دنیا بھر کے بدعنوان لوگ!
  8  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭حیرت کے ساتھ عبرت اور عبرت کے ساتھ شر م ناک رسوائی اور ذلت! ساری دنیا ہی بدعنوان نکلی۔ پانامہ لیکس کے بعد پیراڈائز لیکس ، دنیا بھر میں ملکہ الزبتھ سے لے کر متعدد ملکوں کے صدور، چار وزرائے اعظم ،بے شمار وزیر، سینکڑوں بلکہ ہزاروں بڑے بڑے تاجر، اعلیٰ حکام، راجے، مہاراجے، نواب… سب کے سب عوام کے ٹیکسوں کو لوٹ کر دولت کے انبارلگانے والے ٹیکس چور! حالیہ پیراڈائز لیکس کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سمیت135بڑے بڑے مالیاتی مگر مچھ اربوں کھربوں کی دولت جمع کرکے ٹیکس بچانے کے لیے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر لے گئے اور آف شور کمپنیاں بناکہ اپنے ملک میں ادا کرنے کی بجائے باہر جاکر اربوں کے ٹیکس بچالئے۔ پاکستان میں تو135نئے بدعنوان سامنے آئے ہیں۔ بھارت میں ایسے 714 بد قماشوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں انکم ٹیکس کے محکمے پیچھے لگ گئے ہیں۔ ٭پاکستان میں لندن کے دوروں میں مصروف رہنے والے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سید خور شید شاہ نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے اپنے تحفظ کی خاطر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس جاوید اقبال کو نیب کا چیئرمین بنالیا مگر ان کا یہ انتخاب خود ان کے لیے پھندا بن گیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کیا قدم اٹھایا کہ مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق کے سارے پرانے کھاتے کھولنے کے بعد اب پیپلزپارٹی کے خود ساختہ اصلی چیئرمین آصف زرداری اور پارٹی کے دوسرے نمایاں لیڈروں کے کھاتے کھولنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ سیلاب آتاتوہے جھونپڑیوں کے علاوہ بڑے بڑے محلات بھی ڈوب جاتے ہیں۔ یہ بات عمران خاں کہہ رہے ہیں کہ اسحاق ڈار کے الد کی سائیکل کی دکان تھی، اسحاق ڈار سکوٹر پر پھراکرتاتھا، اب کھرب پتی ہے۔ اور یہ کہ خورشید شاہ محکمہ بجلی میں میٹر ریڈر ہوتے تھے،25 سال میں40ارب کی جائیداد کے کیسے مالک بن گئے؟ میں عمران خان کی جرأت مندانہ صاف گوئی پر کھلا اظہار تحسین کرتاہوں۔ انہیں اس دلیرانہ جرأت گوئی پر داد دیتا ہوں مگر عمران صاحب! خود آپ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کیا ہے؟ ٭اور ہاں عمران خان صاحب! پہلے بھی اعتراض چھپ چکا ہے کہ آپ کے نامزد کردہ پختونخوا کے وزیراعلیٰ ذاتی معاملات کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کررہے ہیں۔ دو روز قبل وہ سرکاری ہیلی کاپٹر پر ایک عزیز کی شادی کے لیے گئے۔ آپ کیوں ان باتوں کا نوٹس نہیں لیتے۔ خاں صاحب! میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایک عام پانچ نشستوں والا ہیلی کاپٹر تقریباً32 کروڑ میں اور بڑا ہیلی کاپٹرایک ارب75 کروڑ روپے میں آتا ہے۔ ہیلی کاپٹروں میں ایک دن کے اندر60ہزار سے 90 ہزار روپے تک تیل جلتاہے۔ مجھے انداز ہ نہیں پرویز خٹک کس قسم کے ہیلی کاپٹر میں ادھر اُدھر اڑتے پھرتے ہیں۔ سنا ہے وہ صوبائی اسمبلی کے امیر ترین رکن ہیں۔ کیا وہ سرکاری ہیلی کاپٹر وں کے یہ لاکھوں روپے کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں؟ خاں صاحب! کبھی آپ نے خٹک صاحب سے سوال کیا؟ ٭اٹک میں تحریک انصاف کا بہت بڑا جلسہ ہوا۔ تحریک کا دعویٰ ہے کہ اٹک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جلسہ تھا۔ اس سے ہاکی گراؤنڈ بھر گئی ، سٹیڈیم کے باہر بھی اتنا ہی بڑا ہجوم تھا۔ جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں چودھری پرویزالٰہی کے برادر نسبتی میجر(ر) طاہر صادق اپنے بڑے گروپ کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ (پتہ نہیں چوہدری پرویزالٰہی کے دل پر کیا گزر رہی ہے!) ۔میجر طاہر صادق کا اٹک کے نمایاں سیاست دانوں میں شمار ہوتاہے۔ یہ جلسہ بھی انہوں نے کرایا ہے۔ ان کے ساتھ یونین کونسلوں کے بہت سے چیئرمین اورکونسلر بھی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ صرف ایک چھوٹی سی بات کہ میجر(ر) طاہر صادق نے عمران خان کو جو کھانا دیا اس میں ہر قسم کے کھانوں کی 26ڈشیں تھیں، ان میں ہر قسم کا روسٹ گوشت، کباب، چڑے، بیٹر، تیتر، مختلف اقسام کی مچھلی اور دوسری ڈشیں شامل تھیں۔ اور یہ کہ ا س موقع پر جمع ہونے والے کارکنوں کو صرف ایک ڈش والا کھانادیاگیا۔ ٭کراچی میں ایک ٹرک سے کروڑوں روپے کی پانچ ٹن منشیات پکڑی گئیں ۔ ڈرائیور بھاگ گیا۔ پولیس کی اچھی کارکردگی ہے مگر اتنی بھاری مقدار میں یہ منشیات افغانستان سے پشاور اور پھر بیسوں ناکوں سے گزر کر اچی کیسے پہنچ گئیں؟ یہی عالم اسلحہ کا ہے۔ اب تک جتنی خبریں آچکی ہیں ان کے مطابق ملک بھر میں پچھلے چند برسوں سے گاڑیوں سے اور زیر زمین چھپایا ہوا سینکڑوں ہزاروں من جدید ترین خطرناک اسلحہ پکڑاجا چکا ہے۔ منشیات اوراسلحہ کی بہت سی خبریں آتی رہتی ہیں۔ پکڑنے والوں کی پریس کانفرنسیں ہو تی ہیں۔ نمایاں تصوریر یں چھپتی ہیں مگر آج تک کبھی کوئی چھوٹی سی بھی خبر نہ آئی کہ یہ منشیات اور اسلحہ کہاں گیا؟ ملزموں کا کیا بنا؟ یہ کہاں سے آتی ہیں اور کیوں اتنی آسانی سے سینکڑوں کلومیٹر طے کرکے کراچی اور گوادر تک پہنچ جاتی ہیں؟ ظاہر ہے یہ سب کچھ مُک مکا اور باہم معاہدوں اور سمجھوتوں کے ذریعے ہی طے پاتا ہے۔

٭شاید قارئین کرام میری اس بات پر ناراض دکھائی دیں کہ میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آنے سے معذرت پر شکر ادا کر رہا ہوں۔اس کے یہ معنی ہرگزنہیں کہ میں کرکٹ یا کسی کھیل یا پاکستان میں کسی غیر ملکی ٹیم کی آمدکے خلاف ہوں۔ میں نے سکول اور کالج میں ہاکی ، فٹ بال اور والی بال اور کرکٹ میں بھرپور حصہ لیا۔ نارووال کی کرکٹ ٹیم کی گیارہ سال کپتانی کی۔ ہر کرکٹ میچ بہت دلچسپی سے دیکھتا ہوں مگر پچھلے کچھ عرصے سے کرکٹ کے نام پر ملک میں جو کچھ ہورہاہے ۔ اس کو دیکھ کر دعا کرتا ہوں کہ ایسے حالات میں کوئی باہر کی ٹیم نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔ حال ہی میں چند روز پہلے سری لنکا کی ایک کرکٹ ٹیم رات کے وقت صرف تین گھنٹے کا ایک میچ دیکھنے آئی۔ اس کے آنے سے چار روز پہلے مال روڈ سمیت لاہور کی چار بڑی اور کچھ دوسری سڑکیں مکمل طورپر بند کردی گئیں۔ لاہور کے عوام کے تحفظ کے ذمہ دار تقریباً 10 ہزار پولیس والے مستقل طورپر چار روز تک سٹیڈیم اور سڑکوں پر مقرر رہے۔انہیں اعلیٰ کھانااور لاکھوں روپے روزانہ کا اضافی الاؤنس دیا۔ سٹیڈیم کے ساتھ تمام سرکاری دفاتر اور اندر باہر اردگرد تمام بڑی مارکیٹیں اور شادی ہال چار روز بند رہے۔ تاجروں کے مطابق انہیں کروڑوں کانقصان ہوا۔ سری لنکا کی ٹیم کو کروڑوں کا معاوضہ دیا گیا۔ میچ پر تقریباً15 کروڑ روپے خرچ ہوئے، اور صرف تین گھنٹے کا میچ کرایا جاسکا۔ لاہور کی چار بڑی سڑکیں بند رہنے سے پورے لاہور میں چار روزتک ساری ٹریفک بری طرح جام رہی۔ ہزاروں لوگ کئی کئی گھنٹے پھنسے رہے۔ ایسا پہلی بارنہیں ہوا۔زمبابوے کی ٹیم کے آنے پر اورکچھ عرصہ پہلے سری لنکا کے ساتھ لاہور میں پاکستان کرکٹ لیگ کے فائنل میچ ون ڈے پر بھی یہی کچھ ہوا۔ ان میچوں پر 30کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ ان میں پاکستان کرکٹ کے شہنشاہی مزاج والے چیئرمین اور بے شمار دوسرے افسروں کے عرب امارات میں بار بار طیاروں کے فرسٹ کلاس سفر ،وہاں اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں رہائش اور روزانہ کے بھاری الاؤنس بھی شامل تھے۔ مجھے حیرت ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے بھی کراچی میں میچ کرانے کے لیے لاہور کے عوام پر اترنے والا عذاب کراچی کے عوام پر ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے جو قبول بھی ہوگیا ہے!! ٭تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے بالآخر اعتراف کرلیا کہ ان کی اب بھی ایک آف شور کمپنی ''شائنی'' موجود ہے۔ اس کے اربوں کے کاروبار کے وہ خودمالک و مختار ہیں۔ کمپنی کے حصہ داروں اور منافع حاصل کرنے والوں میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ جہانگیر ترین نے تسلیم کیا ہے کہ اپنے گوشواروں میں اس آف شور کمپنی کا ذکر نہیں کیا…! قارئین خود تبصرہ کرلیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved