جھوٹ، سفید جھوٹ
  8  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہر چند دن کے بعد لندن کا دورہ کرتے رہتے ہیں، کیوں جاتے ہیں؟ اسکا جواب صحافیوں کے پاس نہیں ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ سرکاری خزانے سے لندن کا ٹکٹ کے کر جاتے ہیں یاپھر اپنے پاس سے لندن میںقیام کے دوران اخراجات برداشت کرتے ہیں؟ اس کا سراغ لگانا پاکستان کے خفیہ اداروں کا کام ہے کہ نامزد وزیراعظم بار بار لندن کیوں جاتا ہے، ابھی حال ہی میں اس نے لندن کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے لند ن اسکول آف اکنامکس میں معرزین سے خطاب بھی کیاہے، جس میں انہوںنے کہا ہے کہ سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف کی اقتدار سے بے دخلی کو عوام نے قبول نہیں کیاہے، انہیں وہاں اس عظیم ادارے میں جھوٹ اور حقیقت کے بر خلاف بات نہیں کرنی چاہئے تھی، ان کے پاس ایسا کیا سانٹفیک سروے موجود ہے جسکی بنیاد پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام نے پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے، حالانکہ نواز شریف کو کرپشن کی بنیا د پر سپریم کورٹ نے اقتدار سے ہٹایا ہے ، اسوقت بھی ان کے خلاف نیب میں ان کے مبینہ کرپشن سے متعلق کیسیز زیر سماعت ہیں تو پھر سوا ل یہ اٹھتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی لندن اسکول آف اکنامکس میں تقریر کے دوران کس کو بے وقوف بنارہے تھے؟ کیا وہاں موجود لوگ نوازشریف اور ان کے خاندان کی کرپشن سے واقف نہیں ہیں؟ مزیدبراں نامزد وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ نا اہل وزیراعظم کی وجہ سے پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے، جبکہ سابقہ حکومت یعنی زرداری کے دور میں معیشت کی صورتحال اطمینان بخش نہیں تھی، حلانکہ اسوقت معیشت کی جو صورتحال تھی اس سے سب واقف ہیں، تبصرہ کرنالاحاصل ہے، صنعتی وزرعی شعبہ ترقی کے اس معیار پر نہیںہے، جو اسکو ہونا چاہیے تھا، شاہد خاقان عباسی نے اپنی تقریر میںیہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے، کتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے، صرف کراچی کے مختلف علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، اندرون سندھ اس سے بھی زیادہ برا حال ہے، مزید براں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کردیاگیا ہے، اسوقت صارفین کو مہنگے داموں بجلی فروخت کی جارہی ہے، اسکے ساتھ ساتھ جھوٹے اور جعلی بل صارفین کو بھیجے جارہے ہیں، جنکو ادا کرنا ان کی دسترس سے باہر ہے، ان کی داد رسی کرنے والا کوئی موجود نہیںہے، حکومت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، اسکا وجود کہیں نہیں ہے، عوامی نقطہ نگاہ سے ایک اور تکلیف دہ صورتحال پیٹرول اور اسکی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ سے پیدا ہوئی ہے، حالانکہ عالمی سطح پر اب بھی فی بیرل پیٹرول کی قیمت پچاس سے ساٹھ ڈالر کے درمیان ہے ، اس معمولی اضافہ کا ابھی تک ترقی پزیر معیشتوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے، لیکن حکومت نے جس میں زیادہ تر افراد نواز شریف کی مبینہ کرپشن کے ساتھی ہیں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا ہے، اسکے بر عکس حزب اختلاف کی جماعتیں اس اضافے کے خلاف آواز یں بلند کررہی ہیں، لیکن حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے، نیز یہ بھی حقیقت نا قابل تردید ہے کہ پیٹرول اور اسکی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوچکاہے، کیونکہ بڑے تاجر سے لے کر چھوٹے تاجر تک فوراً ہی اپنی مصنوعات میںجس میں خوردونوش کی اشیا بھی شامل ہوتی ہیں، فوراً ہی اضافہ کردیتے ہیں، اور اپنا نقصان عوام پر منتقل کردیتے ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی کے تلے دبے ہوئے ہیں، سسک رہے ہیں، ان معروضی حالات کے پیش نظر پاکستان میں مجموعی طورپر غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہاہے، آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جسکی ضروریات پورا کرنے کے لئے موجودہ معاشی نظام میں نہ تو سکت ہے اور نہ ہی قوت! حکومت میں شامل سیاست دانوں کے پاس عوامی مسائل کو حل کرنے کا کوئی ویژن نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دے رہے ہیں، جسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر جگہ افراتفری نظر آرہی ہے، نواز شریف نے میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی بد نام زمانہ خوشامدی عناصر کو کلیدی عہدوں پر فائز کررکھا ہے، جن کا صرف ایک کام ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بچا کر واپس انہیں ان کے منصب پر فائز کرادیا جائے جو کہ تقریباً نا ممکن ہے، نامزد وزیراعظم بھی اس ہی کوشش میںاپنا سر کھپارہے ہیں، لندن اسکول آف اکنامکس میں انہوںنے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق جو سفید جھوٹ بولا ہے اس پر ان کی گرفت ہونی چاہئے، پنجاب کے صرف چند حلقوں میں نواز شریف کی حمایت کا یہ مطلب ہرگز نہیںہے کہ عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیاہے، ذرا سوچئے۔ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیاہے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved