جنرل صاحب کو ایران جانا چاہئے
  1  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کچھ دن قبل جنرل باجوہ صاحب افغانستان گئے تھے، جہاں انہوںنے افغان صدر اشرف غنی سے پاکستان، افغانستان تعلقات کے پس منظرمیں تفصیلی گفتگو کی تھی،اس گفتگو کے نتیجہ میں امید کی جارہی تھی کہ ان دونوں ملکوں کے مابین سیاسی و معاشی حالات درستگی کی طرف جائیں گے، لیکن ''بساآرزو کہ خاک'' حالات میں بہتری کے آثار نمایاں نہیںہوئے ہیں، بلکہ اشرف غنی پاکستان سے متعلق مسلسل تلخ باتیں کررہے ہیں، انہوںنے ابھی حال ہی میں دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے لئے واہگہ باڈر نہیں کھولا تو ان کی حکومت پاکستان کے لئے وسط ایشیا کی تجارتی راہداری نہیں کھولے گی ظاہر ہے کہ اشرف غنی یہ زبان بھارت اور امریکہ کے ایما پر بول رہے ہیں وہ نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت ہوسکے، بلکہ وہ اپنے انداز میں پاکستان کو مغربی سرحدوں پر مصروف رکھنا چاہتے ہیں، حلانکہ افغان صدر کو افغان عوام کی فلاح وبہبود کے پس منظر میں خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ترتیب دینی چاہئے تھیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرپارہے ہیں، اسکی ایک وجہ ان کی حکومت پر بھارت اور امریکہ کا دبائو ہے، وہ اس سے نکل نہیں پارہے ہیں، بلکہ انہوںنے انہیں اقتدار سونپا ہے، چنانچہ جنرل صاحب کے دورے افغانستان کے باوجود افغان حکومت پاکستان دشمنی کی طرف مائل ہے اور اس خطے میں عالمی سامراج کے مفادات کی تکمیل کررہی ہے اور ان کی کھل کر مدد کررہی ہے، اس معروضی صورتحال کے پیش نظر جنرل باجوہ صاحب کو ایران کا دورہ کرنا چاہئے، تاکہ ایران کے ساتھ قدیم تعلقات کی تجدید کی جاسکے، ویسے بھی ایران کی خارجہ پالیسی بھارت یا امریکہ کی تابع نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے ملکی اور قومی مفادات کی روشنی میں اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دے رہے ہیں، مزید براں ایران کی حکومت مسلسل پاکستان کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات کے اشارے دے رہی ہے، ہمیں ان اشاروں کو سمجھتے ہوئے ایران کی جانب تعلقات باہمی کے لئے مضبوط ہاتھ بڑھانا چاہئے، اس پس منظر میں ایران کے پاکستان میں سفیر ہنردوست نے حال ہی میں پاکستان کی حکومت کو 3000میگاواٹ بجلی دینے کا عندیہ دیاہے، ہمیں اس پیش کش کو قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ بجلی نہایت ہی سستے داموں پاکستان کو دی جارہی ہے، اس سے قبل ایک اہم ایرانی حکومت کے اہل کار نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ایران کو سی پیک سے کوئی خطرہ نہیں ہے، اور نہ ہی ایران کی معیشت کو پاک چین منصوبے سے متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں، انہوںنے یہ بھی کہا کہ چا ہ بہار کی بندرگاہ ایک چھوٹی بندرگاہ ہے اور وہ گہری بھی نہیں ہے، جتنی گوادر کی بندرگاہ ہے، اس لئے چاہ بہارکی ترقی ایک دوسرے کے لئےComplimentryثابت ہوگی، ان بیانات سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ ایران برادر ملک پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے، اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے فروغ کا خواہش مند ہے،

دوسری طرف ایران اور پاکستان کے درمیان گیس کا منصوبہ ایک دہائی سے معطل ہواہے، اسکو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے ، ایران کی جانب سے اس گیس منصوبے کے لئے تعمیر کی جانے والی پائپ لائن مکمل ہوچکی ہے، پاکستان نے ابھی تک اپنے حصے کی پائپ لائن بنانا شروع نہیں کی ہے، شنیدہے کہ امریکہ کی ناراضگی کا خوف لاحق ہے، کیوں لاحق ہے؟ اس کا جواب موجودہ حکومت کے پاس نہیں ہے، جو بظاہر جنوبی ایشاء میں امریکہ کی حکمت عملی سے خوش نظر نہیں آتی ہے، لیکن اسکے باوجود اپنے قومی مفادات کی روشنی میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تیار نہیں ہے، حالانکہ پاکستان کی موجودہ حکومت مہنگے داموں قطر سے ایل این جی کی صورت میں مہنگی گیس خرید رہی ہے، اس سمجھوتے میںکرپشن ہوئی ہے،اس لئے جنوبی ایشیا میں بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی کے پیش نظر جنرل صاحب کو ایران جانا چاہئے، وہاں کی قیادت سے مکالمے کے ذریعہ تعلقات باہمی کو مضبوط ومستحکم کرنا بے حد ضروری ہے، آئندہ دنوں میں بھارت امریکہ کے ساتھ ملکر اس خطے میں خصوصیت کے ساتھ افغانستان میں اپنی شکست کی جھینپ مٹانے کے لئے پاکستان کے لئے ظاہروباطن میں کئی مسائل کھڑے کرسکتاہے، اس لئے ہمیں اس خطے کے ممالک کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں موجودہ رکاوٹوں اور دیگر عوامل کو دور کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھنے کی بہت ضرورت ہے، یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں اگر بہتری ہوجاتی ہے تو اس سے سعودی عرب کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی اچھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ایران کے ساتھ دوستی سے ان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا، یہی حقیقت ہے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved