یونیورسٹیاں پاکستان کو مہذب بنا سکتی ہیں
  3  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

نوجوان طالب علموں کے چہرے تمتما رہے ہیں۔ ان کی پیشانیوں پر عزم کی چمک ہے۔ وہ سب اپنی قومی زبان اردو کی محبت میں دور دراز گھروں سے ہوٹل میں آرہے ہیں۔ جہاں نوجوانوں میں قومی زبان کے فروغ کا منصوبہ۔ اپنا پہلا مرحلہ طے کرنے والا ہے۔ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا: نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی مٹی بڑی زرخیز ہے۔ لیکن نم کی فکر بہت کم ہم وطنوں کو ہے۔ حکمرانوں کو تو بالکل نہیں ہے۔ اگر نم میسر بھی آجائے تو وہ اپنے بیٹوں بیٹیوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ اپنے خاندان کو سمدھیوں کے خاندانوں کو سیراب کرتے ہیں۔ وہ جن کے ووٹ سے وہ محلّات تک پہنچتے ہیں۔ ان کی جڑیں سوکھتی رہیں۔ انہیں پروا نہیں ہے۔ ووٹ لینے والوں کے بچے لندن' دوبئی' نیویارک کے اعلیٰ اسپتالوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ووٹ دینے والوں کے بچے سڑکوں پر جنم لیتے ہیں۔ پیدائش سے لے کر لڑکپن' جوانی' بڑھاپا یہ سڑکوں پر ہی نظر آتے ہیں۔ بالآخر جب اجل کا نقارہ بجتا ہے۔ تب بھی یہ سڑک پر ہی ملتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ہمارے مسائل کا اصل سبب یہ ہے کہ حکمرانوں میں سوچ کا فقدان ہے۔ ان کا کوئی وژن نہیں ہے۔ سوچ ہی ہے جو ملکوں کو ترقی کی جانب لے کر جاتی ہے۔ سوچ نے ہی جمہوریت کو جنم دیا۔ لکھنے کے لیے بھی سوچنا ضروری ہے۔ یہ سب نوجوان طالب علم' بیٹے بیٹیاں' مضمون نویسی میں مقابلے کے شرکا ہیں۔ انہیں موضوع دیا گیا تھا۔ ''یونیورسٹیاں پاکستان کو مہذب ملک بنانے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔'' اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ پاکستان ابھی مہذب ملک نہیں ہے۔ لیکن مہذب ملکوں کی بہت سی صفات سے محروم ہے۔ ایک افراتفری ہے۔ تعلیم بک رہی ہے۔ علاج معالجہ فروخت ہورہا ہے۔ اکثریت کو اچھی تعلیم میسر نہیں ہے۔ نصاب یکساں نہیں ہے۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھائی کا معیار گر رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر اپنے کلینک یا اسپتال آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دوائیاں باہر سے خرید کر لانا پڑتی ہیں۔ اردو کے مقبول شاعر ' سائنس کے استاد' کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اب ضیاء الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر پیرزادہ قاسم صدیقی کہہ رہے ہیں یہ نوجوان بہت پرعزم ہیں۔ ان کے ذہنوں میں بہت توانائی ہے۔ یہ توجہ چاہتے ہیں۔ محبت کی تمنا رکھتے ہیں۔ ہم ان سے رشتہ جوڑیں گے تو ان کی صلاحیتیں جلا پائیں گی۔ ان کے جواہر سامنے آئیں گے۔ مضمون نگاری کے چند شرکائے مقابلہ اپنے مضمونوں میں سے منتخب اقتباسات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان میں کمال کا اعتماد ہے۔ درست تلفظ لکھنا ہی نہیں بولنا بھی جانتے ہیں۔ جن نوجوانوں میں انشا پردازی اور خطابت دونوں جمع ہوجائیں۔ وہ ملک کے لیے کتنے کارآمد ہوں گے۔ اقبال کی طرح ہم بھی ناامید نہیں ہیں مضمون لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بہت سی کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں۔ حوالے دیکھنا ہوتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے اعداد و شمار بھی جانچنے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں کیا پڑھایا جارہا ہے۔ وہاں غیر نصابی سرگرمیاں کیا ہیں ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کرکے وہ اپنی قوم کی مثبت خدمت انجام دے سکیں گے کہ نہیں۔ کراچی میں جاپان کے قونصل جنرل ایسو مورا بہت روانی سے اردو بولتے ہیں۔ وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جاپان میں سارے کام مادری زبان میں ہوتے ہیں۔ اسی لیے جاپان ترقی کر رہا ہے۔ اردو بہت عمدہ زبان ہے۔ اس کی ترقی کے لیے مضمون نویسی کا مقابلہ بہت فائدہ مند ہوگا۔ مقابلے میں مضامین ملک بھر سے آئے ہیں۔ ان کی جانچ پڑتال کرنے والے بھی نامور استاد ہیں۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد۔ بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرتے ہیں۔ کئی سال کراچی یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈیز مرکز کے ڈائریکٹر رہے ہیں کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ پروفیسر فرحت عظیم کی سیرت پر کتابیں ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کی پرنسپل رہی ہیں۔ پروفیسر انجینئر جمال نقوی' ترقی پسند ہیں۔ ان کی کئی کتابیں مقبول خاص و عام ہوچکی ہیں۔ یہ جج مضمون نگاری کے سلسلے میں مشورے دے رہے ہیں۔تمہید بھی ہونی چاہیے' دلائل بھی ' لیکن تحریر اور تقریر میں فرق رہنا چاہیے۔ تقریر میں جذباتیت ہوتی ہے' تحریر میں نہیں۔ میں نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔ سچ جانیے میں بہت خوش ہوں مطمئن ہوں کہ نوجوانوں میں قومی زبان سے لگن پیدا کرنے کا پہلا مرحلہ آج طے ہورہا ہے۔ وقت نے ٹیکنالوجی نے خاص طور پر موبائل فونوں نے باقاعدہ لکھنے سے بہت دور کردیا ہے۔ کی پیڈ پر انگلیاں بلکہ انگلی چلتی ہے۔ دوستوں دشمنوں سے رابطہ ہوجاتا ہے۔ پھر لوح و قلم کی کیا ضرورت۔ سیاستدان بھی بیان جاری کرنے کی بجائے ایک ٹویٹ کرکے فارغ ہوجاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر بھی ٹوئٹ کرتا ہے۔ ٹویٹ واپس بھی لے لیتا ہے۔ یہ الیکٹرانک میڈیا۔ خدا کی پناہ۔ سب کچھ بولا جارہا ہے۔ بولنے کے ہی لاکھوں مل رہے ہیں۔ شہرت نصیب ہورہی ہے۔ اینکر پرسنز آج سب سے بڑی Celebret ہیں۔ فلمی ہیرو۔ ہیروئنیں پیچھے چلی گئی ہیں۔ علمائے کرام کو کوئی نہیں پہچانتا۔ سوائے مولانا طارق جمیل کے۔ بے چارے اساتذہ' ادیب' شاعر' پی ایچ ڈی' سب گمنامی کے گوشوں میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ بزرگ کہتے تھے پہلے تولو۔ پھر بولو۔ آج کل یہ ہے کہ پہلے بولو۔ پھر بھگتو۔ وضاحتیں کرتے پھرو۔ اردو کی زلفیں بکھرنا چاہتی ہیں۔ کسی کندھے کی تلاش ہے۔ یہ شمع کسی پروانے کے دل جلانے کی منتظر ہے۔

یہ نوجوان اردو کی زلفوں کو شانے فراہم کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے مضمون لکھنے کے لیے کئی راتیں جاگی ہیں۔ کتابیں پڑھی ہیں۔ لائبریریوں سے رجوع کیا ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی برسی کے موقع پر شروع کیا گیا یہ مقابلہ آج اختتام کو پہنچا۔ اوّل انعام گرین اچ یونیورسٹی کراچی کے سید شہاب الدین سہروردی نے حاصل کیا۔ جمشید ترین گولڈ میڈل اور ایک لاکھ روپے۔ دوسرا انعام رائز گروپ آف کالجز کے محمد حنان صدیقی نے پچاس ہزار روپے نقد۔ تیسرا انعام جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی کی صائمہ اخلاق نے 30 ہزار روپے نقد۔ نوجوانوں کے چہروں پر چمک دیکھ کر مجھے بہت طمانیت محسوس ہورہی ہے۔ میں تو 1960 سے لکھ رہا ہوں باقاعدہ اخبارات اور ہفت روزوں میں۔ 57 سال ہوگئے ہیں۔ تحریر، خیالات کی تصویر کشی ہے۔ لکھنا، سانس لینا ہے۔ لکھنا بند تو سانس بند۔ تحریر سے ہی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ تحریر سے ہی 'اوصاف' کے صفحات جنم لیتے ہیں اور آپ تک پہنچ پاتے ہیں۔ کیا خیال ہے آپ کا یونیورسٹیاں پاکستان کو مہذب ملک بنانے میں کردار ادا کررہی ہیں یا نہیں۔ ایس ایم ایس کیجیے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved