کیاوزیراعظم، جونیجوبننے جارہے ہیں؟
  3  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کیا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی محمد خان جونیجو بننے جارہے ہیں ؟ ہیتھرو ایئر پورٹ پر جب وزیر اعظم نے پروٹوکول نہیں لیا ہوگا تو نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو تکلیف اور دکھ تو ہوا ہوگا ،ان کے ضمیر نے ندامت تو محسوس کی ہوگی کہ جسے انہوں نے اپنا منصب سونپا وہ ان کی شاہانہ روایات کو روندتا ہوا برطانیہ کی سرزمین پر فروکش ہوا ،اس نے تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا ،اپنے قائد کی روایت توڑدی ،وہ ہر وقت سازش کی رٹ بھی لگاتا ہے ،مگر یہ نہیں بتاتا کہ کہ سازش کون کر رہا ہے !مسلم لیگ( ن) کے اندر ہورہی ہے یا لندن میں بیٹھے لوگ اس سازش کا جال بن رہے ہیں ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کے بہت سارے چہیتوں کو درخوراعتنا نہیں گردانا ،اور تو اور ان کے سمدھی اسحق ڈار سے ساری کمیٹیوں کی سربراہی چھین لی ۔آمر ضیاء الحق نے پیر پگاڑا کی خصوصی شفقت پر سندھڑی کے محمد خان جونیجو کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا ۔ 23مارچ 1985ء میں جونیجو نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی پارلیمنٹ کے سے پہلے خطاب ہی میں فرطِ جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے یہ عندیہ دیدیا کہ''سول حکومت اور مار شل لاء ایک ساتھ نہیں چل سکتے'' ایک پل کو پورے ایوان پر سکتہ طاری ہو گیا ، بہرحال تیر کمان سے نکلا اور آمر کے سینے میں کھب گیا ،مگر وہ بھی ایک شاطر حکمران تھا اس نے کسی کو محسوس تک نہیں ہونے دیا ،بات دل میں رکھ لی ۔اپنے اس خطاب میں وزیر اعظم نے اپنے پانچ نکاتی منشور کا اعلان بھی کر دیا۔ ١۔نظریاتی بنیادپرایک مستحکم اسلامی جمہوری سیاسی نظام قائم کیا جائے گا۔٢۔ملک سے بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے انصاف پر مشتمل اقتصادی نظام رائج کیاجائے گا۔٣۔ملک کو بدعنوانیوں سے پاک کرکے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔٤۔ناخواندگی کو دور کرکے قوم کو جدید سائنسی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ٥۔مضبوط دفاع اور غیرجانبدار ،متوازن خارجہ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ۔ یہ سب وزیر اعظم جونیجو نے آمر ضیاء سے مشورہ کے بغیر جذبات کی لے میں کہہ دیا ،پھر چند ہی دن بعد یعنی1985ء کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک بڑے جلسے سے خطاب کے دوران دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان کر دیا کہ ''1985 ء کا سال ختم ہونے سے پہلے مارشل لاء اٹھا لیا جائے گا اور اسلامی جمہوریت قائم کی جائے گی ،پاکستان اس لئے نہیں بنا کہ اس میں مارشل لاء نافذ رہے''اس پر بس نہیں کیا بلکہ کراچی میں ایک وفد سے ملاقات میں یہ تک کہہ دیا کہ''قانون سازی اب اسمبلیاں کرینگی ،اب آرڈیننس جاری نہیں ہوسکتے '' حالات کے یہی تیور تھے جنہیں محسوس کرتے ہوئے آمر نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو اسمبلی میں ایک جماعت بنانے کا واضح اشارہ دیا اور 18 جنوری1986 ء میں سرکاری مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور جونیجو اس کے صدر منتخب کر لئے گئے ،نواز شریف کو سرکاری مسلم لیگ پنجاب کا صدر بنایا گیا۔ سرکاری مسلم لیگ بنائے جانے کے بعد وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کابینہ بھی نئی تشکیل دی جس میں آمر کے چہیتے وزرا ء ڈاکٹر اسد ،ظفراللہ جمالی اور ڈاکٹر محبوب الحق کو شامل کرنا ضروری نہ سمجھا ،اسی رنجش کی وجہ سے جنر ل اور جونیجو کے درمیان فاصلے اور بڑھ گئے ،تاہم بعض بزرگ مسلم لیگیوں کے بیچ آجانے سے ڈاکٹر محبوب الحق کوجونیجو کابینہ میں شامل کر لیا گیا ۔ محمد خان جونیجو جو ''صرف پروٹوکول، جھنڈے ،تنخواہ اور وزارت عظمیٰ کے ٹائیٹل کے لئے وزیر اعظم بنائے گئے تھے خود کو حقیقی وزیر اعظم سمجھ بیٹھے'' چنانچہ 29 مئی 1988ء کو جب چین ،جنوبی کوریا،فلپائن اور ہانگ کانگ کا دورہ کرکے ملک پہنچے تو واپسی پر ایئر پورٹ پر صحافیوں سے خطاب کے دوران انہیں یہ حکم نامہ موصول ہوا کہ'' وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے سبکدوش کر دیئے گئے ہیں ''وہ وزیر اعظم جو اپنی راج دھانی کے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف کے خلاف مالی بدعنوانیوں کے واضح اور سنگین ثبوت رکھنے کے باوجود کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا تھاکہ آمر ضیا اس کے سر کا سائبان تھا ،جس نے جونیجو حکومت تحلیل کرنے کے بعد بھی نواز شریف ہی کو صوبے کے وزیر اعلیٰ کا قلمدان سونپ دیا ۔

آج وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اپنے تفویض کئے گئے اختیارات سے روگردانی کے مرتکب ہونے لگے ہیں ،پہلے انہوں نے کابینہ بناتے ہوئے سرتابی کی ،پھر نااہل وزیر اعظم کے لٹیرے اور خائن سمدھی کو اوقات یاد دلائی اور اب بار بارٹیکنوکریٹس حکومت کی بات کرکے نواز شریف کے دل میں ہول اور مسلم لیگ ن میں سراسیمگی پھیلانے کے مرتکب ہورہے ہیں ، اب دو ہی باتیں ہیں یاتو مفاہمت کی کوئی ناگہانی صورت حال پیدا ہو اور وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کو جونیجو بنا دیا جائے ،یا پھر مسلم لیگ (ن) کسی بڑی خوش گمانی میں مبتلا ہے ،وہ یہ باور ہی نہیں کر رہی یہ نہ تو بیسویں صدی ہے نہ آمریت جو مسلم لیگ کو گود لے لے گی ،بادل نخواستہ پیدا کی گئی کوئی بھی صورت حال مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کاانگ انگ سچ ثابت کر دے گی۔یہ جو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی لندن گئے ،اس لئے نہیں کہ نواز شریف کو یہ کہنے کہ''مائی باپ پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے اپنا منصب آپ سنبھالیں ،میرے گلے سے یہ طوق اتاریں''بلکہ بین السطور انہیں یہ پیغام پہنچانے گئے کہ حضور اپنے ملک کی اعلیٰ عدالت کے فیصلوں پر صاد کریں ،آپ ٹھہرے شاہانہ مزاج اب ملک کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو پرٹوکول کے رسیا نہ ہوں ،جو آگے پیچھے پچاس گاڑیوں کا ''کریو'' لیکر چلنے کی بجائے اپنا سوٹ کیس خود اٹھائے ایئر پورٹ سے باہر آئیں ،قوم اب اللوں تللوں کو سہارنے سے رہی۔۔!!!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved