''لندن'' سے نہ شکوہ ہے اور نہ شکایت
  31  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

محترمہ کلثوم نواز بیمار ہوکر لندن میں زیرعلاج ہیں نواز شریف ان کی عیادت کے لئے لندن میں ہیں … نواز شریف کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز لندن کے شہری ہیں ' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مری کا دورہ چھوڑ کر اچانک لندن پہنچ چکے ہیں … وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی لندن میں ہیں … کہا جارہا ہے کہ ن لیگی قیادت لندن میں جمع ہوچکی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے اپنا دکھ ' سکھ' علاج معالجے' جائیدادیں اور اولادیں لندن ہی میں بنانی تھیں تو پھر ہمارے اکابرین نے خواہ مخواہ بے پناہ قربانیاں دیکر برطانوی استعمار کو بوریا بستر گول کرکے برصغیر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا ' ''گورے'' پاکستانی حکمرانوں اور سیاست دانوں کو لندن میں دیکھ دیکھ کر روتے بھی ہوں گے اور ہنستے بھی ہوں گے … روتے اس لئے کہ افسوس کہ انہیں برصغیر سے نکلنا پڑا … اور ہنستے اس لئے کہ اگر پاکستانی حکمرانوں اور سیاست دانوں نے لندن ہی کو اپنا قبل اور ہیڈ کوارٹر بنانا تھا … تو پھر ہمیں نکالا کیوں تھا؟ ہا ہا ہا 'وہ کیا منظر ہوگا کہ جب نواز شریف پاکستان کی طرف منہ کرکے چیخ رہے ہوں گے کہ ''حکومت سے مجھے کیوں نکالا گیا''؟ اور ''گورے'' ان کی طرف منہ اٹھا کر پکار رہے ہوں گے کہ اگر تم سب نے لندن ہی آنا تھا تو پھر ''ہمیں وہاں سے نکالا کیوں تھا''؟ صرف ن لیگ یا نواز شریف ہی نہیں … بلکہ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی لندن مارکہ سیاست پر کامل یقین رکھتی ہے' آصف علی زرداری سے لے کر بلاول زرداری تک … ان کے عبدالرحمان ملک سمیت اور نہ جانے کس کس کے شاہی محلات لندن میں ہیں … صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں … بلکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اولاد بھی لندن ہی میں ہے … وہیں ان کی تعلیم اور پرورش ہو رہی ہے … صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ اب تو باقاعدہ ایم کیو ایم لندن کا غلغلہ بلند ہوتا ساری دنیا سنتی ہے… کراچی کے کسی پلاٹ میں چھپایا جانے والا اسلحہ برآمد ہوتو کہا جاتاہے کہ یہ ایم کیو ایم لندن نے چھپایا ہوا تھا … کوئی ٹارگٹ کلر گرفتار ہو جائے تو سیکورٹی ادارے میڈیا کو بتاتے ہیں کہ اس کا تعلق بھی ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ لندن میں جمع ہونے والے یہ پاکستانی سیاست دان لندن میں محلات تو بنالیتے ہیں 'لیکن لندن کے حکمرانوں سے کوئی اچھی بات سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے … لندن میں قانون کی حکمرانی کا تصور پایا جاتاہے … مگر لندن میں رہنے والے پاکستانی حکمران یا سیاست دان جیسے ہی پاکستان واپس پہنچتے ہیں تو قانون کو موم کی ناک یا گھر کی لونڈی بناکر خوب رسوا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا''لندن'' کوئی اسلام آباد سے راولپنڈی کے درمیانی فاصلے پر ہے ؟ یہاں تو ایسے ہزاروں پاکستانی پائے جاتے ہیں کہ جن کی جیب میں راولپنڈی سے اسلام آباد تک جانے کا کرایہ بھی موجود نہیں ہوتا … اس جدید دور میں بھی پاکستان میں ایسے لاکھوں لوگ پائے جاتے ہیں جن کو ایک وقت کی عزت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے' لیکن ان پاکستانیوں کے سروں پر حکومت کرنے والے ٹولے کے لئے ''لندن'' جانا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے' ایسے لگتا ہے کہ حکمران ٹولے کیلئے اسلام آباد سے لندن جانا آسان جبکہ اسلام آباد سے راولپنڈی جانا مشکل ہوچکا ہے' میری سوہنی دھرتی کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو آخر اپنی ''مٹی'' پہ اعتماد کیوں نہیں ہے؟ انہیں لندن جاکر ذہنی اور قلبی سکون کیوں حاصل ہوتا ہے؟ یقینا لندن کے گورے بہت اچھے ہیں تبھی تو … پاکستان کی ساری کرپٹ ''الائوں'' … ''بلائوں'' کو انہوں نے سنبھال رکھا ہے … یہ ان کی اچھائی نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر یہ ساری ''بلائیں'' پاکستان میں اکٹھی ہو جائیں تو اس ملک کا کیا بنے گا؟ پاکستانی قوم کو ''گوروں'' کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے ہمارے حال پر ترس کھاتے ہوئے … ہمارے گناہوں کی ساری ''سزائوں'' کو وہاں سنبھال کررکھا ہوا ہے … اور پھر انہیں ''باری'' ''باری'' عین اس وقت پاکستان کی طرف روانہ کیا جاتا ہے کہ جب انہوں نے حکومتی باگ دوڑ سنبھالنا ہوتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ملالہ یوسف زئی نام کی ایک سواتی لڑکی پر بھی وہاںخوب محنت ہو رہی ہے … اسے خوب خوب پڑھایا لکھایا جارہا ہے … سنا ہے کہ ملالہ آجکل آکسفورڈ یونیورسٹی میں علم کے موتی تلاش کررہی ہے … اس نے جینز کی پینٹ پہننا بھی شروع کر دی ہے۔

''ترقی کی یہ معراج ایسی ہے کہ جو یقینا مستقبل میں اسے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے سیاسی آسمان کا ستارہ بناسکتی ہے ' بلکہ عین ممکن ہے کہ اقتدارکے ایوان بھی اس کی قدم بوسی کے لئے تڑپ رہے ہوں ' لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس میں لندن والوں کا کوئی قصور ہے' لندن کے گوروں نے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی منت تو نہیں کی … کہ تم پاکستان چھوڑ کر لندن آبسو؟ یہ ''قصور'' تو ہمارے حکمرانو ں اور سیاستدانوں کا ہے' کہتے ہیں کہ اپنی مرغی اچھی ہو تو دوسرے کے گھر انڈہ ہی کیوں دے؟اس لئے ''لندن'' سے ہمارا نہ کوئی شکوہ ہے اور نہ شکایت۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved