ٹیپو سلطان شہید،جشن ولادت یا یوم سیاہ؟
  31  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے ٹیپو سلطان شہید کو زبردست خراج عقیدت نے ہندو انتہا پسندوں کو سیخ پا کر دیا ہے۔جب صدر ہند نے کرناٹک کی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ٹیپو شہید کی موت کو ہیرو کی موت قرار دیا تو بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسندآپے سے باہر ہو گئے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے بعدعظیم حکمران سلطان سیدوالشریف فتح علی خان ٹیپو یا ٹیپو سلطان کے بارے میں تنازعات کھرے ہوتے رہتے ہیں کیوں کہ ہندو انتہا پسند وں کو ان کی بہادری برداشت نہیں ہو پاتی۔وہی ہیں جنھوں نے دنیا کو راکٹ ٹیکنالوجی دی۔ بھارت میں بی جے پی اور ویشنو ہندو پریشد سمیت دیگر ہندو انتہا پسندہنگامے کرتے ہیں۔تاکہ ٹیپو شہید کا یوم ولادت نہ منایا جاسکے۔ مسلم حکمران کاجشن ولادت ان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔مسلم حکمرانوں پر تہمت لگانا رواج بن رہا ہے۔جب کہ وہ روادار بھی تھے۔غیر مسلم رعایا کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ٹیپو سلطان جو انگوٹھی پہنتے تھے اس پر ہندی میں رام کند تھا۔یہ شاہی مہر کے طور بھی استعمال ہوتی تھی۔بھارت میں ان کے جشن ولادت پر ہندو انتہا پسندوں کے ہنگاموں میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ٹیپو سلطان کو شیر میسو رکہا جاتا ہے ۔ میسور بھارت کی ریاست کرناٹک میں شامل ہے۔ ٹیپو سلطان نے پوری عمر انگریزوں کے خلاف جنگ کی۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا راستہ روکنے میں مصروف رہے۔ ایک حکمران تھے۔ ساز باز یا سودا بازی کر کے آرام دہ زندگی بسر کر سکتے تھے لیکن انھوں نے ضمیر کا سودا نہ کیا۔ اپنا سکھ اور آرام آزادی کے لئے قربان کر دیا۔ 10نومبر ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت مسلمانوں، سکھوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انتہائی تعصب روا رکھے ہوئے ہے۔ متعصب انتہا پسند تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ گاندھی کے قاتلوں کو شہید قرار دے کر انہیں قومی ہیرو کے طور پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلم حکمرانوں خاص طور پر اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان سمیت دیگر حکمرانوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ٹیپو سلطان کی خدمات اور آزادی کے لئے انگریزوں کے ساتھ مسلسل جنگ تاریخ کا حصہ ہے۔ ٹیپو سلطان نے یہ جنگ صرف مسلمانوں کی آزادی یا دفاع کے لئے نہیں لڑی بلکہ ٹیپو سلطان کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے تمام مذاہب اور زات پات والوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین صرف مسلم آبادی کی آزادی کے لئے بر سرپیکار نہیں بلکہ جب آزادی ملے گی تو سب اس سے فیضیاب ہوں گے۔ ہندو انتہا پسندوں کے زیر اثر کشمیری پنڈت وادی سے فرار ہو گئے۔ گورنر جگ موہن کے عزائم سب جان چکے ہیں۔ اس کے باوجود کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ پنڈت نئی نسل سارا الزام کشمیری مسلمانوں پر ڈال رہی ہے۔ مجاہدین پر انہیں وادی سے نکالنے کا الزام عائد کرتی ہے۔ بھارت کے مظالم کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری فرار ہندوئو ں کی وادی آمد پر ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کی جدوجہد سب کے لئے ہے۔ ٹیپو سلطان کی جدو جہد سے میسور فیضیاب ہوا۔ شیر میسور اسی وجہ سے وہ کہلائے کہ انھوں نے بہادری کے ساتھ انگریزوں کو شکست دی۔ پھر نظام حیدر آباد کے ساتھ بھی جنگ کی وجہ یہی تھے۔ مراٹھے بھی عوام کی غلامی چاہتے تھے۔ نظام اور مراٹھہ قوم نے مل کر عوام کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی تو ٹیپو سلطان کو میدان میں آنا پڑا۔ عدلیہ ، انتہاپسند سب تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان کی سالگرہ کے موقع پر تقریبات منانے کی بات چلی تو عدالت نے بھی توہین آمیز ریمارکس دیئے۔ سنگھ پریوار ٹیپو سلطان کے خلاف متحد ہو گیا۔ کرناٹکی کانگریس حکومت نے ٹیپو جینتی یا سالگرہ منانے کا اعلان کیاتو اس کے خلاف تمام انتہا پسند اور متعصب ہندو ایک ہو گئے۔ سڑکو ںپر نکل آئے۔ ٹیپو سلطان کے خلاف نعرے لگائے۔انتہا پسند اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہتے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت میں ٹیپو سلطان کو ہیرو کا درجہ اور قدر کی جانی تھی۔مگر ایسا نہیں ہوا۔ بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ ہندو انتہا پسندوں کی کھلے عام طرفداری کرتا ہے۔ اس کی ہندو سدت پسند پارٹیوں کے ساتھ پارٹنر شپ قائم ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ تا ہم بھارتی میڈیا کا ایک حصہ سچائی کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔ برکھا دت معروف خاتون صحافی ہیں۔ وہ این ڈی ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ این ڈی ٹی وی پر ایک دن کی پابندی لگانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ چینل کیوں کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے حقائق پیش کرتا ہے۔ بھارتی مظالم پر پردہ ڈالنے سے انکار پر چینل کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض انگریزی اخبارات نے انوسٹی گیشن رپورٹیں پیش کیں۔ ان پر بھی واویلا کیا گیا۔ بھارتی شدت پسند ہندو اور ان کے آقا ملک میں زندہ رہنے کا حق صرف ہندوئوں کو دیتے ہیں۔ مسلمان کو یہ حق نہیں۔ اگر مسلمان کو بھارت میں رہنا ہے تو جے ماتا دی، وندے ماترم، نمسکار، نمستے، جے رام جی کی، پر عمل کرنا ہے۔ اسلام اور پاکستان کا نام لینے والے کا جینا حرام ہے۔ قربانیاں کرنے پر لا تعداد مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ کسی نے بکرا زبح کیا تو گائے زبح کرنے کا شور مچا کر اس پر حملہ کیا گیا۔ بھارت میں ہندو اور مسلم کے درمیاں نفرت اور دوریاں بڑھانے میں بی جے پی اور اس کی ہمنوا پارٹیا ںپیش پیش ہیں۔ وہ پاکستان کو بھی اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانے کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ بنگلہ دیش کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ کسی بھی وقت اس پر قبضہ کر لیں گے۔ بنگالیو ں اور اردو بولنے والوں میں منافرت اسی وجہ سے پیدا کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور بھارت سے دور رہنے کی پالیسی اپنانے والوں کو چن چن کر پھانسیاں دی جا رہی ہیں یا جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

وہ عظیم مجاہد آزادی تھے۔ لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔ اپنوں نے بھی ضمیر فروشی کی۔ ضمیر فروخت ہو جائیں تو باقی کچھ نہیں بچتا۔ جو لوگ آزادی کی جدوجہد کے نام پر اپنی زات کے لئے آزادی چاہتے ہیں، مفادات اور مراعات، اقتدار، دولت، شہرت، نمود و نمائش میں لگ جاتے ہیں۔ مگر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جدوجہد کر رہے ہیں، یہ لوگ قوم کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اپنے مفاد کے لئے قوم کو قربان کرتے ہیں۔ جو لوگ تحریکیں شروع کرتے ہیں یا ان کا حصہ بنتے ہیں۔ دوسروں کو اس کے لئے تیار کرتے ہیں۔ اگر انہیں لیڈری یا کمانڈری نہ ملے یا وہ دولت کے لئے یا اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے راستوں سے ہٹ جائیں تو انہیں کیا نام دیا جائے گا۔ اس کا فیصلہ بھی تاریخ کرے گی۔ مگر عظیم ہیں وہ لوگ جو اپنا آپ قوم پر قربان کرتے ہیں۔ مگر غدار لوگ ہی ذلالت میں قوم کو اپنے مفاد پر قربان کر دیتے ہیں۔ٹیپو سلطان نے خود کو قربان کیا۔ مگر ہندو شرپسندوں کو سچ تسلیم نہیں۔ کسی کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے سچ کبھی جھوٹ نہیںبن سکتا۔ عظیم مجاہد ہیرو ٹیپو سلطان کی سالگرہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانا، توڑ پھوڑ اور تشدد بھارتی شر پسندہندئوںکا تعصب ہے۔یہ ٹیپو سلطان نیفرمایا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی ،گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved