عمرہ زائرین کے فنگر پرنٹس کو نادرا کے نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے
  6  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستانی عمرہ زائرین کو مبارک ہو کہ سعودی عرب نے بائیو میٹرک کے طریقہ کار کو دسمبر2017 ء کے اوائل تک موخر کرنے کا اعلان کرکے ۔۔۔ ان کے اور حرمین الشریفین کے درمیان اچانک سے حائل ہو جانے والے بھاری بھر کم پتھر کو ہٹا دیا ہے ۔۔۔ 3 نومبر جمعہ کے دن اسلام آباد میں سعودی سفارت خانہ کے ترجمان کی طرف سے اس موضوع کے حوالے سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ’’پاکستان اور پاکستانی قوم سعودی عرب کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے ۔۔۔ اور سعودی عرب پاکستانی قوم کے مفادات کو تمام معاملات پر فوقیت دیتاہے۔۔۔ سعودی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق ۔۔۔ ’’بائیو میٹرک نظام پاکستانی زائرین کو سہولت کی فراہمی اور جدہ میں شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائرپورٹ پر شناخت کے طویل انتظار کی صعوبتوں سے بچانے کے لئے ہے ۔۔۔ اور بائیو میٹرک نظام کا طریقہ کار دنیا کے بیشتر ممالک میں کامیابی سے رائج ہے۔‘‘ میری ذاتی رائے میں اگر دنیا کے دوسرے ممالک میں ۔۔۔ بائیو میٹرک سسٹم کا طریقہ کار رائج ہے تو پاکستان میں بھی بائیو میٹرک سسٹم کے طریقہ کار کو رائج کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔۔۔ موجودہ زمانے میں جب عالمی صیہونی طاقتوں نے دہشت گردی کی نئی نئی قسمیں متعارف کروا رکھی ہیں ۔۔۔ اور سعودی عرب کے عوام کو بھی بعض ممالک کے پالے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں ۔۔۔ جبکہ اس سے قبل دہشت گرد حرمین شریفین کو بھی نشانہ بنانے کی کوششیں کرچکے ہیں ۔۔۔ تو ان حالات میں اگر سعودی عرب کی حکومت اپنے عوام ۔۔۔ اور حرمین شریفین میں تشریف لانے والے ۔۔۔ اللہ کے مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ۔۔۔ بائیو میٹرک سسٹم کے نظام کو لانا چاہتی ہے تو اس کی تائید کی جانی چاہیے ۔۔۔ نہ کہ تنقید‘ دکھ کی بات یہ ہے کہ جمعرات کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک معزز رکن اسمبلی نے جب اس موضوع پر بات کی تو کہا کہ ’’عمرہ‘‘ کے لئے دنیا میں کہیں بھی بائیو میٹرک سسٹم رائج نہیں ہے۔۔۔ جبکہ سعودی سفارت خانہ کا موقف ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بائیو میٹرک سسٹم رائج ہے ۔۔۔ ہمیں اس قسم کے حساس موضوعات پر بات کرتے ہوئے ۔۔۔ ہمیشہ حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سعودی سفارت خانے کے ترجمان نے یہ بات ۔۔۔ تسلیم کی ہے کہ ’’ (اعتماد) کمپنی نے بغیر کسی تیاری اور ضروری اقدامات کے فنگر پرنٹس لینے کا کام شروع کر دیا ۔۔۔ جو عوام کی پریشانی کا باعث بنا ۔۔۔ سعودی سفارت خانہ اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ۔۔۔ پاکستانی قوم کے مفادات اور آرام کو اولین ترجیح دی جائے گی‘‘ گوکہ کو سعودی سفارت خانے کے ترجمان کی پریس ریلیز نے عمرہ زائرین کو درپیش مسئلے کو دسمبر تک ٹال دیا ہے مگر اس کے باوجود ۔۔۔ عوام میں ’’اعتماد‘‘ کمپنی کے حوالے سے بعض باتیں گردش کر رہی ہیں ۔۔۔ مثلاً یہ کہ ’’اعتماد‘‘ اصل میں ایک انڈین فرم ہے ۔۔۔ اور اس کی ٹیکنالوجی انڈیا کے مین ڈاٹا سرور سے منسلک ہے ۔۔۔ اور ہر سال پندرہ سے بیس لاکھ عمرہ پر جانے والے پاکستانیوں کی معلوماتبمعہ فنگر پرنٹس منتقل ہونے سے پاکستان کی سیکورٹی کو خطرات سے دوچار کر دے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اعتماد واقعی اصلاً انڈین کمپنی ہے ؟ اور اس کی ٹیکنالوجی انڈیا کے مین ڈاٹا سرور سے منسلک بھی ہے؟ اگر ان سوالوں کی وضاحت بھی سفارت خانے کے ترجمان کر دیں تو پاکستانی عوام میں پائی جانے والی بے چینی دور ہو جائے گی ۔۔۔ پاکستان کے عوام کی سعودی عرب سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔۔۔ حرمین شریفین پاکستانی قوم کی محبتوں اور عقیدتوں کے اصل مرکز و محور ہیں ۔۔۔ اگر اس سال عمرہ پر جانے والے زائرین کی تعداد16 یا18 لاکھ ہوگی ۔۔۔ تو ان زائرین میں اکثر ایسے ہوں گے ۔۔۔ کہ جو ساری عمر بیت اللہ اور روضہ رسولﷺ کی زیارت کے لئے تڑپتے رہے اور ترستے رہے‘ انہوں نے اپنی کُل آمدن میں سے تھوڑی تھوڑی بچت کرکے عمرہ کے لئے زاد راہ تیار کیا ہوگا ۔ ان میں اتنی سکت کہاں کہ پہلے وہ گلگت سے اسلام آباد اعتماد کمپنی کے دفتر میں آکر بائیو میٹرک سسٹم کو فالو کریں‘ یہاں سے فارغ ہوکر وہ سینکڑوں میل کا سفر کرکے واپس اپنے شہر جائیں ۔۔۔ اور ایک دفعہ پھر اسلام آباد آکر ویزے کے حصول کی کوششیں کریں۔ اس سے غریب اور پرخلوص عمرہ زائرین کی جیبوں پر نہ صرف بوجھ پڑے گا ۔۔۔ بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا‘ مجھے اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر استاذ نواف سعید المالکی حفظ اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ پاکستانی عمرہ زائرین کی سہولت اور آسانی کے لئے جو کچھ ممکن ہوسکا ۔۔۔ ضرور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر تو بائیو میٹرک سسٹم کے نظام کو رائج کرنے اور اس پر عملدرآمد سے ۔۔۔ سعودی عرب اور حرمین الشریفین کی سیکورٹی مضبوط ہوتی ہے تو اس نظام کو ضرور رائج ہونا چاہیے ۔۔۔ مگر عمرہ زائرین کی جیبوں پر بوجھ ۔۔۔ اور ان کی مشکلات میں اضافہ کیے بغیر۔۔۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ انڈیا کے حوالے سے پاکستانی قوم شکوک و شبہات کا شکار ہے ۔۔۔ اور یہ محض ہوائی باتیں نہیں ‘بلکہ حقیقت ہے کہ انڈیا پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی لازم ہے کہ پاکستانی عمرہ زائرین کی معلومات انڈیا منتقل نہیں ہونی چاہئیں ۔۔۔ اعتماد کمپنی کی بجائے اگر فنگر پرنٹس کے معاملے کو نادرا کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے دفاترکے نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو میرے خیال میں اس پر کسی کو بھی اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ بہرحال صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے عمرہ یا حج کی سعادت کے لئے جانے والے لاکھوں حجاج کرام کی بے پناہ خدمت کے حوالے سے سعودی عرب کے حکمرانوں کا نام روز اول سے ہی سربلند رہا ہے ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ اس معاملے کا بھی کوئی نہ کوئی ۔۔۔ مثبت حل ضرور بضرور تلاش کرلیاجائے گا۔ (ان شاء اللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved