سرکاری اسکولوں کے اساتذہ زیادہ قابل ہیں
  6  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میرا پوتا اتوار کو ایک نظم لے آیا کہ اس کے معانی اور تشریح کا ہوم ورک ملا ہے۔ آپ کچھ سمجھا دیجیے۔ یہ ہمارے معزز محترم پروفیسر عنایت علی خان کی ایک نعت تھی۔ بہت ہی منفرد اور موثر۔ لیکن ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ آٹھویں جماعت کے طالب علموں کے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر نہیں لکھی تھی۔ بے شمار مشکل الفاظ تھے۔ جس کے لیے مجھے بار بار لغت دیکھنا پڑی۔ بعض الفاظ نعت میں بھی نہیں ملے۔ میرا واضح سوال ہے اسکول والوں سے بھی اور نصاب مرتب کرنے والے ماہرین سے بھی کہ ایسے ادق الفاظ والی نظم آٹھویں جماعت کے لیے کیسے مناسب ہے۔ ان کے ذہنوں پر بوجھ ڈالنے کا جواز کیا ہے۔؟ میں اوصاف پڑھنے والوں کا ممنون و شکر گزار ہوں کہ وہ اس موضوع میں مسلسل دلچسپی لے رہے ہیں۔ میرے لیے ان کی طرف سے تحسین بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔ میں 60 کے عشرے سے لکھ رہا ہوں۔ اپنے اس کرب کا اظہار پاکستان کے قریباً سب ہی میڈیا گروپوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ کر کرتا رہا ہوں۔ لیکن جتنی سنجیدہ تنقید اور تعریف اوصاف کے قارئین کی طرف سے مل رہی ہے۔ یہ نعمت پہلے کہیں نصیب نہیں ہوئی۔ ایسے قارئین کے لیے لکھ کر بہت لطف آتا ہے۔ دل کو بڑی تسکین ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے مہذب جمہوری ملکوں میں قوم کی تعمیر‘ معاشرے کی تشکیل میں درسگاہوں میں رائج نصاب کے انتخاب کو اولین اہمیت دی جاتی ہے۔ بہت ہی ذمہ دار ماہرین کو اس منصب کا اہل سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ذہن سازی کا مقدس قومی فریضہ ہے۔ ایسے ملک کی نئی نسل کے ذہن بنانے کا عمل۔ جو ابھی تک قوم نہیں بن سکا ہے۔ 70 سال سے ایک کشمکش جاری ہے۔ سیاسی مسائل بھی ہیں۔ نفسیاتی بھی۔ سماجی بھی۔ مذہبی بھی۔ لسانی بھی۔ ایسے منتشر اور ہر جانب سے خطرات میں گھرے لوگوں کے لیے نصاب ترتیب دینا تو بہت ہی کٹھن عمل ہے گذشتہ کالم میں ہم نے یونیورسٹیوں کے بارے میں بات کی۔ وہاں تو جس عمر کے نوجوان موجود ہوتے ہیں ان کے ذہن بن چکے ہوتے ہیں۔ انہیں تو وہاں دو یا چار سال گزار کر پھر عملی زندگی میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ معاشرے میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن وہاں بھی حال بہت برا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا انتہائی طاقت ور وسیلۂ ابلاغ ہے۔ لیکن وہاں مقابلے کی دوڑ میں یہ باور کرلیا گیا ہے کہ دھوم دھڑکا۔ شورو غل۔ پگڑیاں اچھالنا۔ کسی مسئلے کے حل یا نتیجے کی طرف نہ جانا ہی کامیابی ہے۔ پہلے سے الجھے ہوئے ذہن مزید الجھادیئے جاتے ہیں۔ سات بجے شام سے ذہنوں کو ’رگ مرول‘ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ آدھی رات کو ہی جا کر ختم ہوتا ہے۔ سارے مسائل فروعی ہیں۔ چند شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ایک ملک کے مختلف علاقے قوم نہیں بن پارہے۔ ایسے ملک کے بنیادی مسائل کیا ہیں۔ ایسی نسل کیسے تیار کی جاسکتی ہے جو شے کی حقیقت کو سمجھے۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا آنکھوں پر جب پارٹیوں کی پٹیاں باندھ دی گئی ہوں۔ کچھ آنکھیں حالات کو اسٹیبلشمنٹ کی عطا کردہ عینک سے دیکھتی ہوں۔ کچھ اپنے آقاؤں۔ سرداروں۔ جاگیرداروں کی میسر کی گئی عینک سے دیکھتی ہوں۔ تو معیشت کہاں نظر آئے گی۔ احتساب کی جو سرکس چل رہی ہے۔ عدالتوں میں جو ڈرامائی مناظر ہیں۔ وہ لوگوں کو مزید مایوس کر رہے ہیں مگر مجھے یہ مسرت ہوتی ہے کہ میں ان کو اپنا موضوع نہیں بنا رہا ہوں تو کسی پڑھنے والے نے یہ نہیں کہا کہ آپ نواز شریف۔ شرجیل میمن۔ اسحاق ڈار کے بارے میں کیوں نہیں لکھ رہے ہیں۔ ہم ان موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ آپ سے بھی انہی پر رائے کا اظہار چاہتے ہیں۔ جو مستقبل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اور جن کے بارے میں ہم مل جل کر کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ تبدیلی لاسکتے ہیں۔ پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے بچوں کی کتابیں دیکھنے کی زحمت کی۔ آپ ان کے اسکول گئے۔ اسکول کے سربراہ سے اساتذہ سے دریافت کیا کہ ان کا بنیادی مقصد کیا ہے۔ وہ بچوں کو کن خطوط پر لے جارہے ہیں۔ آپ کے جوابات پر میں اگلے کالم کی عمارت تعمیر کروں گا۔ سردار اظہار۔ ہجرہ آزاد کشمیر: پاکستان کی یونیورسٹیاں ملک کو غیر مہذب بنا رہی ہیں۔ نام نہیں لکھا۔ کہتے ہیں یونیورسٹیوں کی بہتری کے لیے ہمیں ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کے درمیان اچھا تعلق پیدا کرنا ہوگا۔ عشرت ضیا سرکاری اسکول میں ٹیچر ہیں فتح جنگ ضلع اٹک سے۔ ان کا کہنا ہے اگر ہم خود بچوں کی کتابیں کھول کر دیکھیں تو پتہ چلے کہ کتابوں کے اندر کیا ہے۔ پاکستانی بچوں کو آکسفورڈ کی کتابیں پڑھانا کہاں کا انصاف ہے جو دہلی بھارت میں شائع ہوتی ہیں۔ آپ بہت اچھے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں۔ شکریہ۔ لکی مروت سے عبدالمتین ہمیشہ اچھی رائے دیتے ہیں وہ کہہ رہے ہیں۔آج کل بچوں کے کورس اتنے مشکل ہوتے ہیں وہ سمجھ نہیں سکتے۔ انہیں سمجھائے کون۔ سرکاری اسکولوں میں پی ٹی سی کے ٹیچرز ہیں۔ جو آج کل کے کورس کو نہیں پڑھا سکتے خاص کر ریاضی اور انگریزی۔ جس کی وجہ سے بچے رٹا لگا کر نمبر حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ رٹے کی جگہ مطلب سمجھ میں آنا چاہیے۔ جہانگیر بھٹی صاحب شہر نہیں لکھا۔ کہتے ہیں آپ کا مضمون یونیورسٹیاں پاکستان کو مہذب بنا سکتی ہیں اچھا لکھا ہے۔ تحریر میں کہیں کہیں اجمل نیازی صاحب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ میرا اپنا بھی تحریر و تقریر سے خاصا شغف ہے۔ راولپنڈی سے ایک خیر خواہ نام نہیں لکھا آپ کے کالم میں اکثر حقیقی مسائل پر بات ہوتی ہے مجھے بھی ایک ضروری بات کرنا ہے۔ گذشتہ دنوں ایک سرکاری محکمے میں بھرتیوں کے لیے خوشاب میں انٹرویو ہوئے۔ امیدوار دور دور سے آتے ہیں۔ انہیں گھروں سے بہت جلدی نکلنا پڑتا ہے ان بچوں کو جو مشکلات پیش آتی ہیں میں بتانا چاہتا ہوں کہ اتنی دور دراز سے جب بچوں کو آنا ہوتا ہے تو وقت 8 بجے صبح کی بجائے ایک دو گھنٹے آگے رکھا جائے۔ یا بچوں سے پیسے لے کر ان کی رہائش کا بندوبست کیا جائے۔ پیسے تو ویسے بھی درخواستوں کے ساتھ جمع کیے ہی جاتے ہیں۔ ارشاد احمد گلگت سے ہمارے کالم بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے اپنا ایک قطعہ ارسال کیا ہے بدل دے خو امیر وقت ورنہ سبق اقبال کے شاہین دیں گے نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں وہ حاکم کیا ہمیں آئین دیں گے گلگت سے ہی مہجور ہنزائی کہتے ہیں۔ آپ گلگت بلتستان کے مسائل کو بھی کبھی اجاگر کریں۔ شاہ فرمان چیلاس سے۔ میں آپ کی تحریر کا بہت پہلے سے مداح ہوں۔ آپ ہر ایک موضوع پر سبق آموز کالم تحریر کرتے ہیں۔ مردان سے مختار علی صاحب کہہ رہے ہیں ہمارے وطن کے سیاستدان، جنرل اور بیورو کریٹ نہیں چاہتے کہ عام پاکستانیوں کے بچوں کو وہ تعلیم ملے جو ان کے بچے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حاصل کر رہے ہیں۔ پورے ملک میں ایک نصاب ہونا چاہیے اور وہ بھی قومی زبان اردو میں۔ نبیل کیانی مظفر آباد آزاد کشمیر سے: آپ کا کالم ایک غریب اور مظلوم پاکستانی کے لیے امید کی کرن ہے اللہ آپ کو حق سچ لکھنے کی توفیق دے آمین۔ دیامیر گلگت سے محمد صالح: آپ نے درست فرمایا ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ لیکن سیاست۔ حالات حاضرہ سے لگاؤ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل ٹیسٹ انٹرویو وغیرہ میں وزیراعظم وزیراعلیٰ وغیرہ کے نام پوچھے جاتے ہیں۔ بچوں کی کتابوں کے حوالے سے آپ بہت اہم مسائل پر توجہ دلا رہے ہیں۔ دینی مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ باغ آزاد کشمیر سے سردار مجید خان: آپ ہمیشہ معاشرے کے حقیقی مسائل پر قلم اٹھاتے ہیں۔ لیکن ہم آپ کے یہ خیالات مجاز حکام تک کیسے پہنچائیں۔ کیونکہ عملدرآمد تو ان کو ہی کرنا ہے۔ زاہد مجید گورنمنٹ ہائی اسکول اعوان ٹاؤن لاہور میں معزز استاد ہیں وہ کہتے ہیں۔ بچوں کے لیے پینسلیں، پین، کاغذ، کاپیاں، کتابیں، یونیفارم سب انتہائی مہنگی ہیں۔ غریب آدمی کیسے اپنے بچوں کو اسکول بھیجے۔ یہ جو کہا جاتا ہے 2 کروڑ بچے اسکول کے باہر ہیں اس کی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔ حکومت کو یہ تمام اشیاء بچوں کو مفت فراہم کرنی چاہئیں۔ اس سے سرکاری اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھے گی حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ سے زیادہ تربیت یافتہ۔ زیادہ اہل ہیں۔ بہت شکریہ تمام احباب کا۔ ان مسائل پر آپ کی رائے کیا ہے۔ ایس ایم ایس کیجیے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved