پاکستانی سیاست میں اخلاقیات کا جنازہ!
  5  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا ، تو اسوقت اخلاقیات اچھی کارکردگی کی بنیاد تھی، قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر یہ تمام قائدین اچھے اخلاق، کردار اور اوصاف کی وجہ سے آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں، ان ہی کی کوششوں سے پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکا تھا، لیکن آج2017میں یا اس سے قبل سیاست دانوں کا انداز حکمرانی ناجائز دولت اکھٹا کرنے کے ساتھ ساتھ برے اخلاق کے حامل ہیں، ان عناصر نے پاکستان کے سماج کو بری طرح روندڈالا ہے، جسکی وجہ سے پاکستان کی ماضی کی ابتدائی شناخت اور اچھی طرز حکمرانی کا تصور معدوم ہوگیا ہے، کیا یہی قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بارے میں ناجائز دولت جمع کرنے کے سلسلے میں جتنے بھی اور جو بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں اگر اس میں آدھے بھی سچ پر مبنی ہیں تو انہیں قانون کی گرفت میںضرورلانا چاہئے ، عدلیہ کو بد نام کرنے کے سلسلے میں جیل میں ڈالنا چاہئے تھا، لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے اور نہ ہی نظر آرہاہے،جب یہ کرپٹ شخص لندن سے واپس پاکستان آتا ہے تو اس کا شاہانہ استقبال کیا جاتاہے، انہیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتاہے، ایسا محسوس ہوتا ہے یہ اب بھی پاکستان کا وزیراعظم ہے، حالانکہ وہ کسی بھی لحاظ سے اس پروٹوکول کا حق دار نہیں ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ امین اور صادق بھی نہیں ہے ، لیکن اسکو کسی کی پرواہ نہیں، جگ ہنسائی بھی ہورہی ہے، اور پاکستان کا مذاق بھی اڑرہاہے، پاکستانی سیاست کے گندے اور بدبودار حمام میں سب ننگے ہیں،اور گندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ وہ خاموش طبقہ جو سیاست میںاخلاقیات کا قائل ہے جس نے پاکستان کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، وہ موجودہ سیاسی حالات سے سخت افسردہ ہونے کے ساتھ ساتھ کل کے بارے میں ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں، لیکن وہ ان حالات کو بدلنے کی نہ تو طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس وسائل ہیں کہ ان حالات میں کسی قسم کی تبدیلی لاسکیں، بعض ماہرعمرانیات کا خیال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں اخلاقیات کو علیحدہ کرکے نہ تو اچھی طرز حکمرانی کا تصور کیا جاسکتاہے اور نہ ہی معاشرے میں موجود پھیلتی ہوئی بدعنوانیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے، بلکہ موجودہ طرز حکمرانی میں صرف بدعنوانیاں اور بد کردار افراد پنپ سکتے ہیں، اور پنپ رہے ہیں،یہ کتنا بڑا المیہ ہے،

چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بد کردار اور بدعنوان سیاست دانوں کے قبضے سے پاکستانی معاشرے کو آزاد کرایا جاسکتاہے؟ میراخیال یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہاہے، بلکہ پاکستان مزید تباہی سے دوچار ہوسکتاہے، کیونکہ یہاں بدکردار اور بد عنوان لوگوں کے مابین غیر مرئی اتحاد کے ذریعہ سے قانون اور آئین کا احترام اور اسکی اخلاقی طاقت کو کمزور کرکے ایک حکمت عملی کے تحت ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ اچھے کردار اور اچھی سوچ کے حامل افراد نہ تو سیاست میں آسکیں اور نہ ہی وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں، اس افسوسناک صورتحال کے پیش نظر صرف تحریک انصاف کے عمران خان سے امیدوابستہ کی جاسکتی ہے، جنہوںنے بڑی بہادری اور دلیری سے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان اور زرداری کے کرپشن کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے، ورنہ کسی میں میاں صاحب کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کرنے کی جرات نہیں تھی، باشعور عوام چاہتے ہیں کہ عمران خان کو پاکستان میں حکومت کرنے کا موقع ضرور ملنا چاہئے کیونکہ انہیں ابھی تک آزمایا نہیں گیا ہے، جب انہیں عوام کی طاقت اور ان کے ووٹ کے ذریعہ اقتدار ملے گا تو پھر پاکستان کے عوام اچھے اور برے کے درمیان واضح فرق محسوس کرسکیں گے، لیکن کیا ہمارے عوام جنکی اکثریت غربت وافلاس کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے اور بھٹک رہی ہے اور جنہیں دو وقت کی روٹی کا حصول ہر روز مشکل سے مشکل ہوتا جارہاہے، کیا وہ ناجائز دولت کے حامل افرادکو ووٹ دیں گے؟ یہ ایک اہم سوال ہے ، کیونکہ پاکستان کی سیاست میں غریبوںسے چند روپے کے عوض ووٹ خرید لیا جاتاہے، یاپھر برادری کے دبائو کے تحت ووٹ ان ہی افراد کو دیا جاتا ہے جو ناجائز دولت اور دھن کے مالک ہوتے ہیں، اس لئے یہ سوچنا کہ عمران خان بہ آسانی کرپشن کے اس دلدل کو پھلانگ کر اقتدار حاصل کرسکیں گے؟یقینا یہ مشکل کام ہے، وہ اس لئے کہ پاکستان میں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ اب پاکستانی سماج اور سیاست میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے، اچھے برے کی تمیز ختم ہوچکی ہے،آئندہ انتخابات میں انتہائی غلط ومذموم طریقہ کار استعمال کئے جائیں گے، جس میں پولیس کا کردار ابھی انتہائی منفی ہوگا، تاہم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مایوس نہیں ہونا چاہئے، وہ جس طرح عوامی جلسے کررہے ہیں عوام میں اسکے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، باشعور طبقہ کی اکثریت یہ سوچ رہی ہے کہ پاکستان میں تبدیلی کا سورج طلوع ہونے والا ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تبدیلی آکر رہے گی، پاکستان کرپشن کے ساتھ نہیں چل سکتاہے، اور نہ ہی بدعنوان سیاست دانوں جن کی سربراہی نوازشریف اور زرداری کررہے ہیں انہیں آئندہ حکومت کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے، گذشتہ تیس سالوں سے شریف خاندان پاکستان پر ناجائز طریقہ کار کو اپنا کر اقتدار پر براجمان ہے بلکہ انہوںنے ناجائز دولت کے انبار اکھٹا کرلئے ہیں، اس خاندان کو عوام کی طاقت اور ووٹ کے ذریعہ پاکستان کی سیاست سے بے دخل کرنا وقت کی ضرورت ہے، اگر ایسا نہیںہوسکا تو یہ پاکستان کی بد قسمتی اور بدنصیبی ہوگی، کیونکہ ان کرپٹ افراد سے خیر اور نیکی کی توقع عبث ہے، چورچوری سے جاتاہے ہیرا پھیری سے نہیں ، اس لئے آئندہ انتخابات میں عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کس کو اپنا قیمتی ووٹ دیں گے، ان لوگوں کو جن کو عوام آزما چکے ہیں یاپھر وہ جن کو آزمایا نہیں گیا ہے؟ ذرا سوچئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved