پورے ملک کے لیے نصاب تعلیم ایک
  29  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کبھی بچوں کے ذہنوں میں جھانکا۔ میرا یہ سوال اکثر ہم وطنوں کے دل پر جا لگا ہے۔ بہت فون آرہے ہیں۔ ایس ایم ایس بھی۔ یہ لگتا ہے کہ سب بچوں کے بستوں۔ کتابوں۔ اسکولوں۔ فیسوں سے پریشان تو تھے۔ لیکن منہ کھولنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ نہ حکمرانوں کو حقیقی مسائل کی فکر ہے۔ بلکہ وہ جان بوجھ کر ان مسائل سے ہماری اور آپ کی توجہ ہٹاتے ہیں۔ آپ کو ان معاملات میں الجھائے رکھتے ہیں۔ جو آپ کے نہیں ہیں۔ ٹی وی چینل بھی ان سے جوڑ رکھتے ہیں۔ وہ بھی روزانہ ایسے موضوعات لے کر چل پڑتے ہیں۔ جن کا عوام کی بہبود اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر مجھے گلہ آپ سے بھی ہے کہ اتنے مزے سے ٹاک شوز سنتے ہیں۔ جیسے اس کا ناغہ ہوگیا تو آپ کی زندگی نامکمل رہ جائے گی۔ آپ روزِ محشر کیا جواب دیں گے۔ نواز شریف عدالت میں کیوں حاضری نہیں دے رہے۔ بیگم کی طبیعت اتنی خراب تھی تو سعودی عرب کیوں چلے گئے۔ مریم نواز ہر پیشی پر کس کے ہوائی جہاز سے اسلام آباد آتی ہیں پھر لاہور واپس چلی جاتی ہیں۔ پی پی پی پشاور میں بھی اپنی سیٹ کیوں ہار گئی۔ آصف زرداری نے عمران اور نواز دونوں کو کھری کھری سنادیں۔ شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک تو مختلف چینلوں پر یہی بحث مباحثے تو سنتے ہی ہیں۔ صبح پارکوں میں سیر کے دوران بھی میں نے اپنے خاصے سنجیدہ پاکستانیوں کو رات کے ٹاک شوز کی جگالی کرتے دیکھا ہے۔ میرے گھر کے سامنے مسجد ہے۔ مسجد کے سامنے پارک۔ نماز فجر ادا کرکے بعض پکے نمازی پارک میں سیر کے بعد بنچوں پر بیٹھ کر ٹاک شوز کی باتیں دہرا رہے ہوتے ہیں۔ ایک بزرگ اچھا کرتے ہیں۔ وہ مذہبی سوال جواب کی کتاب لے آتے ہیں۔ اس میں سے سوال جواب پڑھنا شروع کرتے ہیں تو باقی بزرگ بھی پھر ثواب دارین میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ وہ سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اپنے صدر کا نام بھی جانتے ہوں۔ وزیراعظم کے خاندان سے واقف ہوں۔ یا وفاقی وزراء کی پہلی دوسری یا تیسری شادی کی ٹوہ میں لگے ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں دلچسپی رکھتے ہوں امریکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جمہوریت بھی ہے لیکن وہاں صرف انتخابی سال میں لوگ سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں۔ باقی 3 سال اپنے امور میں مصروف رہتے ہیں۔ جنوبی کوریا بھی ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہے چھوٹا سا ملک ہے۔ لیکن اس کی کمپنیاں دنیا بھر کے لیے ٹی وی۔ ریفریجریٹر۔ ایر کنڈیشنز اور دیگر برقی آلات تیار کررہی ہیں۔ وہاں جانا ہوا۔ بڑے سرگرم ماہرین سے صدر اور وزیروں کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں جانتے۔ نہ کوئی غرض ہے۔ نہ ضرورت پڑتی ہے۔ بعض امریکی پاکستان آتے ہیں۔ ٹیکسی یا گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ڈرائیور امریکی سیاست کے بارے میں جتنا جانتے ہیں۔ اتنا تو ہمیں بھی معلوم نہیں۔ پاکستانیوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اسلامی ملکوں کو اپنی اتنی فکر نہیں جتنی پاکستانیوں کو امّہ کے بارے میں تشویش رہتی ہے۔ انہیں کوئی اگر کہتا ہے تجھ کو پرائی کیا پڑی ۔ اپنی نبیڑ تو تو یہ اپنی آفاقیت اور جمہوریت نوازی کا ذکر لے بیٹھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس حد تک کسی معاملے کی فکر ہونی چاہیے۔ جتنی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ جو ہماری دسترس میں ہے جس کا نظم و نسق ہمارے ذمے ہے۔ وہ کیسا چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں بڑے تجربہ کار۔ فاضل منصف تشریف رکھتے ہیں۔ وہ عدل و انصاف کا جائزہ لے لیں گے۔ نیب کے چیئرمین نئے نئے آئے ہیں۔ انہیں ابھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہمارے گھر ہیں۔ ہمارے بچے ہیں۔ ہماری گلی ہے۔ ہمارا محلہ ہے۔ یہاں ہم تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یہاں ہم کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔ یہ ہمارے اختیار میں ہے۔ یہاں ہم سنجیدگی سے کچھ کر رہے ہیں یا نہیں۔ کتنا وقت ہم اپنے بچوں کو دیتے ہیں۔ ان کے اسکول کالج کے بارے میں کتنی معلومات لیتے ہیں۔ ان کے دوستوں کے سلسلے میں کیا جانتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں کیا پک رہا ہے۔ وہ کس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ کس کی بولی بول رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا تھا ہمیں اپنے آنگن میں جھانکنا چاہیے۔ وہاں کوئی ٹرمپ۔ مودی۔ نواز شریف۔ آصف زرداری۔ مولانا فضل الرحمن یا عمران خان تو نہیں پل رہے ہیں۔ وہ ان سے متاثر ہو کر ان کو اپنا آئیڈیل تو نہیں بنا رہے۔ عبداللہ فیصل آباد سے: آپ نے کالم زبردست لکھا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن اب آپ ہی بتا دیجیے کہ ہم بچوں کو کہاں داخل کروائیں۔ ان اسکولوں میں تو بچوں کا ذہن بالکل خراب ہورہا ہے۔ امین اللہ بہادر خان کہتے ہیں۔ آپ نے صحیح لکھا ہے۔ کتابیں بہت مشکل ہیں۔ میں دسویں میں پڑھتا ہوں، کاش یہ کتابیں اردو میں ہوتیں۔ میں نے نویں میں صرف 370 نمبر حاصل کیے۔ عظمیٰ شاہزادی سماہنی سے: ایک تو آپ انتظار بہت کرواتے ہیں۔ روزانہ آیا کریں۔ کیونکہ آپ ذہنوں کی بند رگیں کھولتے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ اسکول۔ نصاب ایک ہونا چاہیے۔ ہم پہلے مسلمان ہیں۔ اسلام ہمارا مذہب ہے۔ ہمیں اپنے مذہب کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ایسا نصاب ہو جو ہماری نسل کو صراط مستقیم پر لے کر چلے آسان سلیبس ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش سے بچے اگر مشکل اور غیر مذہب کا لکھا نصاب پڑھیں گے۔ رٹا لگالیں گے۔ مگر اپنی اصلیت بھول جائیں گے۔ میں تفصیل سے لکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن ایس ایم ایس میں نہیں سموسکتی۔ آپ کا شکریہ کہ آپ لازمی امور کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ نام نہیں لکھا: سدا خوش رہیں۔ آپ ہمارے تعلیمی نظام کی طرف توجہ دلا رہے ہیں آپ کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ عامر خان عباسی کہتے ہیں جو ٹیچر بچوں کی نفسیات کو سمجھے وہی بچوں کو پڑھا سکتا ہے۔ ایم ناظم گلگت سے: آپ نے ہمارے معصوم بچوں کی کمر اور دماغ سے ایک بے مقصد بوجھ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اللہ آپ کو دنیا اور آخرت میں سرخرو کرے۔ آمین۔ محمد ذکریا بنوں سے : پوری دنیا میں تعلیم مادری زبان میں دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں انگریزی میں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جو جس کا کھائے گا اس کے گن گائے گا۔ قیوم منڈیو بنوں سے: آپ نے صحیح لکھا۔ بعض بچوں کی کتابیں اتنی بھاری ہیں کہ بستے والدین لے کر جاتے ہیں۔ ہم نے 16 جماعتوں میں وہ الفاظ نہیں پڑھے۔ جو دوسری میں پڑھائے جارہے ہیں۔ چوتھی کی کتابیں ملاحظہ ہوں۔ انگلش۔ ورک بک اردو۔ ورک بک ریاضی۔ ورک بک اسلامک اسٹڈیز۔ ورک بک ناظرہ پارے۔ ورک بک پی ایس ۔ ورک بک جی ایس۔ آپ سوچ لیں 9 سال کا بچہ اتنا وزن کیسے برداشت کرے گا۔ آخر میں رنگلہ آزاد کشمیر سے راشد حسین: میں تین نسلوں سے استاد ہوں۔ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کا ہے۔ پورے ملک کا نصاب ایک ہونا چاہیے۔ ایجوکیشنل تھنک ٹینک کی اشد ضرورت ہے۔ جو پورے ملک کے لیے ایک نصاب تیار کرسکے۔ 70 سال سے ہم غیروں کی تعلیم دے رہے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ایسا نصاب درکار ہے جو ہمارے جغرافیائی اور فطری تقاضوں کے مطابق اور چاروں صوبوں کی معاشرتی اخلاقی اور سماجی ضرورتیں پوری کرسکے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ایس ایم ایس کیجیے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved