مضاربت سیکنڈل! جسٹس (ر) جاوید اقبال کے لئے چیلنج
  2  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

عزت مآب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی چیئرمین نیب کی حیثیت سے تعیناتی ''نیب'' کی کھوئی ہوئی سکھ بحال کرنے میں کس حد تک ممد اور معاون ثابت ہوگی اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی ہوگا … سردست عوام اسی پر خوش ہیں کہ … ایک ساکھ سے محروم ادارے کی یعنی ''نیب'' سربراہی جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قبول فرمالی۔ جہاں تک جسٹس (ر) جاوید اقبال کی اپنی شخصیت کا تعلق ہے تو ان کی شخصیت پر تو دیانت داری' اخلاص'کسی بھی دبائو کے سامنے نہ جھکنا اور عدل و انصاف کے دامن کو نہ چھوڑنے کی گہری چھاپ لگی ہوئی ہے … جس کی وجہ سے لوگوں نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ ان کے حوالے سے نیب ذرائع بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے نیب کا چارج سنبھالا تو سب سے پہلے نیب ہیڈ کوارٹر کے سینئر افسران کو اکٹھا کرکے کہا کہ ''آج سے میں اپنے دفتر میں چائے ' پانی اور کھانے کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کروں گا۔'' ورنہ ''نیب'' کے حوالے سے زیرگردش دیومالائی داستانیں سن سن کر تو عوام کے کان پک چکے تھے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ ستائیس سو سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی کروانا ہے … وہ چونکہ لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں اس لئے انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جس طرح سے بے پناہ کوششیں کیں یہ انہی کا طرہ امتیاز ہے … ستائیس سو سے زائد لاپتہ افراد کو بازیاب کروا کر ان کے خاندانوں کے ساتھ ملانا' یہ وہ عظیم نیکی ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں چکایا ہی نہیں جاسکتا ` یہی وجہ ہے کہ لاپتہ افراد کے ورثاء انہیں اپنا نجات ہندہ خیال کرتے ہیں ۔ کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جسٹس (ر) جاوید اقبال جب یہ کہتے ہیں کہ ''قومی احتساب بیورو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوئی کسرنہ اٹھارکھے گا … بدعنوان افرادکو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے میرٹ' شفافیت اورقانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں ان کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کیے جائیں گے تاکہ ان سے ملک کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے'' کہا جاتا ہے کہ چیئرمین نیب بدعنوانی کو ایک ناسور سمجھتے ہیں' جس کے خاتمے کے لئے وہ زیروٹالرنس کی پالیسی اپنانے کے قائل ہیں' چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی دیانت دار اور کرشماتی شخصیت کی توجہ یہ خاکسار مضاربت اور کاروباری مشارکت کے ایک سیکنڈل کی طرف مبذول کروانا چاہتاہے … یہ ایک ایسا خوفناک مالیاتی سیکنڈل ہے کہ جس میں نہ صرف یہ کہ ''اسلامی'' مضاربت کے نام پر معصوم لوگوں کے ساتھ اربوں روپے کا فراڈ کیا گیا… بلکہ یہ فراڈ کرنے والے فراڈیوں نے … داڑھی ' پگڑی' مسجد اور مدرسے کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی ' اس سیکنڈل میں تقریباً90 فیصد مذہبی لوگوں کو لوٹا گیا … ان لٹنے والوں میں اکثریت ان کی تھی کہ جو بنکوں کے سودی نظام کے خلاف تھے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ مضاربت سیکنڈل میں ملوث ''علماء نما'' فراڈیئے نہ صرف یہ کہ جید علماء کرام کا نام استعمال کرتے رہے … بلکہ اپنے ''فراڈ'' کو دوام بخشنے کے لئے جعلی فتوئوں کا سہارا بھی لیتے رہے … حالانکہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان مرحوم سے لے کر جسٹس (ر) مفتی نقی عثمانی تک نے مضاربت اور کاروبار ی مشارکت کے … کاروبار سے نہ صرف اظہار لاتعلقی کیا بلکہ اس کو مسترد کرتے ہوئے … لوگوں کو اس سے بچنے کی تلقین بھی کی ' یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس فراڈ میںملوث فراڈیوں نے … مذہبی لبادہ اوڑھ کر مذہب سے محبت کرنے والے افراد کو معاشی طور پر بالکل تباہ کرکے رکھ دیا' الیگزر گروپ کے مفتی اسامہ' عمر لالیکا' سہیل چوہدری' مولوی عبدالخالق' سپیڈکس گروپ کے مفتی احسان الحق اور اس کے ساتھی … کراچی میں مردان کے رہائشی شفیق الرحمن ولد شیر بہادر' زید شاہان صدیقی المعروف سیٹھ میمن ڈیفنس والا' راولپنڈی میں میزبان سٹور کا مالک غلام رسول ایوبی' دائود ٹریڈرز کے نام سے ایک چھوٹی سی دوکان سے کام شروع کرنے والا … مولوی عبد اللہ عباسی' کراچی میں سن لینڈ کیئر کراپس کے نام سے کمپنی بناکر …راولپنڈی اور مانسہرہ تک عوام کو ان کی جمع پونچی سے محروم کرنے والے سید اظہر شاہ شیرازی' شاہ عبد الرحیم' شاہ رفیع الدین' احسان شاہ شیرازی' شاہ عبد القادر اور مفتی سیف الرحمن وغیرہ ان میں سے کچھ فراڈیئے ''ملاں'' گرفتار ہیں … اور بہت سے ایسے ہیں کہ جو ملک سے فرار ہوکر دبئی' ملائیشیا یا پھر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ یہ تو صرف چند نام ہیں … بہت سے نام تو ایسے ہیں کہ جو بھی تک منظر عام پر ہی نہیں آسکے… اگر جسٹس (ر) جاوید اقبال مضاربہ سیکنڈل کی طرف بھی توجہ دیںکہ ان کے ادارے ''نیب'' نے عوام کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کروانے کیلئے اب تک کیا کیا؟ اور یہ بھی کہ جو ''مولوی نما'' لٹیرے گرفتار ہیں' انہیں ملنے والی سزائیں کیا میرٹ کے مطابق ہیں … یا پھر وہاں بھی قانون کو نظرانداز کیا گیا؟

اطلاعات کے مطابق … بعض لٹیرے ایسے بھی ہیں کہ جس کے پاس کروڑوں کی جائیدادیں اب بھی ہیں … لیکن انہوں نے وہ جائیدادیں اپنے بیوی بچوں یا مدرسے کے نام پر ٹرسٹ بناکر منتقل کر رکھی ہیں … وہ جیلوں میں بیٹھ کر بھی گلچھرے اڑاتے ہیں … اور متاثرین کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم چند سال کی قید تو بھگت لیں گے مگرنہ نیب کو اور نہ تمہیں ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے۔ عزت مآب جسٹس (ر) جاوید اقبال اسلامی مضاربت کی آڑ میں … عوام کو اربوں روپے سے محروم کرنے والے ان فراڈیوں کو نمونہ عبرت بنانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر کسی کو ''اسلام'' کے نام پر لوٹ مار کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved