ختم نبوتۖ! حکومتی وکیل 'مذہبی قائدین پھونک پھونک کر قدم اٹھائیں
  1  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اگر خدانخواستہ امریکہ نے پاکستان کے اندر گھس کر کوئی کارروائی کر ڈالی... تو پاکستان کا ردعمل زبانی' کلامی بیانات کے علاوہ بھی کچھ ہوگا... یا پھر روائتی احتجاجی بیانات تک ہی محدود رہے گا؟ امریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ سے الگ ملاقات میں کیا وہی باتیں کیں کہ جس کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں؟ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کو لاحق شدید خطرات جو نشاندہی کی تھی وہ بالکل درست تھی۔ لیکن امریکی' بھارتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستان کو لاحق شدید خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمارے حکمرانوں نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اس کا جواب بھی ابھی تک کسی کو معلوم نہیں' امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کی وجہ سے ... عوام متفکر ضرور ہے... مگر اس حد تک کہ دیکھتے ہیں کہ اس مرتبہ پاکستان کے حکمران اور بالادست قوتیں... ممکنہ امریکی جارحیت کا جواب کس طرح دیتی ہیں؟ اب آتے ہیں ایک ایسے موضوع کی طرف کہ جس کی وجہ سے پاکستان کے مسلمانوں میں انتہائی تشویش پائی جارہی ہے... وہ موضوع ہے ختم نبوتۖ کے حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کا... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتۖ سمیت دیگر تمام مذہبی جماعتیں' قادیانی یعنی ''احمدیوں'' کے حوالے سے حکومتی کردار پر ابھی تک شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں... مگر اتوار کے دن مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر کراچی میں ختم نبوتۖ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ... فرماتے ہیں کہ ''حکومت نے تحفظ ختم نبوت ۖکے حوالے سے ... ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے... لفظی ترمیم واپس لینے کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا کوئی جواز نہیں' ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوتۖ کی آڑ میں منفی سیاست نہ کی جائے''... اتوار ہی کے دن سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے اسلام آباد میں حضرت آغا شورش کاشمیری کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے... کہ ''انتخابی اصلاحات کے تحت کی گئی... ترامیم واپس لے لی گئی ہیں... تاہم ابھی کچھ کسر باقی ہے... ''قادیانیوں'' نے چالاکی اور ہوشیاری سے ایسی چالیں چلیں جو ظاہر ہوگئیں اور ان کی تصحیح بھی ہوگئی... لیکن اب بھی کچھ چیزیں باقی ہیں... جنہیں جلد درست کرلیا جائے گا' راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ قادیانیوں نے ہاتھ پائوں مارنے شروع کئے ہیں لیکن اس موقع پر اہل ایمان اپنے پائوں پر جم کر کھڑے ہو جائیں۔'' جناب پروفیسر ساجد میر اُس خطیب اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے جانشین ہیں کہ جن کی للکار سے باطل کے ... ایوانوں پر لرزہ طاری ہو جایا کرتا تھا... مگر بدقسمتی سے آج وہ اس حکومت کی وکالت کی ناکام کوشش کر رہے ہیں... کہ جس کی ''وکالت''... اس کے ''اپنے'' بھی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ نے ختم نبوتۖ کے حلف نامہ کے حوالے سے ... انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا... مگر جب فرزندان توحید کا حکومتی غیر ذمہ داری کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا... تو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے... عوامی ردعمل کے خوف سے جو عمل کیا جائے... اسے ''ذمہ داری'' کا مظاہرہ قرار دینا کس حد تک درست ہے... اس کا جواب علماء اور مفتیان اہلحدیث پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر لفظی ترمیم واپس لینے کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے... تو پھر جناب راجہ ظفرالحق نے یہ کیوں کہا کہ اگرچہ ترامیم واپس لے لی گئی ہیں... مگر اس کے باوجود کچھ کسر باقی رہ گئی ہے... باالفاظ دیگر راجہ ظفرالحق یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ ابھی تک ختم نبوتۖ کی شقیں مکمل طور پر بحال نہیں ہوئیں... اور جب تک ختم نبوتۖ کی شقیں مکمل طور پر بھی بحال نہ ہو جائیں اس وقت تک پرامن احتجاج' پاکستان کے مسلمانوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔

راجہ ظفرالحق سینئر سیاست دان ہیں... اور سینٹ میں قائدا یوان بھی... مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے خوامخواہ حکومت کی وکالت کرکے بسم اللہ کی جگہ انگلی رکھنے کی کوشش نہیں کی... اور قوم کو صاف' صاف لفظوں میں بتا دیا کہ لفظی ترمیم واپس لینے کے باوجود ابھی بھی ختم نبوتۖ کی شقیں مکمل بحال نہیں ہوئیں... بلکہ کچھ کسر ابھی بھی باقی ہے اور راجہ ظفرالحق نے یہ بات بھی کھل کر تسلیم کرلی ہے کہ ''قادیانیوں نے چالاکی اور ہوشیاری سے ایسی چالیں چلیں جو ظاہر ہوگئیں اور ان کی تصحیح کرلی گئی... مطلب یہ کہ ختم نبوتۖ کے حلف نامہ ا قرار نامہ میں بدلنے کی سازش کے ذمہ دار دراصل قادیانی تھے... راجہ ظفرالحق کے ان انکشافات کے بعد... پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور مسلمان عوام کا فکر مند ہو کر احتجاج کرنا... نہ صرف ضروری بلکہ لازمی تھا... اور اگر یہ غیور قوم بروقت احتجاج نہ کرتی تو شریف حکومت کے ''نوازے'' ہوئے گماشتے... ختم نبوتۖ کے حوالے سے ملک و قوم سے ضرور ہاتھ کر جاتے' پروفیسر ساجد میر نے یہ ٹھیک کہا کہ ختم نبوتۖ کی آڑ میں منفی سیاست نہ کی جائے... لیکن اس سے اگلا جملہ یہ ہونا چاہیے کہ حکومتی کاسہ لیسی میں بھی اس حد تک آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ حکومتی گناہ اور بدترین جرم کو ہی ہضم کرلیا جائے... مذہبی جماعتوں اور مذہبی قائدین کا احترام چونکہ ہمیشہ سے اس خاکسار کے پیش نظر رہا ہے... اس لئے میں اس بحث کو مزید طول نہیں دینا چاہتا' ہاں البتہ احترام کے باوجود یہ بتانا لازمی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود مذہبی قائدین پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں... اس قوم کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ یہ قوم جھولیاں بھر' بھر کر ووٹ کبھی پیپلزپارٹی' کبھی ن لیگ' کبھی ق لیگ اور کبھی تحریک انصاف کو دیتی ہے... مگر ختم نبوتۖ ہو ناموس رسالتۖ ہو یا آئین میں موجود دیگر اسلامی شقیں... ان کی حفاظت کی توقع... مذہبی جماعتوں اور مذہبی قائدین سے رکھتی ہے۔ اس لئے میری پروفیسر ساجد میر سے گزارش ہے کہ وہ اس حوالے سے انتہائی پھونک' پھونک کر قدم اٹھائیں۔ (وما توفیقی الاباللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved