کچھ پاکستان کے لئے سوچو
  9  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب آنکھوں کی روشنی کارخانہ ٔ قدرت میں پھیلاؤ مانگتی ہے۔ جب محبت اور خلوص کے دائرے بڑھتے ہیں ۔ چاہت کے جذبے وسیع ہوتے ہیں ۔ پسند و ناپسند کی تمیز جنم لیتی ہے تو سوچ کے دائروں میں خلل پیدا ہوتا ہے۔معاشرتی رویوں کے نشیب و فراز کبھی تو محبت اور خلوص سے انسانیت کے خوبصورت جذبات کو اخوت اور بھائی چارے کی لڑی میں پروتے چلے جاتے ہیں اور کبھی نفرتوں اور خود غرضیوں کے جذبے اسے انسانی رشتوں کی چاشنی سے دور لے جاتے ہیں ۔دنیاوی رویوں میں یہ چاشنی کبھی انسان کوپیار اور محبت کی بلندیوں کا نظارہ کراتی ہے اور کبھی دوری کے اثرات سے متاثر ہو کر انسان نفرتو ں کی دلدل اور حقارتوں کے جذبے میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ رشتوں کے تناظر ٹوٹتے چلے جاتے ہیں ۔بعض اوقات عزت و احترام کی محرومیاں ، منافقوں کی سوچ کے دائرے اس قدر کسی بھی شخصیت کو مسخ کرنے کاسبب ہوتے ہیں کہ انسان ٹوٹ کے رہ جاتا ہے۔بدکردار لوگ کسی بھی شخص کی زندگی تباہ کر کے، اس کو منزل سے ہٹا کر مزے لیتے ہیں ۔اسے اپنی سیاسی چالیں اور مکاریوں کی کامیابی سمجھتے ہیں ۔لیکن باہمت اور جرأت مند لوگ ایسے لوگوں کوگندے کیڑے سمجھتے ہوئے اپنی منزل کا رخ الجھاؤ سے بچاتے ہوئے حقیقتوں کے طرف لے جاتے ہیں ۔نہ انہیں معاشرتی ناہمواریوں کا کبھی احسا س ہوتا ہے، نہ وہ کبھی منفی رویوں کا اثر لیتے ہیں ، نہ وہ کسی کے سہارے زندگی کا کٹھن سفر شروع کرتے ہیں اور نہ انہیں کسی سہارے کی امید ہوتی ہے۔وہ صرف اپنی منزل پر نظر رکھتے ہیں ۔اور قدرت کی دی ہوئی زندگی کے انعام کو اس کے بتائے ہوئے راستے میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نہ انہیں رویوں کے تھپیڑوں کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ انہیں معاشرے کے بدکردار لوگوں کی چاپلوسی اور منافقانہ روشوں میں الجھاؤ پسند آتا ہے۔ مکار اپنی جگہ سمجھتا ہے کہ اس نے زبردست چال چلی۔سچا رہنما اپنی منزل کے سفر میں مست، گندگی سے دامن بچاتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔با عمل انسان منافقت کے ہر جھٹکے کو، کردار کی ہر برائی کو نفرت اور حقارت سے جھٹکتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ کے دائرے حقیقتوں کی گہرائی میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں ۔یہاں زندگی کی عجیب روشنی پھوٹتی ہے جو انسانی حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے۔کبھی انسان اپنی ناپائیداری پر نظر ڈالتا ہے، کبھی اکڑی گردنوں کی لمبائی پر نظر رکھتا ہے۔پاک فوج تو پاکستان کی روح ہے۔ادارے ایک دوسرے کا احترام کرنے اور تکریم کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ایسی سوچ اجتماعی طور پر پیدا کی جائے تو پھر یہ ممکن ہی نہیں کہ جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔پارلیمنٹ 20کروڑ عوام کی سوچ اور دانش کا مظہر ہے۔لیکن وہ بھی بے لگام نہیں۔ اس کے لئے بھی قانون و ضوابط ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ''ماں'' ہے۔ہر ادارے کو اپنا تقدس اوروقار برقرار رکھتے ہوئے اپنے دائرہ کار میں پاکستان کیلئے کام کرنا چاہیئے تو پاکستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ہم سب پاکستانی ہیں اور تمام ادارے پاکستان کے ہیں ۔ہمیں محبت، یگانگت اور ہم آہنگی کے ساتھ چل کر معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا ہے۔پارلیمنٹ ، عدلیہ ، انتظامیہ اور فوج کا اپنا اپنا کردار ہے۔ اگر ہم مربوط ہو کر پاکستان کی خدمت کریں گے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے۔اگر عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کے سب عوام متاثر ہوتے ہیں ۔ جب جمہوریت پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دوسرا حملہ عدلیہ پر ہوتا ہے۔لیکن میں پر امیداور پر اعتماد ہوں کہ اب ہم اس صورتحال سے آگے نکل چکے ہیں ۔ایک منزل اور روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہیں ۔

گزشتہ چند دنوں سے قوم کا مورال بلند ہو رہا ہے اور آئندہ بھی دانشمندانہ گفتگو سے مایوسی کے سائے چھٹ جائیں گے۔بعض اوقات انسان ناکردہ گناہوں میں گرفتار ہو کر بھی اپنی شہرت کو نقصان سے نہیں بچا سکتا۔لیکن اصل حقیقت سامنے آنے کے بعد اس کی عزت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔1966ء میں ایسا ہی ایک واقعہ ہوا کہ ایک نوجوان کا نکاح ہونے لگا۔گھر میں مجمع لگا ہوا تھا۔مولوی نے نوجوان کا کا نام پوچھ کر اس کے والد کا نام پوچھا تو نوجوان گھبرا گیا ۔ اس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ ۔ میں اپنی ''ماں'' سے پوچھ کر آ تا ہوں ۔''ماں'' خواتین کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی۔نوجوان کا سوال سن کر گھبرا گئی اور خاموش ہو گئی۔ نوجوان غصے اور شرمندگی سے چلا چلا کر بول رہا تھا۔جب ''ماں '' کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو اس نے کہا ایسے حالات میں میں زندہ نہیں رہ سکتا۔خودکشی کرنے لگا ہوں ۔ تمام خواتین نے اسے اٹھ کر پکڑ لیا اور ساتھ ہی اس کی ''ماں '' بھی اٹھ کر رونے لگی۔تب اس کی ماں نے تقسیمِ ہند کی بات سنائی کہ اس وقت مسلمانوں کے قافلے پیدل چل کر پاکستان کی طرف آ رہے تھے۔ راستے میں مسلمانوں پر حملے کر دئیے گئے۔ہمارے نوجوان اور بوڑھے خوب لڑے لیکن خالی دست ہونے کی وجہ سے مارے گئے۔خواتین رات کی تاریکی میں ماری گئیں اور کچھ بکھر گئیں ۔میں اکیلی قافلے سے نکل کر پاکستان کی طرف بھاگنا شروع ہو گئی۔دن کو جنگلوں اور فصلوں میں چھپ جاتی اور رات کو چل پڑتی۔ایک رات میں آ رہی تھی تو ایک بچے کے رونے کی آواز آئی ۔ قریب گئی تو درجنوں لاشیں پڑی تھیں۔ان میں صرف ایک روتا ہوا بچہ تھا جس کو اٹھا کر میں پاکستان کی طرف چل پڑی۔منزل قریب تھی ۔ دوسرے دن پاکستان پہنچ گئی۔ پاکستان میں مسلمانوں نے مجھے پناہ دی اور سب کو میں نے اس بچے کی متعلق یہی بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔لہٰذا اس بچے کے باپ کا نام مجھے بھی نہیں پتہ۔یہ بالکل حقیقی کہانی ہے ۔ کالم کی طوالت کی وجہ سے مزید نہیں لکھا جا سکتا۔بات آپ کو سمجھ آگئی ہو گی ۔ ہم سب کو اس پاکستان کی حفاظت کرنی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved