ایک اور استعفا مع واپسی
  11  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭الطاف حسین اور فاروق ستار کی عزاداریوں اور استعفے واپس لینے کا انداز تو ایک جیسا ہی تھا ،عزاداری بھی اسی طرح کی تھی تاہم فرق یہ رہا کہ الطاف حسین لندن سے رات گئے دو تین گھنٹے سے کم تقریر نہیں کرتاتھا( ایک بار5گھنٹے کی تھی)۔ وہ تقریر کے دوران جھُومتا، گانے گاتا اور پھر رابطہ کمیٹی کو معطل کرنے یا پھر اپنے استعفے کا اعلان کردیتا۔ اس پر رابطہ کمیٹی والے معافیاں مانگنے لگتے اور حاضرین رو رو کر استعفا واپس لینے کی دہائی دینے لگتے۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی چیخ و پکار کے بعد، کارکنوں کے پرزور اصرار پر استعفا واپس لینے کااعلان آجاتا اورفرمانبردار رعایا گھروں میں واپس چلی جاتی۔فاروق ستار کے اسی انداز کے آزادانہ طرزعمل کی ابھی ابتدا ہے، آگے چل کر مزید پختگی آئے گی۔ موصوف نے ایک روز پریس کلب میں جاکر اپنے مخالف مصطفےٰ کمال سے جپھیاں ڈالیں، اکٹھے کام کرنے کااعلان کیا۔ اس پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی برہم ہوگئی اور اس اعلان کو مسترد کردیا۔فاروق ستار اگلا سارا دن گھر میں خاموش بیٹھے رہے۔ رات گہری ہو گئی تو اچانک ہنگامی پریس کانفرنس کااعلان کردیا۔ تقریباً پونے دوگھنٹے تک اپنی شخصیت اور زندگی کی تفصیلات بتائیں کہ صرف 90 لاکھ کی پرانی بلٹ پروف لینڈ کروز ہے جب کہ مصطفےٰ کمال کے پاس سوا تین کروڑ کی نئی لینڈ کروز ہے۔پھر سوال کیا کہ مصطفےٰ کمال کے پاس یہ لینڈ کروز اور شاندار گھر کہاں سے آیا ہے؟مصطفےٰ کمال پر کڑی نکتہ چینی کے بعد اچانک اعلان کردیا کہ میں سیاست اور ایم کیو ایم سے دستبردار ہوتاہوں۔ اس میں حاضرین میں آہ و زاری شروع ہوگئی۔ کراچی کے میئر نے غصے میںآکر سامنے رکھے ہوئے میڈیا کے مائیک اٹھا کر نیچے پھینک دیئے۔ ایک شخص نے زار وقطار روتے ہوئے اعلان کیا کہ استعفا واپس نہ لیا تو خود کو گولی مار لونگا، دوسرے نے اعلان کی اکہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دونگا! مجمع میں ہر طرف رقت طاری تھی۔فاروق ستار استعفاکی واپسی کے لیے مان نہیں رہے تھے۔ اسی حالت میں اٹھ کر گھر کے اندر چلے گئے۔ کارکنوں نے وہاں سے جانے سے انکار کردیا۔ صرف 24 منٹ کے بعد فاروق ستار باہر نکلے اور اعلان کیا کہ والدہ صاحبہ کے حکم پر استعفا واپس لے رہا ہوں ۔ میڈیا میں مزید تفصیلات موجود ہیں۔ اس ساری ہنگامہ آرائی کا کیامقصد تھا؟ کیا حاصل ہوا؟ پہلے کہاگیا کہ چھ ماہ سے دونوں فریقوں میں بات چیت چل رہی تھی۔ پھر کہا کہ مصطفےٰ کمال سے توصرف ایک ملاقات ہوئی تھی اور بس! طویل کش مکش کے بعد اچانک مصطفےٰ کمال کے ساتھ جا بیٹھنے کا پس منظر سامنے آہی جائے گا۔ کہاں سے کیا ہدایت آئی؟ کیا اشار ہ ہواتھا؟ رسی کون ہلا رہا تھا ؟جہاں سے چلے تھے، گھوم کر وہیں پہنچنا تھا تو کیا صرف میڈیا اور عوام میں لذت خیز سنسنی پھیلانا ہی مقصود تھا؟ انتخابات میں تو ابھی نو ماہ پڑے ہیں۔ جلدی ہونے کا کوئی ماحول دکھائی نہیںدے رہا۔ پھر افراتفری میں ایسا شور شرابا کیوں؟ الطاف حسین تو ہر چار پانچ ہفتے بعد استعفے کا ڈراما لگاتاتھا۔ فاروق ستار نے ابھی آغاز کیا ہے، دیکھئے آگے کیا ہوتاہے! بہرحال جو کچھ بھی ہوا، اپنا اور قوم کا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کے عدالت کے بارے میں جوکچھ کہا جارہاہے۔عدالت اس کے بارے میں نہائت صبر وتحمل سے کام لے رہی ہے۔ چیف جسٹس کا اشارا میاں نوازشریف اور مریم نواز کی ان باتوں کی طرف تھا جن پر سپریم کورٹ کے ججوں کو انصاف کا خون کرنے والے متعصب لوگ کہاگیا ہے۔ چیف جسٹس کی بات کے جواب میں مریم نواز نے کہا ہے کہ '' لو! صبر و تحمل کا مظاہرہ تو نوازشریف کر رہے ہیں…!!'' ٭نائب وزیر اطلاعات محترمہ مریم اورنگ زیب کچھ عرصے سے خاموش تھیں۔ گزشتہ روز بول پڑیں ۔ انہوںنے عمران خاں کو چار مقامات بتائے جن پر شرم آنی چاہئے۔ ان مقامات میں امپائر کی انگلی اٹھنے، یہودیوں اوغیر ملکیوں سے فنڈز لینے، چندہ کی رقم سے جوا بازی اور گلالئی کے سوالات کا جواب نہ دینا شامل ہیں۔ محترمہ نے چاروں مقامات کا الگ الگ ذکر کرکے آخر میں بار بار دہرایا کہ شرم آنی چاہئے۔ پتہ نہیں خاں صاحب کیا جواب دیتے ہیں؟ انہوں نے بیک وقت شریف خاندان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے خلاف محاذ کھول رکھے ہیں۔ ویسے وہ تو کچھ عرصے سے مریم نواز کی باتوں کو بھی نظرانداز کررہے ہیں۔ انہیں مسلسل جلسوں سے ہی فرصت نہیں ملتی! خواتین کو وہ اہمیت ہی نہیں دے رہے۔ ایک پرانا چشم دید واقعہ یاد آگیا۔ ایک عمارت کے بالا خانہ پر دوافراد لڑ پڑے۔ ایک نے نظر کے موٹے شیشے والی عینک لگا رکھی تھی۔ اس نے دوسرے سے کہا کہ میں تمہیں مارڈالونگا۔ دوسرے نے بڑے اطمینان سے کہا ''میں تمہاری عینک اتار لونگا''۔ ایک تیسرے شخص نے کہا کہ یہ کیا جواب ہے؟ وہ کہنے لگا کہ '' اسے مارنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں اس کی عینک اتار لونگا۔ اسے کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوئے گر کر خود ہی ختم ہوجائے گا''۔ ٭ٹیلی ویژن پر دیکھ رہا ہوں، ڈیرہ اسماعیل خاں کے ایک سکول میں شادی ہورہی ہے، خواجہ سراؤں اور لڑکیاں ناچ رہی ہیں۔ سکول کا پرنسپل کہہ رہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے سکول میں شادی کا باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا بیان آ جاتا ہے کہ کوئی اجازت نامہ نہیں دیاگیا۔ جعلی اجازت نامہ بنایاگیا ہے۔ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیاجارہاہے! ٭پاکستان میں مختلف گاڑیاں بنانے والے ایک بڑے غیر ملکی ادارے نے حکومت پاکستان سے تحریری شکایت کی ہے کہ ملک بھر میں ہر جگہ ملاوٹ والا پٹرول فروخت ہورہاہے۔ اس سے لاکھوں گاڑیوں کے انجن خراب ہوگئے ہیں۔ ایسے پٹرول سے بالکل نئی گاڑیاں بھی خرابی کی شکار ہو رہی ہیں۔ جس سے ادارے کو مسلسل شکایات آرہی ہیں! قارئین جانتے ہیں کہ ملک کی پٹرولیم کی وزارت چاربرسوں سے اور اب بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس ہے! پٹرول پمپوں پر پٹرول کم ملنے کی شکایات بھی عام ہوچکی ہیں! قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ اس کے علا وہ ہے۔

٭ایک چھوٹی سی خبر: برصغیر کے مشہور ،کچھ حلقوں کے مطابق پنجاب زبان کی سب سے بڑی شاعرہ امرتا پریتم کا دہلی کے علاقہ حوض خاص میں25-K نمبر کا مکان مسمار کردیاگیا۔ امرتاپریتم نے1947ء کے خونریز واقعات پر ''اَج آکھاں وارث شاہ نُوں، اَج قبراں وِچوں بول'' جیسی مشہور نظم کہیں تھی۔ ٭امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کا چین میں بہت گرم جوش استقبال کیاگیا۔ اس موقع پر امریکہ اور چین کے درمیا ن 250ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے ہوئے۔ ان میں وہ معاہدہ بھی شامل ہے جس کے تحت چین کی ہواباز کمپنی امریکی کمپنی سے 37ارب ڈالر کے 300 چھوٹے بڑے بوئنگ طیارے خریدے گی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پچھلے دنوں پاکستان میں چین کی مدد سے بننے والے سی پیک روٹ کی سخت مخالفت کی ہے مگر چین میں آکر اس پر کوئی بات نہیں کی۔ ٭کولبیا ملک میں اربوں روپے مالیت کی 12ہزار کلو کوکین پکڑی گئی۔ اسے دنیا بھر میں سب سے بڑا چھاپہ قرار دیاجارہاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved