لندن کے فیصلے
  1  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭لندن کے یاتری واپس آگئے۔ سب سے دلچسپ یاترا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تھی۔ وہ نجی گاڑی میں کسی پروٹوکول کے بغیر خاموشی سے وزیراعظم ہاؤس سے نکلے۔ پی آئی اے کے طیارے میں بیٹھے۔ لندن پہنچ کر بھی کوئی پروٹوکول نہیں لیا۔ ہوائی اڈے سے نکلے، اپنا بیگ اٹھایا'زیر زمین ٹرین کے سٹیشن پر جاکر کھڑے ہو ئے۔ٹرین میں دوسرے مسافروں کے ساتھ کھڑے ہو کر سفر کیا۔منزل پر پہنچ کر بیگ اٹھائے باہر نکلے،پیدل سفر کیا اور پھر میاں نوازشریف سے ملنے کے لیے ان کے بیٹے حسن نواز کے دفتر میں پہنچ گئے۔ لندن کے لوگ ایک وزیراعظم کو اس انداز میں چلتے پھرتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان سے باتیں کرنے کی کوشش کی ، مگر وزیراعظم خاموش رہے۔ کچھ دیر لندن میں گھومے پھرے، اپناکوئی ذاتی کام انجا م دیا اور پھررات گئے ایک عام طیارہ میں بیٹھ کر اسلام آباد واپس آگئے۔ ان کی یہ آمدورفت لندن کے میڈیا میں اہم خبر بن گئی۔ اسی وزیراعظم کے وزیر خارجہ کی خبر چھپی کہ وہ ایک خصوصی سرکاری طیارے میں سعودی عرب اور وہاں سے لندن گئے تھے۔ ظاہر ہے اسی طرح ہی واپس آئے ہوں گے۔ اس تمثیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا وزیر خارجہ وزیراعظم سے بڑا ہوتاہے! جہاں تک بطور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سادگی اور درویشی کا معاملہ ہے تو ان کی نجی زندگی واقعی سادہ دکھائی دیتی ہے مگر یہ کہ وہ بہت ثروت مند شخص ہیں۔ ایک منافع بخش ایئر لائنز کے مالک ہیں۔ دوسرے اثاثے بھی اچھے خاصے ہیں۔ انہوں نے لندن کے سفر میں سادگی کی اچھی مثال چھوڑ ی ہے مگر یہ بھی نہیں کہ وہ بالکل اکیلے تھے۔ لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور کمیشن کا پورا عملہ ان کے ہمراہ رہا۔ یہ ضروری بھی تھا۔ ان لوگوں نے وزیراعظم کی واپسی پر انہیں رخصت بھی کیا۔ وزیراعظم نے لندن میں کہا کہ وہ ایک روز کی رخصت لے کر نجی کام کے لیے لندن آئے ہیں، رات کو واپس چلے جائیں گے۔ تاہم وزیراعظم کے سپیشل سیکرٹری فواد احمد فواد سمیت لندن جانے والے دوسرے افراد یہ وضاحت نہیں کرسکے کہ جب ان سب کے قائد نوازشریف تین دن کے بعد پاکستان آرہے تھے تو ان سب کی اچانک لندن کی طرف بھاگ دوڑ کا مقصد کیا تھا؟ ٭جہاں تک مختلف تبصرے اور تجزیے بتا رہے ہیں، یہ بات خاص طورپرسامنے آئی ہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کی سیاست میں مریم نواز اور حمزہ شہباز کا رول ختم ہوگیاہے۔ اب سیاسی منظر نامہ خود میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کی ہدایات کے تحت تشکیل پائے گا۔ مریم نواز لندن چلی جائیں گی۔ایک اہم فیصلہ یہ بھی ہوا ہے کہ 2018ء کے انتخابات تک اب کسی ادارے کے خلاف تیز گوئی اور تازہ گوئی کی بجائے اعتدال ، احتیاط اور بردباری سے کام لیاجائے گا۔ ساری توجہ انتخابات جیتنے پر مرکوز رہے گی اور پھر سے برسراقتدار آکر آئین میں ترامیم کے ذریعے میاں نواز شریف کو دوبارہ ایوان اقتدار کا سربراہ بنانے کی تدابیر اختیار کی جائے گی ۔ میڈیا میں ان باتوں کی گونج ابھی شروع ہوئی تھی کہ میاں صاحب کا پھر بیان آگیا '' مجھے کیوں نکالا؟''۔ پھر اقامہ کا ذکر شروع ہوگیا۔ بہرحال ان کا اپنا اعلان ہے کہ3نومبر کو وہ احتساب عدالت میں پیش ہوں گے ۔ وہ پہلے روز45 گاڑیوں کے ساتھ پھر30گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ آئے تھے۔ اب پتہ نہیں کتنی گاڑیاں ہوں گی؟ یہ صحافی لوگ بھی عجیب ہیں، گاڑیاں گننے بیٹھ جاتے ہیں! ٭دوسری خبریں بعد میں! پشاور کی ایک خبر پڑھ کر رقت سی طاری ہو رہی ہے۔ خبر یہ ہے کہ پشاور کے قومی حلقے این اے 2پلوسی کے ضمنی انتخاب کے جلسے میں پیپلزپارٹی کے امید وار 'سابق وفاقی وزیر ارباب عالم گیر' نے کہا تم لوگ مجھے ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ میں نے اس علاقے میں نے اربوں کے کام کرائے،چار ہزار افراد کو نوکریاں دلائیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، میرا مخالف80 ہزار ووٹ لے گیااور میں رہ گیا! آ ج وہ 80 ہزار والا کہاں ہے؟ ان الفاظ کے ساتھ ہی وہ زار وقطار رونے لگے۔ اس دلگداز تقریر پر ممکن ہے حاضرین کی آنکھوں میں بھی آنسو امڈآئے ہوں! سیاست بھی کتنی بے رحم ہے! سرعام رُلا دیتی ہے! ویسے اربا ب عالمگیر کی یہ بات تو جہ طلب ہے کہ میں اگر50 ہزار ووٹوں کے ساتھ اسمبلی کارکن بن گیا تو وزیراعظم بن سکتا ہوں۔ ووٹ نہ ملے تو مجھے بہت فرق پڑے گا! مگر مسئلہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی اب کتنی باقی رہ گئی ہے؟ حلقہ نمبر1 میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں میں سے 13ہزار ووٹ ملے تھے، مشکل سے ضمانت بچی تھی!لاہور میں صرف1414ووٹ ہاتھ آئے تھے۔ ٭مظفر گڑھ: جمشید دستی ایم این اے نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں90 فیصد ڈاکواورچور بیٹھے ہیں۔ جمشید دستی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ خود کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ ویسے قومی اسمبلی کو چوروں کی اسمبلی تو عمران خاں بھی قرار دے چکے ہیں تاہم اس اعلان کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سمیت بھاگتے ہوئے پھر اسی اسمبلی میں انہی لوگوں کے ساتھ آ بیٹھے تھے!

٭ میانوالی سے محترم ابرارحسین نے یاد دلایا ہے کہ گزشتہ روز،30 اکتوبر کو معروف استاد، ادیب،کامپئر اور مزاح گوفن کار دلدار پرویز بھٹی کی 23 ویں برسی خاموشی سے گزر گئی ، کسی نے اسے یاد نہ کیا۔ ابرارحسین کی یاد دہانی کا شکریہ! دلدار پرویز بھٹی واقعی یاد رکھنے والی شخصیت تھی۔ ایم اے کی کلاسوں کو انگریزی پڑھاتاتھا۔ غضب کی یاد داشت تھی۔ بے خد خوش گوار مزاح گو اور مزح نویس شخص! اخبارا ت میں دلچسپ کالم لکھتا ، محفلیں سجاتا تھا۔ ٹیلی ویژن پر برسوں تک اس کے اُردو اور پنجابی کے پروگرام ''ٹاکرا'، ''آمنا سامنا''، '' جواں فکر'' اور ''میلہ'' ملک بھر میں بے حد مقبول ہوئے۔ بہت انسان دوست، غریب پرور شخص تھا۔ اپنی برجستہ مزاح گوئی سے اس کا شمار ٹیلی ویژن کے ممتاز ترین کا مپیئروں میں ہوتاتھا۔ اس پروگرام کے ذریعے اس نے بہت سے غریب طلباء کو تعلیم، بیوہ خواتین کو سلائی مشینیں دلوائیں۔بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلوایا۔ دور دراز علاقوں سے ایسے فن کاروں، مصوروں اور شاعروں کو ٹیلی ویژن کے ذریعے روشناس کرایاجن کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھامگر ٹیلی ویژن پر آکر ملک بھر میں مشہور ہوگئے۔ نہائت برجستہ گو شخص تھا۔ جس محفل میں ہوتااسے خوش گوار بنادیتا۔ عمران خاں نے کینسر کے شوکت خانم ہسپتال کے قیام کی تحریک چلائی تو اس کے لیے عمران خاں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔عمران خاں ہسپتال کے چندہ کے لیے اسے اپنے ساتھ نیو یارک لے گیا۔ وہاں30اکتوبر 1994ء دلدار بھٹی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ اس پر دل کا دورہ پڑا، دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ عمران خاں کا کوئی اتاپتا نہیں تھا۔ کچھ افراد نے دلدار بھٹی کا تابوت تیار کیا۔ لاہور میں اتنا بڑا جنازہ کسی فن کار کا نہیں ہوا۔ اس میں شریک ہونے کے لیے پشاور، ملتان مردان، صوابی اور دوسرے شہروں سے بہت سے لوگ آئے جنہیں کسی نہ کسی شکل میں دلدار بھٹی نے کوئی آسودگی فراہم کی تھی۔ لو ڈشیڈنگ کے اندھیرے میں جناز ہ ہوا۔ بڑے بڑے وزرائ،حکام ،افسر بھی شریک ہوئے۔ عمران خاں یہاں بھی موجود نہیں تھا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved