خواہشیں ، حسرتیں اور پاکستان
  31  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

انسان بھی اللہ کی عجیب مخلوق ہے ایسی ایسی چیزوں کی خواہش کر بیٹھتا ہے کہ جو نہ اس کی پوری ہوتی ہے اور نہ وہ ان کے خول سے باہر نکلتا ہے۔ خواہش اور حسرت میں صرف اتنا فرق ہے کہ خواہش ، آرزو، مرض، مطلب اور مراد کو کہتے ہیںاور حسرت کسی چیز کے نہ ملنے کا افسوس یا ارمان۔ آج ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں کہ ہر شخص خواہشوں بھرا دل اور حسرتوں کا نہ اٹھایا جانے والا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ۔خواہش اور حسرتیں اپنی اپنی اوقات کے مطابق ہوتی ہیں مثلاً غریب آدمی کی سب سے بڑی حسرت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی ہوتی ہے اور خواہشوں میں بکرے کا گوشت، پکا مکان اور صاف ستھرے کپڑے ہوتے ہیںجو اس کو صرف عید والے دن نصیب ہوتے ہیں۔لیکن اس سے ذرااوپر کی کلاس کا گاڑیوں ، بڑے بڑے گھروں ، بڑے عہدوں اور سیاہ و سفید بن جانے کی خواہشیں اور حسرتیں نیند حرام کئے رکھتی ہیں ۔کچھ سیاستدانوں کی ہر روز الیکٹرانک میڈیا پر آنے کی خواہش ہوتی ہے ۔کچھ سیاستدانوں کی دھرنوں اور سڑکوں پر آنے کی خواہش اور حسرت ہوتی ہے۔لیکن اگر مجھ سے میری کوئی خواہش اور حسرت پوچھے تو اپنی اچھی صحت اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے ساتھ بلکہ اس سے بھی شاید پہلے پرامن پاکستان کی حسرت ہے۔جس کو بدامن کرنے کے لئے میڈیا پر آنے والے حسرتوں کے شوقین دن رات ایڑی چوٹی کا زور لگائے رکھتے ہیں ۔اگر ہر روز دو تین وزراء طلال چوہدری، دانیال عزیز اور طارق فضل چوہدری پریس کانفرنسز کرنا چھوڑ دیں تو پاکستان میں 50فیصد سیاسی امن و استحکام آ جائے گا۔اور اسی طرح اگر عمران خان بھی ہر روز کوئی نہ کوئی احمقانہ بات نہ کریں تو باقی بھی 50فیصد سیاسی امن ہو جائے گا۔اس لئے سیاسی امن و امان اور پاکستان کے استحکام کے لئے اگر کوئی مجھ سے سیاسی خواہش اور حسرت پوچھے گا تو میرا یہی جواب ہو گا کہ میری صرف خواہش ہی نہیں اللہ سے دعا بھی ہے کہ یااللہ ان تینوں وزراء کے دلوں سے ہر روز ٹی وی پر آنے کی خواہش نکال لے اور ان کو وہ کام کرنے کی توفیق دے جس کی اس قوم اور ملک کو ضرورت ہے۔اور دوسری خواہش یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ عمران خان کو عقل و فہم سے نوازے ۔ ان کے دل سے دھرنوں، سڑکوں پر آنے، غیر ضروری بیان بازی اور الزام تراشی کی خواہشات نکال لے۔اللہ کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ۔ اگر اس ملک پر سب سے بڑا کرم کرنا ہے تو عمران خان کے دل سے وزیراعظم بننے کی خواہش اور حسرت نکال لے تو اللہ تبارک تعالیٰ کا اس ملک اور20کروڑ عوام پر احسانِ عظیم ہوگا۔مجھے بحیثیت کالم نگاراور اسلام آباد کے شہری کوئی پوچھے تو میں اللہ سے دعا کروں گا جس میں میری خواہش اور حسرت دونوں شامل ہونگی کہ ہمارے وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری اگر صرف اپنے کام پر توجہ دیں تو کم از کم اسلام آباد میں بالکل سکون ہو جائے۔ان کی توجہ نہ دینے کی وجہ سے پولی کلینک ہسپتال ایک جیل کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کا سب سے بڑا ہسپتال کئی دنوں سے ہڑتالوں کی نذر ہوا ہے۔ مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔ سارا سٹاف ہڑتال پر ہے۔پاکستان کی بڑی اور بہترین قائداعظم یونیورسٹی کئی ہفتوں سے لاقانونیت اور افراتفری کی وجہ سے بند ہے۔کلاسز نہیں ہو رہیں ۔وزیر موصوف دونوں میں دلچسپی نہیں لے رہے۔کسی کا فون اٹینڈ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔وہ سارا دن اس جستجو میں رہتے ہیں کہ آج کس وزیر نے کس وقت اور کس جگہ پریس کانفرنس کرنی ہے۔پھر یہ خود ہی وہاں بن بلائے مہمان کی طرح ساتھ جا کر بیٹھ جائیں گے ۔ اگر بیٹھنے کی جگہ نہ ملے تو پیچھے کھڑے ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی پریکٹیکل کام کسی کوکہیں نظر آتا ہو تو وہ یقیناً مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہوگا۔ہم نے میڈیا پر غیر ضروری بیانات ، پریس کانفرنس اور وضاحتوں کی وجہ سے سارے ملک کو پریشان کر رکھا ہے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی بات میں کوئی بھی حقیقت اور شیرینی نہیں ہوتی صرف تکے مارے جا رہے ہوتے ہیں۔1970ء سے پہلے جب پاکستان میں مارشل لاء کا دور تھا ۔ بڑے شہروں کے علاوہ کہیں بجلی، گیس، ٹیلی فون وغیرہ کا نام و نشان نہیں تھا ۔ دیہاتی لوگ دئیے جلا کر روشنی حاصل کرتے تھے۔ ان مٹی کے دیوں میں سرسوں کا تیل ڈالا جاتا تھا۔پورے مہینے کے لئے راشن حاصل کرنے کا خرچہ چار آنے موجودہ کرنسی کے25پیسے ہوتے تھے۔کھانے پکانے کے لئے آگ جلانے کے لئے لکڑیوں یا گوبر کو بطور ِ ایندھن استعمال کیا جاتا تھا۔خط و کتابت کے لئے ڈاک ٹکٹ صرف پانچ پیسے کا ہوتا تھااور جس کا پہنچنا بھی یقینی ہوتا تھا۔رات کو دئیے کی روشنی میں طالبعلم پڑھائی کرتے اور نوجوان لڑکیاں سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھیں ۔کام سے فارغ ہو کر نانیاں دادیاں چھوٹے بچوں کو نہ ختم ہونے والی کہانیاں سناتی تھیں۔وہ سب کہانیاں خود ساختہ ہوتی تھیں ۔ان میں کوئی صداقت نہیں ہوتی تھی۔نہ ہی ان عورتوں نے وہ کہانیاں کسی کتاب میں سے پڑھی ہوتی تھیں ۔لیکن وہ کہانیاں انتہائی سبق آموز ہوتی تھیں اور ان کہانیوں سے آنے والی نسلوں کی تربیت کی جاتی تھی۔ان میں بڑوں کا استاد کا احترام سکھایا جاتا تھا۔بچوں کو برے کاموں اور لڑائی جھگڑوں سے روکا جاتا تھا۔وہ گھنٹوں کی مصنوعی کہانی میں کبھی چاشنی ختم نہیں ہوتی تھی۔شروع سے آخر تک ایسی دلچسپی اور تجسس پیدا کرتیں کہ عقل دنگ رہ جاتی۔کسی بھی شخص کو کہانی ختم ہونے سے پہلے کہانی کے انجام کا اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔ان کہانیوں اور آج کے ٹاک شوز کا اندازہ لگایا جائے تو ٹاک شوز شروع ہونے سے پہلے اینکر پرسن کا چہرہ اور مہمانوں کی زیارت ہوتے ہی یعنی گفتگو کا آغاز ہونے سے پہلے ہی کہانی کے انجام کا پتہ چل جاتا ہے

۔اس زمانے میں وہ بوڑھی اور ان پڑھ عورتیں سوچ سمجھ کر اور نئی نسل کی اصلاح کے لئے بات کرتی تھیں ۔لیکن آج کے اینکر اور دانشور(نام نہاد) سوچ سمجھ یا کسی تیاری کے بغیر آتے ہیں ۔وہ قوم کی اصلاح کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے، ننگا کرنے اور الزام تراشی کے لئے آتے ہیں ۔اور کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہتی ہے۔آج کے ٹاک شوز میں آنے والے کویہ تنبیہ کی جائے کہ کوئی بھی شخص موضوع سے ہٹ کر بات نہیں کرے گا۔ان نام نہاد دانشوروں اور میڈیا کانفرنسزکے شوقین سیاستدانوں کی غیر سنجیدہ گفتگو کی وجہ سے ان کا اپنا یا ان کی پارٹیوں کا کوئی نقصان ہو رہا ہے یا نہیں لیکن پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے۔پاکستان کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پھیلانے کی وجہ سے عوام میں بے چینی اور بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ہر ٹاک شوز یا ہر کالم کا مقصد سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیئے ۔ ذاتی خواہشوں اور حسرتوں کو دبا کر پاکستان کو فوقیت اور اہمیت دینی ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved