سعودی عرب میں ڈرامائی صورت حال!
  7  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سعودی عرب میں اچانک جو کچھ ہوا اس نے دنیا بھر کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ 11 شہزادے، چار موجودہ وزیر، 38 سابق وزرا کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار اثاثے منجمد، نجی طیارے بند، ملک سے باہر جانے پر پابندی، گرفتار شدہ تمام افراد کو ایک ہوٹل میں بند کر دیا گیا۔ ساری تفصیل خبروں میں موجود ہے۔ یہ واقعہ اتنا اچانک ہوا کہ شاہی فرمان پر ایک انٹی کرپشن کمیٹی بنی اور تین گھنٹے کے اندر ان تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ شاہی اعلان کے مطابق ان افراد پر اربوں ڈالروں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ وغیرہ کے الزامات کے تحت عام شہریوں کی طرح مقدمے چلیں گے۔ گرفتار شدگان میں خاص نام شہزادہ ولید بن طلال کا ہے۔ 52 سالہ شہزادہ اس وقت اندرون و بیرون ملک 20 ارب ڈالر (21 کھرب روپے) کے اثاثوں کا مالک ہے۔ ان میں سعودی عرب،فرانس، امریکہ اور دوسرے ملکوں میں محلات، بہت سے نجی طیارے، بڑی بڑی انٹرنیشنل کمپنیوں کے کاروبار میں شراکت شامل ہے۔ ولید بن طلال کو سب سے زیادہ امیر شہزادہ سمجھا جاتا ہے۔ گرفتار شدہ افراد پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں، ان میں دہشت گردوں (باغیوں!) کی مدد پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ بادشاہ اور ولی عہد پر تنقید کی سزا دس سال قید ہو گی۔ سعودی عرب میں کوئی باضابطہ آئین یا پارلیمنٹ وغیرہ نہیں۔ صرف شاہی احکام چلتے ہیں۔ انہیں ہی قوانین کہا جاتا ہے۔ شہنشاہیت میں صرف ایک اصول چلتا ہے کہ دو فریقوں کی لڑائی میں ایک کا ختم ہونا ضروری ہے۔ معافی، معذرت، قید رکھے جانے یا کسی رقم دلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ لڑائی میں جو مارا گیاوہ ختم ہو گیا، جو زندہ رہا وہ فاتح کہلاتا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ کے غیر جمہوری معاشرہ میں ملوکیت کاایک ہی انجام ہوتا ہے، مسلسل فتح یا پھر موت! سعودی عرب کے حالیہ حالات کے پس منظر میں شاہی خاندان کے مختلف حصوں میں ایک دوسرے کی خلاف فضا ہمیشہ موجود رہی ہے۔ شاہی مزاج اور سرداری کا قبائلی مزاج ایک جیسی نوعیت اور اہمیت کے ہوتے ہیں۔ طاقت اور اقتدار کی خاطر جان لینے یا جان لینے کی روایات قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہیں پچھلی صدی کے آخر میں ایک شہزادے نے شاہ فیصل کو گولی مار دی۔ نیپال میں شاہی خاندان کے ایک رکن نے بادشاہ سمیت گیارہ شاہی شہزادے اور دوسرے افراد ہلاک کر دیئے۔ ایک قبائلی واقعہ کی مثال ہے کہ میانوالی میں بیٹے نے اپنے باپ اور پنجاب کے سابق گورنر ملک امیر محمد کو ہلاک کر دیا۔ قطر میں بیٹے نے اقتدار پر قبضہ کر کے باپ کو بے دخل کر دیا جو بیرون ملک دورے پر تھا۔ سعودی عرب میں موجودہ شاہی خاندان بھی اقتداار کی لڑائی میں کامیاب ہو کر برسراقتدار آیا تھا۔ ایسے معاشرہ میں شکستیں اور رقابتیں کبھی فراموش نہیں کی جائیں۔ موجودہ سعودی خاندان میں ایک بادشاہ کے بعد شاہی اقتدار بھائیوں میں تقسیم ہوتا رہا۔ اس سے شاہی خاندان کے اندر ہی شاہی ورثہ کے حق سے محروم حلقوں میں رنجش کی فضا بڑھتی رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل چند ایک سعودی علاقے میں بغاوت جیسی شورشیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ تازہ ترین کش مکش اس وقت شروع ہوئی جب سعودی بادشاہ نے اچانک اس وقت کے ولی عہد کو فارغ کر کے اپنے 31 سالہ بیٹے کو ولی عہد بنایا اور اسے بہت سے اختیارات تفویض کر دیئے۔ حالیہ اقدام کے تحت ایک نئی انسداد کرپشن کمیٹی تشکیل دی گئی اس کا چیئرمین بھی بیٹے شہزادہ محمدبن سلمان کو بنا دیا اور سزا وغیرہ دینے کے وسیع اختیارات بھی دے دیئے ہیں اہم بات یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے گیارہ شہزادوں کا تعلق تو شاہی خاندان سے ہے۔ دوسرے لوگوں کا تعلق بھی بڑے قبائلی خاندان سے ہے۔ 11 شہزادوں کی گرفتاری ہی سنسنی خیز واقعہ ہے، انہیں کوئی سزا دی گئی تو اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ٭امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ٹیکساس کے ایک گرجا گھر میں ایک مسلح شخص اچانک اندر داخل ہوا اور تیز فائرنگ سے 27 افراد ہلاک کر دیئے 40 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ نیا نہیں، کچھ عرصے سے امریکہ میں وقفہ وقفہ کے ساتھ بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ ان کے ملزموں میں بیشتر افراد امریکی باشندے ہوتے ہیں۔ ٹیکساس کے واقعہ میں بھی حملہ آور امریکی ایئرفورس کا سابق ملازم تھا جسے کچھ عرصہ پہلے فارغ کر دیا گیا تھا۔ یہ نہا یت الم ناک واقعہ ہے۔ گرجاگھر عبادت گاہ ہوتا ہے اس میں ایسی وحشیانہ کارروائی انتہائی مذموم ہے مگر یہ مذموم کارروائی تو ہماری مسجدوں، امام باڑوں حتیٰ کہ جنازوں کے ساتھ بھی ہوتی رہی ہے۔ انسان انسانیت کو بھول جائے تو وحشی حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ امریکہ کی بدقسمتی کہ اس پر اوپر ایک پاگل قسم کا شخص بیٹھا ہوا ہے، اس کے پاگل پن نے پوری امریکی قوم کو پاگل پن کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ٭ملک تقریباً دو ہفتوں سے وزیرخزانہ کے بغیر چل رہا ہے۔ وزیراعظم بھی اپنے منصب کے مختصر عرصے میں لندن کے تین پھیرے لگا چکے ہیں۔ وہ اچانک اس طرح لندن چلے جاتے ہیں جس طرح کوئی سبزی لینے کے لئے نزدیکی مارکیٹ میں جاتا ہے۔ شائد انہیں پاکستان میں اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد بلا سکیں۔ انہیں لندن جا کر وزیراعلیٰ کو طلب کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ٭پانامہ کے بعد اب پیراڈائز لیکس! ایک ہی طرز کے کیس ہیں۔ پانامہ لیکس میں پاکستان کے چار سو 52 افراد کے نام تھے، پیراڈائز نے مزید 133 پاکستانی گنا دیئے ہیں ان میں سابق وزیراعظم و وزیرخزانہ شوکت عزیز کا نام بھی شامل ہے مگر شوکت عزیز تو پاکستان کا شہری ہی نہیں۔ اس نے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کا شناختی کارڈ بنوایا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس نے اثاثے وزیرخزانہ بننے سے پہلے بنائے تھے۔ ویسے بھی آف شور کمپنیاں بنانا کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا۔ یہ انکم ٹیکس کے لئے جائز قانونی طریقہ قرار دیا جاتا ہے، اس لئے ملکہ الزبتھ وغیرہ کے نام پیراڈائزڈ لیکس میں آنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں۔ ٭جنرل باجوہ افغانستان میں، روس میں، چین، ترکی، سعودی عرب میں اور اب ایران میں! ویسے اس ملک کا ایک وزیرخارجہ بھی ہے پتہ نہیں کیا کر رہا ہے؟ ٭پاکستان کے سابق وزیراعظم نے اس عہدہ کے ساتھ ایک ملک میں قائم ایک کمپنی کی ملازمت بھی اختیار کی ہوئی تھی اور وہاں کا اقامہ لے رکھا ہے۔ بات نکلنے لگی ہے تو وزیرداخلہ احسن اقبال، وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈاراور جہانگیر ترین کے بھی بیرون ملک اقامے نکل آئے ہیں! آصف زرداری کے خاندان کے پاس دبئی کے اقامے ہیں۔ پرویز مشرف اور عشرت العباد بھی اقاموں کی بنیاد پر دبئی میں بیٹھے ہیں۔ عمران خان کے مطابق میاں نواز شریف کے دونوں بیٹوں کے پاس برطانیہ کے اقامے اور پاسپورٹ ہیں۔ خود عمران خاں کے دونوں بیٹوں کے پاس برطانیہ کی شہریت اور پاسپورٹ ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو سفر ہی کینیڈا کے اقامے اور پاسپورٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ امداد کی اپیل

٭روزنامہ اوصاف کے قطعہ نگار اور ملک کے معروف شاعر اقبال راہی کا بڑا بیٹا کامران اقبال تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ گزشتہ روز میوہسپتال میں اس کا آپریشن ہونا تھا مگر سردی لگنے سے نمونیا بھی ہو گیا ہے۔ ستم یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی انتظامیہ مجبور کر رہی ہے کہ اس کے باہر سے ٹیسٹ کرانے جائیں۔ یہ ٹیسٹ بہت مہنگے ہیں۔ گزشتہ روز صرف ایک ٹیسٹ کے پانچ ہزار روپے دینے پڑے۔ راہی صاحب کی مالی حالت اتنے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔ دردمند اہل دل حضرات سے ان کی مالی معاونت کی اپیل کر رہا ہوں۔ ان کا رابطہ نمبر (03224534350) ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved