لبرل اسلامسٹ
  8  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ ہم ''امیر'' ہونے کے چکر میں نبیوں کا بتایا ہوا طریقہ بھول گئے...والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو حلال اور حرام کی تمیز سکھائیں' نوجواہوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کریں... دنیا کی ہر عزت' شہرت سے بچنے کی کوشش کرو... آخر میں چند مٹھی خاک کے سوا کچھ نہیں بچتا... جائو ٹوٹی ہوئی قبریں دیکھو... اٹھتے جنازے دیکھو' اجڑی بستیاں دیکھو' جو کہا کرتے تھے کہ ہمارے بغیر کام نہیں چلتا... آج قبر کے کیڑوں نے ان کی ہڈیوں کا بھی چورا چورا کر دیا ہے' ملاوٹ کرنے اور حرام کھانے والا ہم میں سے نہیں ہے... اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسولۖ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔'' مولانا طارق جمیل نے یہ باتیں رائے ونڈ تبلیغی اجتماع کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہیں...میڈیا رپورٹس کے مطابق رائے ونڈ اجتماع کے پہلے مرحلے میں شریک ہونے والے فرزندان توحید کی تعداد12لاکھ سے متجاوز تھی '' مولانا طارق جمیل چونکہ عالمی مبلغ اسلام ہیں... اس لئے وہ انسانی زندگی کی اصل حقیقتیں کھول کھول کر بیان کرتے رہتے ہیں... ورنہ جب لادین پٹاری کے ہرکاروں' موم بتی مارکہ این جی اوز کے ڈالر خوروں کے ساتھ شامل ہو کر حکمران بھی... ایک اسلامی نظریاتی مملکت کو ''لبرل'' ' ''سیکولر'' بنانے کے لئے حکومت کی تمام تر توانائیاں وقف کر ڈالیں... جب دجالی میڈیا ... قوم کے جوانوں کو فحاشی و عریانی اور مادیت کے خوشنما جال میں پھنسانے کے لئے نت نئے راستے اختیار کرے... ایسے ماحول میں پھر بچوں کو حلال و حرام کی تمیز سکھانے کی فرصت کہاں رہ جاتی ہے؟ میں ایک باپ کے وہ الفاظ کیسے بھول سکتا ہوں کہ جو کسی دوست کے شکوے پہ ... اس نے اسے کہے تھے... جب دوست نے اسے کہا تھا کہ اپنے بیٹے کو قابو کرو... اسے حلال و حرام کی تمیز سیکھائو 'ورنہ یہ تباہ ہوجائے گا... تو باپ نے آگے سے جواب دیا تھا کہ ... اگر میں اپنے بیٹے کو ''حلال و حرام'' کی تمیز سکھانے لگ گیا تو وہ کمائے گا کیسے؟ اور ہم کھائیں گے کہاں سے؟ ''استغفراللہ'' لادین پٹاری کے ہرکارے اس دور کو انٹرنیٹ ' کمپیوٹر ' ٹی وی چینلز کا دور کہتے ہیں... اس دور کو جدید دور کہا جاتا ہے ... اس لئے اس دور میں نوجوانوں کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کریں؟ ٹوٹی قبریں' اجڑی بستیاں' اٹھتے جنازے ہم روز دیکھتے ہیں... لیکن شیطان ہمیں بڑے غیر محسوس انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے... یہ قبریں تو دوسروں کی ہیں... یہ بستیاں تو نہ جانے کن کن کی ہیں... یہ اٹھتے جنازے تو فلاں' فلاں کے ہیں... بھلا تمہاری بھی کوئی عمر ہے؟ ابھی تو بڑا وقت پڑا ہے... بڑی عمر پڑی ہے... شیطان کے ''سیکولر'' بہکاوں میں آکر ہم ٹوٹی قبریں' اٹھتے جنازے اور اجڑی بستیوں کو بھول کر ... ہم ایک دفعہ پھر ''مادیت'' کی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ٹی وی چینلز کے پیدا کردہ ایک ''لبرل اسلامسٹ'' سے ملاقات ہوگئی... آپ بھی حیران ہوں گے کہ لبرل اور اسلامٹ اکٹھے کیسے ہوگے... جی ہاں یہ ساری کرامتیں نائن الیون کی کوکھ سے جنم لینے والی نئی نویلی تہذیب کی ہیں... پہلے ''لبرل'' ' صرف ''لبرل'' اور ''سیکولر'' صرف ''سیکولر'' اور اسلام پسند صرف ''اسلام پسند'' ہوا کرتے تھے... مگر نائن الیون کے بعد ڈالروں اور پائونڈز کی ایسی برکھا برسی... اور مغرب کی پروردہ این جی اوز کے ڈالر خوروں نے ... مولویوں' دینی مدارس' سابق جہادیوں' صاحبزادوں اور فرقہ پرستی کا طعنہ سہنے والی مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں پر ... ایسے سنہرے جال پھینکے کہ الامان والحفیظ' مغرب کی پروردہ این جی اوز کے ڈالر خوروں کے پھینکے ہوئے سنہرے جال میں پھسنے کے بعد کس کس نے اپنی ڈاڑھیاں ترشوا کر ... اپنے نام کے ساتھ سے ''مولوی'' ' ''مولانا'' ''مفتی'' اور حافظ کے لاحقے ہٹا ڈالے... کس' کس نے سروں کی پگڑیوں اور ٹوپیوں کو پکی پکی چھٹی کروا کر... لبرل سروں کے ساتھ نوٹ سمیٹنے کو ترجیح دی ؟ اس حوالے سے اس خاکسار کے پاس نادر معلومات کا ایسا ذخیرہ ہے کہ جسے اگر لکھا جائے تو اسے پڑھ کر سکہ بند ''لبرل'' بھی ... اپنا سر پیٹنے پر مجبور ہو جائیں۔

مذہبی جماعتوں کی صفوں اور دینی مدارس سے نکل کر ... ''لبرل'' بننے والوں کا حال اسی ''کوے'' والا ہے... جو چلا تھا ہنس کی چال مگر اپنی بھی کھو بیٹھا... یہ بے چارے کبھی ''غامدیت'' کی گود میں اچھلتے ہیں کبھی ''قادیانیت'' کے جوھڑ میں غوتے کھاتے ہیں... اور کبھی لادینیت کے پیروکاروں سے بچی ہوئی ہڈیوں پر گزارا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ... بچپن اور لڑکپن میں زکوٰة ' صدقات کا مال کھا کر جوانی میں ''غامدیت'' کی گود میں سر چھپانے والے یہ ''بے چارے'' ایسے ہیں کہ جنہیں سب سے پہلے اپنے سربلند ''آبائ'' کی تعلیمات کو جھٹلانا پڑا' اس نئے نئے لبرل ''اسلامسٹ'' دوست کے سامنے میں نے مولانا طارق جمیل کے مندرجہ بالا بیان کا حوالہ دیا... تو اس نے چند ماہ پہلے ہی پگڑی سے آزاد ہونے والے نیم گنجے سر کو ہلاتے ہوئے بڑے نخوت بھرے لہجے میں جواب دیا... ہاشمی صاحب١ آپ اسی لئے اسلام آباد جیسے شہر میں رہ کر بھی ابھی تک کچھ نہیں کما سکے... ان مولویوں کا یہی تو مسئلہ ہے... گورے چاند پہ چلے گئے... اور یہ ہمیں کوئی قبریں'اجڑی بستیوں اٹھتے جنازوں اور قبر کے کیڑوں جیسی دقیانوسی باتوں میں الجھانا چاہتے ہیں... میں اس سابق مذہبی اور موجودہ ''لبرل اسلامسٹ'' کو دیکھتا ہی رہ گیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved