دو نوابوں کی لڑائی اور دینا واڈیا کی باتیں
  5  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭کالم بہت بوجھل ہورہے ہیں،آج ایک ہلکے پھلکے واقعہ سے آغاز کررہاہوں۔ اس سے پہلے صرف ایک جملہ کہ بعض حلقے قائداعظم کی بیٹی دینا واڈیا کو پارسی قرارد ے رہے ہیں، یہ بالکل غلط اور لاعلمی پرمبنی بات ہے۔ وہ مسلمان تھیں اور مسلمان ہی رہیں۔ پارسی مذہب کے ضابطے کے مطابق صرف پارسی خاندان میں پیدا ہونے والے افراد ہی پارسی قرارپاتے ہیں۔ کوئی دوسرا غیر پارسی ،پارسی بن ہی نہیں سکتا۔ اس بارے میں مزید باتیں اور دینا واڈیا کی لاہور میں دلچسپ سرگرمیوں کا حال آگے آئے گا۔ پہلے وہ دلچسپ واقعہ جو بہاول پور میں دو نوابوں کی لڑائی میں دیکھنے میں آیا۔ جمعہ کے روز لودھراں کے نزدیک ایک جلسہ سے عمران خاں نے خطاب کرناتھا۔ مرحوم نواب آف بہاول پور نواب صادق عباسی کے پوتے نواب عثمان عباسی نے اپنے محل میں عمران خاں کے کھانے کا انتظام کررکھا تھا۔ بڑے اہتمام کے ساتھ ایک ہرن، بٹیرے، تیتر اور مرغ روسٹ کیے گئے، مچھلی اور دوسرے اعلیٰ ملکی و غیر ملکی کھانے اور میٹھی چیزیں بھی موجود تھیں۔ ہوا یہ کہ ہر روز کہیں جلسہ کرنے والے عمران خاں دس گھنٹے لیٹ بہاول پور پہنچے اور نواب صاحب کے محل میں جانے کی بجائے سیدھے جلسہ میں چلے گئے۔ نواب عثمان عباسی اس پر بھڑک اٹھے۔ اس وقت محل میں موجود تحریک انصاف کے صدر نواب اسحاق خاکوانی ان کے ہتھے چڑھ گئے۔ نواب عثما ن نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمارے خاندان اوراس کی خاندانی روایات کی توہین کی ہے، میں تم لوگوںکے ساتھ نہیں چل سکتا۔ وہ اس قدر غصے میں آئے کہ نواب اسحاق خاکوانی بھی پھٹ پڑے اور نواب عثمان سے سخت الفاظ میں کہا کہ تم نواب ہوتو میں بھی نواب ہوں، اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتا! اس پربات مزید بڑھ گئی۔ نواب عثمانی سخت غصے کے عالم میں اپنے کمرے میں چلے گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ نواب اسحاق خاں سخت غصے میں جلسے میں چلے گئے۔ خبرمیں یہ نہیں بتایاگیا کہ بھنے ہوئے سالم ہِرن اور بیٹروں اور تیتروں کا کیا بنا؟ قارئین کرام! آپ نے کبھی پورا بھُنا ہوا ہِرن کھایاہے؟ ٭اوراب دینا واڈیا کی چند مزید باتیں۔ جیسا میں نے پہلے لکھا ہے کہ پارسی مذہب کے مطابق پارسی خاندان کی اولاد کے سوا کوئی دوسرا شخص پارسی نہیں بن سکتا۔ اسی لیے یہ مذہب ہمیشہ بہت محدود رہاہے۔ اس کے ارکان کی تعداد بہت کم ہیں مگر یہ لوگ بہت دولت مند ہیں اور دنیا بھر کی معیشت پر پھیلے ہوئے ہیں۔ محترمہ دینا دینا واڈیا کا بیٹا ونسل اس وقت بھارت اور امریکہ وغیرہ میں پھیلے ہوئے بہت بڑے واڈیا گروپ کا چیئرمین ہے۔ واڈیا پہلی بار تو 11ستمبر1948ء کو اپنے باپ ' قائداعظم' کی وفات پر کراچی آئیں، دو تین روز اپنی پھوپی مادر ملت فاطمہ جناح کے پاس ٹھہر کرچلی گئیں۔ پھر2004ء میں 85 سال کی عمر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر میں لاہورمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے اپنے دونوں بیٹوں نوسلی واڈیا اور جہانگیردینا واڈیا کے پہلے بیٹے کا نام تو پارسیوں جیسا ہی تھا وانسلی واڈیا مگر دوسرے بیٹے کانام جہانگیر رکھا گیا جو مسلمانوں والا نام ہے۔ دنیا نے دونوں بیٹوں کے ساتھ لاہور میں سب سے پہلے علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی ، بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ میں گئیں۔داتا دربار میں جاکرفاتحہ پڑھی۔ یوسف صلاح الدین کی حویلی میں تین گھنٹے گزارے یہاں شہر کی بہت سی شخصیات ان سے ملنے کے لیے آئیں ۔ دینا نے بتایا کہ انہوں نے لاہور کے کھانوں کی بہت شہر ت سنی ہے۔ اس پر یوسف صلاح الدین انہیں ایک مشہور ریسٹورنٹ میں لے گئے۔ ریسٹورنٹ والوں نے بھرپور خیر مقدم کیا۔ کسی کھانے کی قیمت نہیں لی۔ اس اثناء میں دور تک بات پھیل گئی کہ قائداعظم کی بیٹی آئی ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے اپنے کام چھوڑ کر ریسٹورنٹ کے باہرجمع ہو گئے اور قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ دینا بالکل اپنے والد قائداعظم کی ہم شکل تھیں وہ باہر آگئیں۔ ان کے چہرے میں قائداعظم کی شباہت دیکھ کر بہت سے لوگ رونے لگے۔ پاکستانی قوم کا یہ جذبہ دیکھ کر دینا کی آنکھیں بھی بے اختیار اشک بار ہوگئیں۔بعد میں انہوںنے ایک جگہ کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھاکہ پاکستان کی قوم اپنے محسن قائداعظم کے لیے اتنی جذباتی ہے۔دینا کو رات گئے ڈیفنس کے علاقے میں لمز یونیورسٹی کے نزدیک ایک آئس کریم پارلر میں لے جایاگیا۔ کسی طرح لمز یونیورسٹی میں طلباء کو خبر مل گئی۔ وہ کثیر تعداد میں بھاگتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے۔ دیناکو طلباء کے آنے کی خبر ملی۔ وہ باہر آگئیں، ایک ایک طالب علم کے سر پر ہاتھ رکھا، انہیں ملک کی حالت بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ تعلیم کی تلقین کی۔ دینا کی آواز بھی اپنے باپ قائداعظم کی طرح گرج دار تھی۔ ان کی آ واز سن کر طلباء نے بے اختیار قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ قذافی سٹیڈیم میں ان مسلم لیگ کے رہنماچودھری شجاعت حسین نے ملاقات کی۔ دینا نے انہیں کہا کہ پاکستان قائداعظم کی مسلم لیگ کی امانت ہے۔آپ میرے والد کی پارٹی کے رہنماہیں۔ اس ملک کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ ایک موقع پر ان کی قائداعظم سے علیحدگی کے بارے میں پوچھاگیا۔ انہوں نے بالکل قائداعظم والی آواز اور گرج دار لہجے میں کہا کہ '' ینگ مین! قائداعظم کو مجھ سے شادی کے معاملہ پر اختلاف تھا مگرکبھی کبھی ملاقاتیں ہوتی رہیں، باپ بیٹی کا تعلق کیسے ختم ہوسکتا ہے؟''۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو والد صاحب نے بمبئی میں اپنی رہائش گاہ پر بلایا۔ میں اپنے بیٹوں اورچار سالہ پوتے کے ساتھ گئی۔ قائداعظم نے بتایا کہ دیکھو! ہم نے پاکستان حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے میرے چار سالہ پوتے سے پیار کیا اور اپنی ٹوپی اس کے سرپررکھ دی۔ یہ ٹوپی آج بھی واڈیا خاندان میں بڑی عزت کے ساتھ نمایاں رکھی ہوئی ہے۔ ٭قارئین کرام ! آج کا تقریباً سارا کالم دینا واڈیا کی باتوں کی نذر ہوگیاہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں باربار بانی پاکستان قائداعظم کا نام آیا ہے۔ اس داستان سے واضح ہو جاتا ہے کہ دینا پارسی نہیں بلکہ مسلمان ہی تھیں۔ وہ پارسی بن بھی نہیں سکتی تھیں۔ مگر پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاکستان کے مذہبی امور کے وزیر امین الحسنات نے فتویٰ دے کر فاتحہ خوانی رکوادی کہ دینا پارسی تھیں، ان کے لیے فاتحہ نہیں پڑھی جاسکتی جب کہ سینیٹ میں خود سابق وزیراطلاعات و مذہبی امور راجہ ظفر لاحق نے فاتحہ خوانی کرائی۔ کسی بھی انسان کے ذاتی افعال و اعمال کی جزایا سزا کا فیصلہ خود باری تعالیٰ کرتا ہے۔ مذہبی امور کے وزیر کو یہ بھی علم نہیں تھاکہ کوئی ایسا شخص پارسی مذہب میں داخل نہیں ہوسکتاجو پارسی خاندان میں پیدا نہ ہو ا ہو! بہرحال دینا جوکچھ بھی تھیں، ہمارے عظیم قائد کی بیٹی تھیں۔ ان کے جانے سے قائداعظم کی آخری نشانی بھی چلی گئی، مگر قائداعظم تو آج بھی زندہ ہیں۔ اور ہاں بمبئی میں قائداعظم کی رہائش گاہ آج بھی 'جناح ہاؤس' کے نام سے موجود ہے اس کی قیمت اس وقت تقریباً40 کروڑ ڈالر ہے۔ اس پر دینا واڈیا اورخود حکومت پاکستان نے ملکیت کا دعوے دائر کررکھے ہیں۔ دینا تو اب چلی گئیں ، مگر حکومت پاکستان ایک عرصے سے خاموش ہے!

٭قارئین کرام! آج کسی سیاسی معاملے پر کچھ نہیں لکھا۔ ایک عرصے سے سیاسی فضولیات پر کالم ضائع کررہاہوں مگر مجبور ی ہے۔ ملک میں جوکچھ ہورہاہے۔ وہ سب فیض احمد فیض کے ایک شعر میں سمٹ آیا ہے! فیض نے کہا : لو! سنی گئی ہماری ، یوں پھِرے ہیں دن کہ پھِرسے وہی گوشہ قَفَس ہے، وہی فصلِ گل کا ماتم !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved