کوئے یار سے سُوئے دار تک
  2  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭طبل بج گیا، نقارے پر چوٹ پڑ گئی، پرانے کھاتے پھرکھُل گئے۔ کیا میاں! کیا زرداری! کیا چودھری! کیاڈار! کیامیمن ! کیاوہرہ اور کیاقائم خانی! عدالتوں میں حاضریاں، اثاثے ضبط، حاضری کے اشتہارات ، گرفتاری کے وارنٹ! سب بالانشیںفرش پر ! علامہ اقبال بہت پہلے فرما گئے تھے '' حَذَراے چِیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!'' ۔ کہاں کوئے یار کی خَرمستیاں! اورآج '' اُٹھئے کہ بس اب لذّتِ خوابِ سحر گئی!'' اونچے ایوانوں والے چھُپتے پھررہے ہیں، کوئی لندن میں، کوئی دبئی ، کوئی امریکہ میں! ملک کے اندر اور باہر بھاری اثاثوں پر بیٹھے ہوئے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن نیچے اترناپڑے گا۔ پانچ حکومتوں کی شہ سواری اور45گاڑیوں کے پروٹوکول کے باوجودعدالت کے کٹہرے میں اکیلے کھڑے!! عبرت! عبرت! ٭اور… اور چودھری برادرز ! شریف خاندان کے خلاف کتنا تیز بولتے تھے، ان کے خوفناک انجام کی پیش گوئیاں کرتے چلے جارہے تھے مگر گزشتہ روزاپنا بلاوا آ گیا کہ6نومبر کونیب کے روبرو پیش ہوکر بتایاجائے کہ جائز آمدنی کے مقابلے میں298ارب( دوکھرب 98 ارب) کے زائد اثاثے کس طرح بن گئے؟ انٹرنیٹ کیا بتارہاہے؟ کہ چودھری شجاعت حسین کا شمار ملک کے امیر ترین افراد میں ہوتاہے، بے شمار ملیں اور بینکوں میں لاکھوں کروڑوں کی نقدی! الامان! یہ توپھر71سال کے سینئر شہری ہیں ادھر شریف خاندان کا ایک نوجوان حسین نواز ملک کے اندر دس بڑی ملوں میں مرکزی حصے دار، بیرون ملک سٹیل ملز اور دوسرے اثاثوں کا ذکر ابھی آنا ہے۔ چھوٹا حسن نواز ملک میں دو ملوں اور لندن میں سات ارب مالیت کے محل کا مالک! لندن میں شریف خاندان کے فلیٹس اور مانچسٹر اور لندن کے ٹریفالگر سکوائر میں پلازے، جہانگیر ترین کالندن میں کئی ایکڑ پرمحل نما بنگلہ، رحمان ملک کی لندن میں چھ کمپنیاں ، آصف زرداری کے پاکستان اورملکوں ملکوں پھیلے محلات، کاروبار، فارموں اور پلازوں کے87 اثاثے، اعظم سواتی کی ملائیشیا میں اربوں کی سرمایہ کاری، سپین میں چودھری پرویزالٰہی کی 52 ارب کی سرمایہ کاری!! عمران خاں کاکسی آمدنی کے بغیر بنی گالہ میں300 کنال کا محل ، اسحاق ڈار کے دبئی میں اربوں کے شوروم اور دوسرے اثاثے ! فاروق ستار کی اولاد پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کوہتک سمجھتی ہے اور شرجیل میمن! صرف گھرسے دو ارب کی نقدی برآمد ہوئی…اور کیااسیری ہے! جیل میں وی آئی پی والاایئر کنڈیشنڈ ، ہرقسم کے عیش و عشرت والا اعلیٰ وارڈ، طبیعت گھبرائی تو شہر میں وی آئی پی وارڈ والے ہسپتال میں آرام فرما یا جارہاہے!! ٭مگر! یہ سب کچھ اپنی جگہ اور3 نومبر کو نواز شریف، 6 نومبرکوچودھری برادران اور 8نومبر کو حسین نواز اور حسن نواز کی عدالتوں میں حاضریاں! اسحاق ڈار کے دونوں بیٹوں کو عدالت نے اسلام آباد بلایا! والد صاحب نے لندن جاکر وہاں بلالیا…! باقی کون رہ گیا؟ سب کے سب کوئے یار سے سُوئے دار کی طرف رواں دواں! کل عرش پر آج فرش پر! مکافات عمل! یونان سے ہندوستان تک ملک فتح کرتا ہوئے سکندراعظم کا ہندوستان میں انتقال ہوا۔ اس نے ساتھیوں کو تلقین کی کہ میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر رکھے جائیں کہ دنیا جان لے سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے اور ہاتھ خالی جاتے ہیں! ٭کیا عالم ہے کہ سابق وزیراعظم کی اب بھی پانچ حکومتوں پر بالادستی ہے مگر دونوں بیٹوں کے کل اثاثے ضبط ہوگئے ہیں، دونوں اگرمقررہ تاریخ پر عدالت میں (8نومبر) حاضر نہیں ہوتے تو ان اثاثوں کی قرقی شرو ع ہو جائے گی، وفاق، پنجاب، بلوچستان، گلگت ، آزادکشمیر کی پانچ حکومتوں کی حکمرانی بھی کچھ نہیں کرسکے گی۔ دریں اثناء وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ اوردونوں بیٹوں کو بھی عدالت میں طلب کرلیاگیاہے۔ انسان کتنی ہی ڈینگیں مارے، کتنے ہی تکبر کا اظہار کرے مگر بے بسی اور بے کسی کا یہ عالم!! عبرت! ٭دوسری باتوں سے پہلے ایک عوامی مسئلہ: ٹیلی ویژن پر پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر، شیری رحمان اور تحریک انصاف کے شفقت محمود ایک جیسا مسئلہ بتا رہے کہ محکمہ بجلی والوں نے عوام کو لوٹنے کاظالمانہ طریقہ اپنا لیا ہے کہ لوگوں کو بجلی کے بل ادائیگی کی مہینے کے آخری دنوں میں آخری تاریخ سے ایک روز پہلے بھیجتے ہیں۔ عام لوگوں کے لیے ایک دن کے اندر بھاری ادائیگی ممکن نہیں ہوتی اس پر انہیں اگلی بار بھاری جرمانہ بھی دینا پڑتا ہے۔ شفقت محمود کہہ رہے ہیں کہ انہیں ہمیشہ صرف ایک دن پہلے بل آتا ہے۔ اسے اگلے روز لازمی جمع کرانا پڑتا ہے۔ عوام کو لوٹنے کا یہ عمل تو چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کوبھی نہ سوجھا ہوگا!مگر جب سب سے اوپر لوٹ مار کی میراتھن دوڑ ہورہی ہوتو اس میں نچلا عملہ کیسے دور رہ سکتا ہے؟ مجھے خود پچھلے ماہ بالکل آخری تاریخ کے روز سوئی گیس کا بل گیارہ بجے موصول ہوا۔ ادائیگی میں صرف چار گھٹنے باقی تھے۔ میں نے انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ کمپنی نے ایک نجی کمپنی کو بھاری ٹھیکے پر یہ کام دیا ہواہے۔ اس کے کارندے بروقت کام نہیں کرتے۔ سوئی گیس نجی ادارہ ہے ، اس نے تو سخت نوٹس لے لیا مگر واپڈا تو سرکاری سفید ہاتھی ہے۔ اپنی نااہلی سے ہونے والے اربوں کے نقصانات غریب عوام کے بلوں میں شامل کردیئے جاتے ہیں۔ ان بلوں میں سب سے کم دیکھے جانے والے سرکاری ٹیلی ویژن 'پی ٹی وی' کی پانچ ارب روپے کی تنخواہیں بھی شامل ہوتی ہیں(قارئین آپ نے کبھی پی ٹی وی دیکھاہے؟)۔اچھی بات ہے کہ یہ سنگین مسئلہ سیاسی رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر اٹھایا ہے! شائد سفید ہاتھی تک بات پہنچ جائے!

٭پنجاب یونیورسٹی کا ایک المناک واقعہ! صوبائی وزیر تعلیم نے وائس چانسلر کو کچھ عزیز واقارب کے یونیورسٹی میں داخلے کی سفارش کی ( وائس چانسلر کابیان) وائس چانسلر ڈاکٹر معین ظفر سخت آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کے بغیر کوئی داخلہ نہیں ہوسکتا۔ وزیر تعلیم کو غصہ آگیا۔یونیورسٹی میں جاکروائس چانسلر کے خلاف کھلی کچہری لگادی۔ وائس چانسلر کو اطلاع ملی۔ وہ بھی آ کر بیٹھ گئے۔ وزیر تعلیم نے انہیں وہاں سے نکال دیااور ان کے خلاف بعض اساتذہ کی شکایات نوٹ کرکے دھمکیاں دیتاہواچلاگیا۔ وائس چانسلر فی الحال قائم مقام ہیں( بیشتر یونیورسٹیوں میں کوئی مستقل وائس چانسلر نہیں) مگران کے ساتھ یہ توہین آمیز رویہ! استغفار! مجھے معلوم نہیں وزیر تعلیم کی کیا قابلیت ہے اور یونیورسٹیوں کے بارے میں کیا اختیارات ہیں؟وائس چانسلر تو بڑی بات ہے جرمنی بلکہ دنیا بھرکے مہذب ملکوں میں کوئی استاد سڑک پر جارہا ہو تو ملک کا صدر اور وزیراعظم بھی اس کی گاڑی سے آگے گاڑی نہیں لے جاسکتا اور یہاں؟ ایف اے پاس گورنر مصطفےٰ کھر اور پھر میٹرک پاس وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں اپنے اپنے دور میں آئین کے مطابق یونیورسٹیوں کے چانسلر بنے ہوئے تھے اور وائس چانسلروں کو احکام جاری کیا کرتے تھے۔ اور اب ایک وزیر تعلیم ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے اندر جاکر وائس چانسلر کے خلاف کھلی کچہری لگالیتاہے ! استغفر اللہ! قائداعظم اور اقبال جیسے عظیم لوگوں کا یہ عظیم ملک کن چھچھورے، اوچھے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved