یوم شہدائے جموں۔۔۔جب توی سے خون بہہ رہا تھا
  6  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) 6 نومبر کو دنیا بھر میں کشمیری یوم شہدائے جموں اسی وجہ سے مناتے ہیں تاکہ جموں خطے کے مسلمانوں کی اسلام، پاکستان اور تحریک آزادی کے لئے جانوں، مالوں اور عزتوں کی قربانیاں یاد رکھی جائیں اور شہداء کے خون کے ساتھ سودا بازی نہ کی جائے۔70سال گزرنے کے باوجود ہندو دہشت گردوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کے خلاف تحریک کے ردعمل میں جموں کے ہندوؤں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی , سیلاب زدگان کی امداد کے بجائے ان کی دل آزاری، ریلیف میں رکاوٹیں اس کی مثال ہیں۔ وادی کے مسلمانوں نے ہندوؤں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میں ہندوؤں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ سیلاب میں مقامی مسلم نوجوانوں نے بھارتی فوجیوں کو بھی بچایا اور ان کی خوراک کا انتظام کیا۔کشمیری صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آج بھی ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار بن رہے ہیں۔بھارتی فوج اس سلسلے میں تاریخ کا بدترین کردار ادا کر رہی ہے۔وہ کرگل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے لئے تابوتوں کی خریداری کے سودے میں بھی کرپشن کرنے سے گریز نہیں کرتی جبکہ بو فورس توپوں کے سودوں میں اربوں کے سکینڈل فوج کے لئے بدنامی کا باعث بن چکے ہیں۔یہی فوج کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں شہریوں کو شہید کر کے ترقیاں اور تمغے پاتی ہے ۔ بارودی سرنگیں نصب کر کے ان کی برآمدگی کے نام پر ترقیاں اور میڈلز وصول کرنے کے سکینڈلبھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔ شہداء کے نام پر سیاست چمکانے کا وقت گزر چکا۔ یہ مکار اور ایمان فروش لوگوں کا وطیرہ تھا۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ اُن کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور مشن کو پورا کرنے کے لئے جدید اور سائنسی تقاضوں کے مطابق عملی جدوجہدکرنا ہے۔ جموں ڈویژن کے 10اضلاع ہیں۔شہدائے جموں کا مشن تقسیم کشمیر یا چناب فارمولے پر عمل درآمد نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت، کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔یہ دین کا رشتہ ہے، ورنہ کچھ نہیں۔ 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت کے طو رپر موجو دہیں۔اگرکشمیر کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو 1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کا خدشہ پیدا ہو گا۔آج جموں کو ایک الگ بھارتی ریاست اور لداخ کو دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنانے کے لئے ہندو انتہا پسندسرگرم ہیں۔دوسری طرف جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں مقیم پاکستان کے لئے 6نشستیں مختص ہیں۔لیکن نئی نسل اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں سے بے خبر اور لاتعلق ہو رہی ہے۔المیہ ہے یہ لوگ بھی شہداء کے قبرستان پر محلات تعمیر کرنے والے مفادپرست ٹولے کی طرح اقتدار اور مراعات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔وہ سرینگر یا جموں جانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پیش نظر سیر و تفریح یا تجارتی مقاصد ہوتے ہیں۔ان کی ثقافت دم توڑ رہی ہے۔ایک دوسرے سے تعلق اور تعاون کے فروغ کا تصور رفتہ رفتہ مفقود ہو رہا ہے۔آزادی پسندوں میں بھی ایک تنگ نظر اور جاہل مگر قلیل التعداد حلقہ صرف وادی کو کشمیر سمجھتاہے۔ان کے سامنے جموں ،لداخ،گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کی کوئی وقعت نہیں۔آزاد کشمیر میں بھی ایک گمراہ کن سوچ پیدا کی جارہی ہے۔ جو صرف اقتدار کے لئے ہے۔ تقسیم کشمیر کی سوچ گمراہ کن ہے ۔ شہدائے جموں کا تقاضا ہے کہ کشمیری جسد واحد بن کر لسانی،علاقائی اور برادری ازم یا ادھر ہم ادھر تم جیسے فتنوں سے بچتے ہوئے شہداء کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔آزاد کشمیر کے حکمران ریاستی وسائل اور مشینری کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھتے رہے.۔ وہ ان وسائل کو تحریک آزادی پر لگانا جیسے گناہ سمجھتے ہیں۔ کسی حریت والے سے زاتی مراسم پیدا کر کے جیسے پوری تحریک کو اپنے گھر کی لونڈی قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ روایتی طور پرتحریک کی آڑ میں اپنی پارٹی، علاقے اور قبیلے کو نوازنے میں مصروف رہتے ہیں۔ فنڈز اور کوٹہ کی منتقلی اس کی انوکھی مثال ہے۔لبریشن سیل کو تحریک کے بجائے اپنے لوگوں کو نوکریاں فراہم کرنے والا ایمپلائمنٹ ایکسچینج بنا دیا گیا ہے۔کتنے بد بخت ہیں وہ جو شہداء کے مقدس خون سے اپنے سیاسی کھیت سیراب کرتے ہیں۔کیا ہم اپنا محاسبہ کرنے کو تیار ہیں؟آپ کے بچے ڈاکٹر، انجینئر بن رہے ہیں ،آپ کی پراپرٹی بڑھ رہی ہے، ماشا ا للہ۔کیا آپ جانتے ہیں شہداء کے بچے کس حال میں ہیں؟ آزاد کشمیر کی حکومت اب بھی عبوری حکومت ہے۔ اس کا آئین عبوری ہے۔ یہاں کے صدر، وزیر اعظم، سیاستدان، بیوروکریسیکا مشن کیا ہے۔ سرکاری وسائل، مشینری،دفاتر، محلات، پراڈوزکو اپنی جاگیر نہ سمجھیں۔ کچھ شہداء کے مشن کے لئے بھی کا م آئیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved