ بھر گنجائش نہیں رہی ،ناقابل ستائش ہے ،انہیں اس امر سے کلی طور پر اعراض کرنا چاہئے،ان کھوٹے سکّوں سے جیبیں بھرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی ،پہلے ہی جماعت میں بھرتی کا مال بہت ہے ۔ عمران خان کو ان تعلیم یافتہ نوجوانوں پر اعتماد کرنا چاہئے جو ان کی جماعت کا اصل اثاثہ ہیں ،جن کے مضبوط کندھوں پر پی ٹی آئی کی عمارت کھڑی ہے ،جو غیر جمہوری عمل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ،جو ترقی کی راہ کے پتھر ہٹانے میں غیر متزلزل کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے سرشار ہیں ،جو روشن خیالی کے ان تصورات کے قائل ہیں جن میں مذہبی اقدار کی نفی کا کوئی بھی پہلو نہیں ،اس سلسلے میں بعض نوجوانوں کے دل و دماغ میں نظریاتی تحفظات ہیں بھی تو ان کو مٹانے کیلئے مفتی سعید احمد جیسے متحمل مزاج و متوازن رائے رکھنے والے علما ء سے استفادے کی صورت نکالی جا سکتی ہے ۔ پشاور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ قومیت اور مذہبی جنونیت کے بت بھی پاش پاش ہونے لگے ہیں ،یہ فکری انقلاب کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے ،جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن بھی اس راز کو پا چکے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ددوسرے مذاہب کے لوگوں پر اپنی جماعت کے دروازے کھول دیئے ہیں ،یہ امر بھی پتھر پر لکیر ہے کہ اب مذہب بیزار لوگ بھی اسلام کی حقیقت کا ادراک کرنے لگے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر مولانا عبیداللہ ؒ سندھی کے افکار و نظریات پر مباحث کا سلسلہ شدّومد کے ساتھ جاری وساری ہے ،اب ہمارے مذہبی سیاسی رہنماؤں کو بھی مسلکی محاذآرائی کو خیر آباد کہنا ہوگا ،مذہبی بیانئے کو جدلیاتی نقطہ نظر کے حوالے سے پرکھنا ہوگا جس کی بنیاد نبی آخرالزمان ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے وقت رکھدی تھی،عقیدتوں کے بت گرا کر عقیدوں کی رواداری کے سبق کو عام کرنا ہوگا ۔ قوم پرستی کی سیاست کے فروغ میں جُتے طبقات کو بھی تغیر کی پزیرائی کی راہ پر چلنا ضروری ہے،معیشت کے جن کو گرفت میں لانے کے لئے وسائل کی بندر بانٹ کو روکنا ہوگا ،وہ سیاستدان جنہوں نے قومی خزانے کو بیدردی سے لوٹا ان سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کو ممکن بنانا حالات کا اصل تقاضا ہے ،سزاو جزا کے در وا کرنے سے ان کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا ،ان کے اثاثوں کو نیلام کرکے بین الاقوامی قرضے چکانے کا عمل شروع کرنا ہوگا ،عدالتی بھول بھلیوں میں مالیاتی چیرہ دستیوں پر سے توجہ ہٹانے کی روش کو روکنا ہوگا ، سراغ لگانا ہوگا کہ اسحاق ڈار جیسے لوگ ارب پتی کیسے بن گئے ! ان کی باہر کے ملکوں میں پڑی دولت ملکی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرنے کی راہ ہموار کئے بغیرملکی و غیر ملکی قرضوں اور امریکہ کے ڈومور جیسے تقاضوں سے جاں خلاصی دشوار ہے ۔ قومی اداروں کو مستحکم کرنے ،ان کا اعتماد بحال کرنے جیسے اقدامات کی فوری ضرورت ہے ،سیاسی جماعتوں کے لئے ضروری ہے کہ قومی سوچ کے فروغ کو اپنے منشور میں سر فہرست رکھیں ،عام آدمی کو اس کے حقوق کی آگہی کے شعور سے آشنا کیا جائے ،ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے نصاب میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے اسے محسوس کئے بغیر پختون خواہ ،پنجاب ،سندھ ،بلوچستان اور بلتستان کہیں بھی تغیر کی پزیرائی ناممکن ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved