حقائق کو سمجھو
  5  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہم نے دنیا کو کھنگال ڈالا۔تنقید اور تعریف کے علاوہ کچھ نہ کیا۔لیکن ہمیں مقصد حیات کی پہچان نہ ہو سکی۔ہم آج تک یہ نہ سمجھ سکے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے؟ہم نے یہاں آ کر کیا کرنا تھااور کیا کیا۔ہم نے یہ بھی نہ سوچا کہ زندگی ایک انعام ہے، ایک تحفہ ہے، ایک حقیقت ہے، ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، ایک سوچ ہے اور ایک تجربہ ہے۔یہ ایک جھٹکا ہے اپنی ناپائیداری کا، حقیقت ہے اپنے اعمال کی، فلسفہ ہے مقصد ِ حیات کی پہچان کا، فکر ہے اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی، سوچ ہے اپنی اصلیت کی، نفی ہے اپنی پائیداری کی، اشارہ ہے اپنی پہچان کا، انعام ہے اس ذات کریم کا، تحفہ ہے اپنی آخرت کا، جھمیلا ہے خود غرضیوں اور لالچ کا، رونا ہے بد اعمالیوں کا ۔دنیا میں انسانی عظمت اپنے مقصد حیات کی پہچان ہے، محنت کی عظمت اور اس نظام ہستی میں بے ضرر ہونے کی، بنی نوع انسان کے لئے معاون و نفع بخش ہونے کے تصور سے آیا ہے۔اس دنیا کی نعمتوں اور خزانوں کی تلاش میں سرگرداں رہے لیکن اپنے آفاقی رشتہ کو ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑے۔جب انسانی وجود آفاقی رشتہ کے بغیر ہے ہی نہیں تو ہم روحانی خوراک کو نظر اندا ز کرتے ہوئے جسمانی خوراک بڑھانے سے انسانی بقا ء اور انسانیت کے توازن کو کیوں بگاڑ دیتے ہیں ۔نظام ہستی میں شب روز کی پذیرائی، سوچ کا مقررہ اوقات میں اپنی منزل کا سفر، چاند ستاروں کی اپنے مدار میں گردش ، موسموں کے یہ خوئے انقلاب، پانی اور ہواؤں کی زندگی میں آبیاری، بادلوں کی بار برداری کے ساتھ سفر کی سرشت میں میلوں کی مسافت کے بعد ابرِ رحمت کی تقسیم، انسانی خوراک اور مخلوق خدا کی ضروریات میں فصلوں کے یہ موتی ، سبزیوں اور پھلوں کے یہ خزانے ، خلاء میں نظام ِ کائنات کا یہ ٹھہراؤ، یہ اللہ کے دئیے ہوئے نظام ِ اوقات کے مطابق فرائض کی بجا آوری کی پابندی، انسانی زندگیوں پر انمول تحفوں کے اثرات اور انسانی ضروریات کے تقاضے ، ان سب پر غور و فکر ہی روحانی خوراک کے ذرائع ہیں ۔ہماری دینی تعلیمات کے تقاضے بھی یہی ہیں ۔الفاظ کی ادائیگی مقصود نہیں، نمائش درکار نہیں ، روح کی بالیدگی نظریہ ہے۔جو الفاظ کی ادائیگی سے نہیں بلکہ اس پر غور و فکر سے ابھرتا ہے لیکن جب انسان بزم قدرت میں بھی نور سے دور ہو ، ظلمت میں گرفتار ہو، سیاہ رو، سیاہ بخت اور سیاہ کار ہو تو دست قدرت کے جھٹکے اس کی سوچ اور عمل کے زاویے بدلنے کی راہ دکھاتے ہیں ۔یہی فلسفہ اکائی قوموں سے چلتا ہوا قوموں تک پہنچتا ہے۔یہی معاشرتی پھیلاؤ کی ایک کڑی ہے۔یہی انسانی ابتدائی فلسفہ کا ایک راز ہے۔اس کے جھٹکے اس وقت تک لگتے رہتے ہیں جب تک انسان اپنی اس خواہش سے باز نہیں آتا۔کبھی یہ آواز اخلاقی پابندیوں کا واسطہ دیتی ہے اور کبھی گناہ کے فلسفے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔کبھی خاندانی شہرت پر داغ لگنے کی دھمکی دیتی ہے اور کبھی ذاتی بے راہ روی کے طعنے دیتی ہے۔کبھی آخرت کے عذاب کا خوف دلاتی ہے اور کبھی معاشرتی تنقید کا ڈر ذہن میں بٹھاتی ہے۔ کبھی قانونی حجاب کے پردے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے اور کبھی احتساب کا خوف رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب کوئی طریقہ کامیاب نہ ہو ، بے عملی اور راہ روی غالب رہے تو جرم گناہ کے ساتھ یہی ندامت کا روپ سامنے لاتی ہے۔یہ وہ خیر کا عنصر ہے جو شر پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے۔ندامت کے جھٹکے اور غلطیوں سے توبہ اس کے روپ ہیں ۔جو جرم گناہ کو مسخ کر دیتے ہیں۔یہ منبع ہے جو انسان کے اندر سے پھوٹتا ہے۔یہ دل و دماغ کی وہ کیفیتیں ہیں جو خواہشات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں چونکہ انسان دنیاوی طلب میں اس قدر حریص اور بے پرواہ ہوتا ہے۔لذت کے شوق اور منافقت میں سبقت لے جانے کے جذبے سے اخلاقی بندھن سے بے پرواہ ، رزقِ حلال اور حرام میں تمیز کئے بغیر آگے بڑھنے میں سبقت ، آسائشات اور خواہشات کے دھارے میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس طرح انسانی شخصیت میں ضمیر کی طاقت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔جب یہ کیفیت زیادہ طاقتور اور بااثر ہو جائے تو اندر کا انسان مردہ ہو جاتا ہے جو اخلاقی کیفیات کو محسوس نہیں کرتا۔اچھائی یا برائی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔حلال اور حرام کی پہچان رک جاتی ہے۔لوگوں کی محسوسات کی رسائی کانوں تک پہنچنا بند ہو جاتی ہے۔ یہی معاشرتی اکائی کی بدترین مثال ہے۔ہم نے کبھی انسانیت کو انسانیت کی بنیادی اکائی میں جانچا ہی نہیں ۔ہم ہمیشہ حقیقت کا سامنا کرنے سے گھبراتے رہے۔ہم نے سیاست اور جمہوریت کو بھی صرف اپنے حق میں نعرے لگوانا اور دوسروں پر تنقید ہی جانا۔سیاست تو عبادت کا نام تھا لیکن آج ہم الیکشن کے نتائج دو ہی تسلیم کرتے ہیں ۔ جیت یا پھر دھاندلی۔ہار کا نام سننے کے لئے ہم تیار نہیں ۔آ ج معاشرے کا ہر انسان حقیقت کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے۔سرکاری اداروں کے افسران کام نہیں کرتے ۔ ممبران اسمبلی میں سے زیادہ تر اس قابل ہی نہیں کہ وہ خود کچھ کام کر سکیں یا ماتحت لوگوں سے کروا سکیں ۔کبھی کبھی تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا میںآنے کا مقصد تو درکنار یہی کچھ بھول گئے ہیں کہ ہم نے پاکستان کیوں بنایا تھا۔دو قومی نظریہ کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیسے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں یہاں ہم کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری حکومت کا اتنے اہم اداروں سے ٹکراؤ ہو۔غلط فہمیاں ہوں ۔ہمیں اس بات کو کھلے دل سے اور پکے یقین سے قبول کر لینا چاہیئے کہ اس خطے میں ہمارے ان اداروں کا انتہائی اہم اور ذمہ دارانہ کردار ہے۔اگر ان کے ساتھ ٹکراؤ یا غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں تو ا سکا نقصان پاکستان کو اور فائدہ ہندوستان کو ہوگا۔اور ہندوستان کی ہی خواہش ہے کہ حکومت کا کسی نہ کسی طرح ان اداروں سے ٹکراؤ جاری رہے لیکن میں آج تک جو کچھ سوچ اور سمجھ سکا ہوں اب اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ میاں برادران میں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دشمن کی چالوں او ر نادان دوستوں کی نادانیوں سے مکمل آ گاہ ہو چکے ہیں ۔وہ اب کسی کو بھی آگے بڑھ کر کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔جن لوگوں سے کچھ غلطیاں ہوئی تھیں ان کو پوری ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ منع کر دیا گیاہے۔مستقبل قریب میں کوئی ایسا واقعہ ہونے کا خطرہ نہیں رہا۔دوسری طرف پاک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی انتہائی محبِ وطن اور زیرک انسان ہیں ۔وہ کسی صورت میں اپنی سابقہ فوجی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی طرف امریکہ، بھارت ، اسرائیل سمیت کسی کو میلی نظر سے دیکھنے نہیں دیں گے۔صاف گو انسان ہیں ۔دو ٹوک بات کرتے ہیں لیکن دنیا کی آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ عوام کو چاہیئے کہ وہ مستقبل قریب میں بہتری کی امید رکھیں ۔پاکستان مکمل طور پر بھرپور طریقے سے ترقی کے زینے عبور کرتے ہوئے جا رہا ہے۔سی پیک سمیت کسی بھی منصوبے پر دشمن کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved