لندن میں سیاست کا اتوار بازار
  31  اکتوبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭لندن میں سیاست کا اتوار بازار سج گیا۔ اتوار کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، اچانک لندن میں میاں نوازشریف کے پاس پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مزید وزرا بھی لندن کے دربار میں پہنچ رہے ہیں۔ لندن میںالطاف حسین کے دربار کے بعد یہ دوسرا دربار ہے۔ اسے دربار شریف بھی کہا جا رہا ہے۔ ایسا ہی ایک دربار آصف زرداری کا شارجہ کے وسیع و عریض فارم ہائوس میں لگتا ہے۔ موصوف کبھی کبھی اپنی سوئی ہوئی پارٹی کو جگانے کے لئے پاکستان آتے ہیں، اور کراچی، لاہور اور پشاور میں دو تین دن ٹھہر کر واپس اپنے نئے وطن دبئی میں چلے جاتے ہیں۔ وہاں اپنے دربار میں سندھ کے وزیراعلیٰ، وزراء اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمائوں کو پیش ہونے کا فرمان جاری کر دیتے ہیں۔ دبئی میں ہی ایک دربار پاکستان کے مفرور سابق صدر پرویز مشرف نے بھی لگانا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال اس میں سابق گورنر عشرت العباد، ایم کیو ایم کے کچھ رہنما اور مسلم لیگ (ف) کے رہنما حاضر ہوتے ہیں۔ آصف زرداری کے حکم پر پہلے ہر دو تین ہفتوں کے بعد سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو اچانک دبئی حاضری دینا پڑتی تھی۔ شاہ صاحب کی عمر 84 برس کے قریب ہے۔ بے چارے طیارے کی سیڑھیاں چڑھتے اترتے وقت لڑکھڑا جاتے تھے مگر شاہی طلبی کی تعمیل سے سرتابی ممکن نہیں تھی۔ وہ فارغ ہوئے تو نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بار بار بلا لیا جاتا ہے۔ بات لندن کے نئے دربار سے شروع ہوئی ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ میاں نوازشریف جمعرات دو نومبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لئے آ رہے ہیں۔ یہ خبر درست ہے تو پھر اچانک ملک کے وزیراعظم سمیت پنجاب کے وزیراعلیٰ اور خارجہ و حزانہ کے وزیروں کو لندن حاضر ہونے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ اس سوال نے بہت سی چہ می گوئیوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ یہ سارے لوگ پاکستان میں اپنے قائد کا انتظار کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا! پھر یہ کہ یہ سارے لوگ الگ الگ گئے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ہائوس کو بے خبر رکھ کر اچانک کسی پروٹوکول کے بغیر نجی کار میں وہاں سے نکلے، ہوائی اڈے پر پہنچے اور پی آئی اے کے طیارے کے ذریعے لندن جا پہنچے۔ وہاں پہنچ کر بیان دیا کہ ذاتی کام کے لئے ذاتی اخراجات پر آیا ہوں بیگم کلثوم نواز، کی عیادت کرنی ہے۔ وزیرخارجہ نجی دورے پر خصوصی سرکاری طیارے کے ذریعے پہلے سعودی عرب گئے وہاں چھ روز سے مقیم اپنے باس نوازشریف سے ملاقات کی۔ پھر دونوں الگ الگ لندن چلے گئے۔ میاں شہباز شریف لاہور میں سری لنکا کے ساتھ کرکٹ میچ کے انتظامات چھوڑ کر اتوار کی صبح لندن پہنچ گئے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی احتساب عدالت میں پیشی تھی۔ حاضری یقینی بنانے کے لئے 50 لاکھ روپے کی ضمانت جمع کرا رکھی ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ موصوف تو لندن میں بیٹھے ہیں! سیاسی پنڈت پیش گوئی کر رہے ہیں کہ کوئی نیا لندن پلان آ رہا ہے! مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں، یہ کہ نوازشریف اب واپس آئیں گے یا نہیں؟ جمعرات کو واپس آنا ہے تو صرف تین دن قبل ان اہم لوگوں کو لندن بلانے کا کیا مقصد ہے؟ یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ نوازشریف اپنی اہلیہ کی علالت کے نام پر اسلام آباد کی عدالت میں تو پیش نہ ہوئے مگر چھ دن سعودی عرب میں کیا کرتے رہے! سیاسی پنڈتوں کے مطابق انہوں نے سعودی حکمرانوں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں ان کی بنا پر کوئی نیا 'این آر او' یا کوئی نیا 'میثاق جمہوریت' وجود میں آ رہا ہے؟ ملک کا سارا نظام تعطل کا شکار ہے اور ملک کے کرتا دھرتا لوگ سارے کام چھوڑ کر لندن میں حاضریاں دے رہے ہیں! ٭ایک اطلاع یہ ہے کہ شریف خاندان کے خلاف چار نئے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کئے جا رہے ہیں۔ یہ ریفرنس سعودی عرب، لندن اور دوسرے ملکوں میں شریف خاندان کے دریافت ہونے والے نئے اثاثوں کے بارے میں۔ تین ریفرنس پہلے ہی زیر سماعت ہیں۔ لگتا ہے کہ بات بہت دور تک جائے گی! ٭قارئین کرام! ایک مختلف بات۔ مجھے سری نگر سے شائع ہونے والے اردو کے ادبی رسالہ 'نگینہ' میں ایک شائع شدہ افسانہ موصول ہوا ہے۔ اس رسالے کے چیف ایڈیٹر سری نگر کے ممتاز ادیب ''وحشی سعید'' ہیں۔ یہ افسانہ ان کا ہی تحریر کردہ ہے۔ دراصل یہ افسانہ نہیں بلکہ اس دلگداز وحشت ناک واقعہ کی ادبی رنگ میں تمثیل ہے جب بھارتی فوج کے ایک میجر نے کشمیری حریت پسندوں کو سبق سکھانے کے لئے ایک معمر کشمیری باشندے کو اپنی فوجی بکتربندگاڑی کے آگے باندھ کر جیپ دوڑائی تھی۔ اس کے اس انسانیت کش عمل کا خود بھارت کے اندر انسان دوست حلقوں نے سخت نوٹس لیا تھا مگر بھارتی فوج کے چیف آف سٹاف نے اس میجر کو انعام اور تمغے دیئے تھے۔ یہ واقعہ دنیا میں پھیلا اور عالمی سطح پر بھی اس کی مذمت ہوئی اس مذموم واقعہ کو'نگینہ' کے چیف ایڈیٹر وحشی سعید نے جس جرأت کے ساتھ ایک رپورتاژ کی شکل میں افسانوی رنگ میں شائع کیا ہے اس پر سعید صاحب کو داد اور مبارکباد دے رہا ہوں۔ اس روداد سے مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتِ حال کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ یہ رپورتاژ زیادہ طویل نہیں مگر کالم میں اسے سمانے کی گنجائش نہیں۔ سعید صاحب نے اس کا عنوان 'ارسطو کی واپسی' رکھا ہے۔ ارسطو یونان کے بادشاہ سکندر اعظم کا استاد تھا۔ سکندر دنیا کو فتح کرنے کے لئے روانہ ہوا تو ارسطو نے اسے ہدائت کی کہ ''جہاں بھی جائو، انسانوں کو دکھ اور اذیت نہ دینا، انسانی اقدار کو کبھی پامال نہ ہونے دینا اور اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہارے دشمن کی پسپائی تمہاری انا کو غرور میں نہ ڈال دے'' اپنے استاد کی اس ہدائت کو سامنے رکھ کر سکندر نے شکست خوردہ راجہ پورس کی باعزت رہا کر دیا تھا۔ سعید صاحب ارسطو کی اس ہدائت کو قلم بند کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ ''رات کا نہ جانے کون سے لمحہ رہا ہو گا جب میں ارسطو کو تاریخ میں ڈھونڈ رہا تھا۔ میری یہ کھوج یہ ایسے دھماکے کی نذر ہو گئی جس نے ساری کائنات کا دل دہلا دیا۔ ہر طرف چیخوں اور آہ و بکا کا سماں برپا ہو گیا۔ یوں محسوس ہوا کہ شائد ہم زندگی کے اختتامی سفر پر روانہ ہو گئے ہیں، پھر اچانک آوازوں کا سمندر ابھراکہ کیا ہوا؟ دھماکہ خاموش ہو گیا۔ فوجیوں کے جوتوں کی ٹاپیں بند ہو گئیں۔ ایک بکتر بند گاڑی ایک شہری کے سامنے رک گئی…فوجیوں نے اس شہری کو بکتر بند گاڑی کے آگے باندھ دیا۔ اس کے گلے میں ایک تختی باندھ دی اس پر لکھا تھا دہشت گرد! فوجی اس بکتر بند گاڑی کو شہر کی سنسان گلیوں اور سڑکوں پر دوڑا رہے تھے، اپنی فتح پر ناچ رہے تھے اور بگل بجا کر اپنی جیت کا اعلان کر رہے تھے… کئی ہزار سال بعد ارسطو واپس آیا تھا مگر اس کی آنکھوں سے خون کے آنسو بہہ رہے تھے۔'' میں سعید صاحب کو اس دلیرانہ تحریر پر ایک بار پھر مبارکباد دیتا ہوں! ٭ اس دلگداز تحریر کے بعد کیا لکھوں؟ مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز دو مزید کشمیری نوجوان شہید کر دیئے گئے۔ مگر کب تک؟ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظلم کو سرنگوں ہونا پڑے گا۔ میں اس دن کی آمد کی دُعا کر رہا ہوں۔

٭ایس ایم ایس: ہم متاثرین منگلا ڈیم کو اجاڑ کر ایسی گھاٹیوں میں بسایا گیا ہے جہاں لڑکے لڑکیوں کا کوئی سکول نہ کالج، کوئی ہسپتال، ڈاکخانہ، تھانہ، کچھ بھی نہیں۔ ان سہولتوں کے نہ ہونے سے ہم لوگوں کو روزانہ 10 کلو میٹر سفر کرنا پڑتا ہے ہمارا کیا قصور ہے؟ عبدالرئوف نیو ٹائون ڈڈیال، آزاد کشمیر (0345-5471295)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved