سعودی عرب کا کرپشن کے خلاف کریک ڈائون
  7  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

سعودی عرب سے آنے والی خبروں نے ہر طرف ہلچل برپا کر رکھی ہے...کھربوں پتی ولید بن طلال سمیت 11شہزادے چار موجودہ وزراء اور 38سابق وزیروں کی کرپشن کے الزامات میں گرفتاریاں... وزیر نیشنل گارڈ اور نیول چیف کی برطرفی اتنا بڑا اقدام ہے کہ جس پر بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوا جارہا ہے۔ سنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اس اینٹی کرپشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد کی گئیں کہ جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں... سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے عنوان سے کی جانے والی ان کارروائیوں کو وہاں کے علماء کی بھی مکمل تائید حاصل ہوچکی ہے... سعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی ایس پی اے کو جاری کئے جانے والے بیان میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ''کچھ منفی سوچ رکھنے والوں نے عوامی مفادات پر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے غیر قانونی طور پر دولت کمانے کی کوشش کی ہے'' اگر سعودی حکومت نے غیر قانونی دولت کمانے والوں پر ہی ہاتھ ڈالا ہے... تو سچی بات ہے کہ یہ نہایت ہی خوش آئند ہے اور کرپٹ افراد پر اس طرح سے مضبوط ہاتھ ڈالنے پر سعودی عرب کی حکومت کو مبارکباد بھی دی جانی چاہیے... کیونکہ وہاں نہ ''جے آئی ٹیز ''کے چکر اور نہ ہی احتساب عدالتوں میں پروٹوکول ملزمان کے بکھیڑے۔ کرپشن میں مبتلا شخص خواہ کتنا بڑا بھی عہدیدار کیوں نہ ہو' اس کا تعلق کسی بھی خاندان یا پارٹی سے کیوں نہ ہو... بلاتخیص اس کے خلاف سخت کارروائی کرنا یقینا قانون کی عملداری یقینی بنانے کے مترادف ہے۔ معروف سعودی اخبار العربیہ نے اپنی رپورٹ جن شہزادوں ' سابق اور حالیہ وزیروں کو مالی کرپشن اور خورد برد کے الزام میں گرفتار کیا ہے... ان میں سے چند ایک کے نام بھی لکھے ہیں... کہا جا رہا ہے کہ سنگین جرائم اور مالی بدعنوانیوں کے ملزموں کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ یہ تو ہوگیا... ان خبروں کا مثبت پہلو... لیکن عالمی میڈیا سعودی عرب میں شہزادوں اور وزیروں کی حالیہ گرفتاریوں کا ایک دوسرا منظر نامہ دکھانے کی کوششیں کر رہا ہے... مثلاً یہ کہ ان سب گرفتاریوں کا محرک سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اندرونی اختلافات بنے ہیں... ایک تیسرا گروہ اس سارے قضیے کو جدید ' روشن خیال اور اعتدال پسند سعودی عرب کے تناظر میں دیکھ بھی رہا ہے اور اس کا پروپیگنڈا بھی کر رہا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں سعودی عرب میں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا... سعودی عرب میں جدید صنعتی زون اور شہر قائم کرنے کی تیاری بھی... اسی روشن خیال سعودی عرب کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑی جارہی ہے ' غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں... پہلی بات تو یہ ہے کہ نجانے ہمارے بعض طبقات کے نزدیک روشن خیالی' جدت پسندی اور اعتدال پسندی کا مطلب کیا لیا جاتا ہے؟ اگر ان کے نزدیک ان اصطلاحات کا مطلب یہود و نصاریٰ کے ویژن کے مطابق ہے تو پھر انتہائی غلط ہے' جہاں تک روشن خیال' جدید اور اعتدال پسند ہونے کا تعلق ہے وہ تو سعودی عرب پہلے سے ہی ہے 'جو ذی شعور انسان بھی سعودی عرب جا چکا ہے اس نے دیکھا ہوگا کہ سعودی عرب میں سرکاری عمارات ہوں یا غیر سرکاری عمارتیں... وہ سب کی سب پرشکوہ اور جدید ہیں... وہاں کے عوام کا رہن سہن' بودوباش دفاتر اور گھر سب کے سب جدید خطوط پر استوار ہیں... روشن خیالی چونکہ اسلام کا حصہ ہے... اس لئے ہر سچے مسلمان کا روشن خیال ہونا... اس کا ذاتی وصف ہے' رہ گئی بات اعتدال پسندی کی تو... اعتدال پسند ہونا تو اسلامی حکم کی تکمیل کے مترادف ہے۔ ہاں البتہ' اعتدال پسندی کے اپنے اپنے پیمانے اور معیارات ہوتے ہیں... کونسی بات اعتدال پسندی کے زمرے میں آتی ہے اور کونسی انتہائی پسندی کے اس کا فیصلہ یا باہر بیٹھ کے نہیں کیا جاسکتا... بلکہ حکومتی اقدامات اس پر خود دلیل بن جایا کرتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سعودی عرب کے بادشاہوں کو کوئی جتنا مرضی روشن خیال یا لبرل سمجھ لے... مگر انہیں سکون ''خادم الحرمین الشریفین'' کے لقب میں ہی ملتا ہے ۔ جنگ و جدل سے بچنے کے لئے دہشت گردوں سے اپنے عوام کو بچانے کے لئے غیر ملکی... طاقتوں کے پالے ہوئے باغیوں کی سرکشی کا راستہ روکنے کے لئے ... اگر سعودی عرب کے حکمران اپنے ویژن کے مطابق ... سعودی عرب میں بعض تبدیلیاں لے بھی آئے ہیں... تو ان تبدیلیوں کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے نہ کہ ... بغض معاویہ میں مبتلا ہو کر دل کے پھپھولے پھوڑنا شروع کر دئیے جائیں؟

معاشی' علمی' سائنسی اور صنعتی طور پر مضبوطی کے لئے اقدامات اٹھانا سعودی عرب کا حق ہے... اسلامی دنیا میں سعودی عرب کو جو بلند مقام حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا... یقینا اس کی اصل وجہ حرمین الشریفین ہیں... دنیا کیا سمجھتی ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز یا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گنبد خضریٰ کے مکین محمد کریمۖ کی مقدس تعلیمات کے برخلاف سعودی عرب کی پالیسیاں بنانے جارہے ہیں؟ ممکن ہی نہیں' ممکن ہی نہیں... ایسے جھوٹے الزامات لگانے والے بیوقوفوں کو کوئی بتائے کہ خادم الحرمین الشریفین سے بڑھ کر یہ بات کون جان سکتا ہے؟ محمد کریمۖ کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز ہے۔ اگر آج سعودی عرب ایک ارب 25کروڑ سے زائد مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے تو صرف اس لئے کہ ... وہاں حرمین الشریفین ہیں... اور وہاں کے بادشاہ بھی اپنے آپ کو ''خادم الحرمین الشریفین،، کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ سعودی عرب ہے کہ جہاں کسی وزیر' شہزادے یا مشیر کو طاقتور نہیں سمجھا جاتا... بلکہ یہاں قانون سب سے زیادہ ''طاقتور'' تصور ہوتا ہے۔ ورنہ پاکستان میں کسی حکمران' وزیر یا شہزادے کا احتساب کرنا کتنا مشکل ہے... وہ ساری قوم کو نظر آرہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved