ہمارا نظامِ تعلیم ' دو معزز اساتذہ کی گرانقدر تحریریں
  11  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

'اوصاف' بہت ہی خوش قسمت اخبار ہے کہ اس کے پڑھنے والے اتنے درد مند۔ وطن کی فکر کرنے والے ہیں۔ ان میں اساتذہ بھی ہیں اور ماہرین تعلیم بھی۔ میں نے ان پڑھنے والوں کی فرمائش اور اصرار پر ہی اسکولوں کی حالت زار پر تحریروں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ اتنا پسند کیا جارہا ہے کہ مجھے بھی اس پر مزید جاننے اور لکھنے کی تحریک ہورہی ہے۔ سوچا جائے تو ہماری خرابیوں کی اور زوال کی اصل وجہ تعلیمی نظام میں عدم توازن، طبقاتی تقسیم اور ریاست کی بے اعتنائی شامل ہے۔ بلکہ سرفہرست ہے۔ آج میں لکھنے بیٹھا ہوں تو ملتان سے ایک معزز ماہر تعلیم خادم علی ہاشمی کا اظہار خیال میری مدد کے لیے موجود ہے۔ میرا علم تو سطحی ہے مگر ہاشمی صاحب نے اسی دشت کی سیاحی کی ہے۔ ان کے خیالات انتہائی قابل قدر ہیں۔ اسی طرح مانسہرہ سے گورنمنٹ ہائی اسکول سلاہٹ تناول سے واجد گوجر کے 30 پیامات میرے لیے بہت ہی حوصلہ افزا۔ وہ بھی اس سمندر میں غوطہ زنی کر رہے ہیں۔ وہ حالات کو مجھ سے کہیں بہتر سمجھتے ہیں۔ ان دونوں کے قیمتی کلمات میرے کالم کی عمارت کی بنیاد ہیں۔ طوالت ہوجائے گی۔ مگر ایک ایک سطر قابل غور ایک ایک حرف لائق مطالعہ۔ پہلے خادم علی ہاشمی صاحب کے گرانقدر تاثرات ملاحظہ ہوں۔ آپ کا معلومات افزا کالم ایک خاموش قاری کی طرح پڑھتا رہتا ہوں، آج 6 نومبر 2017 ء کا کالم میرے سابق رفیقِ کار، پروفیسر عنایت علی خان کے ذکرِ خیر سے شروع ہوا ہے، اس میں نصابیات پر بھی بات کی گئی ہے، راقم الحروف چھ دہائیاں قبل محکمہ تعلیم سے منسلک ہوا اور تقریباً نصف صدی تک نصاب سازی کے عمل میں کسی نہ کسی حیثیت سے شریک رہا، اس لیے اس موضوع پر بات کرنے کا خود کو اہل سمجھتے ہوئے آپ سے مخاطب ہے۔(1) کتاب کی بات کریں تو میرا تجربہ یہ ہے کہ بارہا وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت صوبوں کی درسی کتب کی حتمی منظوری کے اجلاس میں یہ تأثر ابھرتا تھا کہ مسودے کو 'مد یر' نے دیکھا تک نہیں، مختلف ابواب کے مصنفین نے جو کچھ لکھ کر ٹیکسٹ بک بورڈ کو ارسال کر دیا، اسے ایک جلد میں اکٹھا کر کے، بعض 'ایڈیٹروں' کے دستخط لے کر مسودہ ارسال کر دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ صورتِ حال سے میں واقف نہیں ہوں۔ آپ نے پروفیسر عنایت علی خان کی نعت کا ذکر کیا ہے، اس نوع کا ایک واقعہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں کتابوں کو 'مسلمان' کرنے کا پروگرام پروفیسر ایس ایم عبداللہ مرحوم کی سربراہی میں شروع کیا گیا۔ ایک ساتویں یا آٹھویں جماعت کی کتاب میری نظر سے گزری ، اس کتاب کے سابقہ ایڈیشن میں موجود مجید لاہوری مرحوم کی ایک شگفتہ نظم کو نکال کر میاں بشیر احمد مرحوم کی نظم شامل کی گئی۔ میاں صاحب مرحوم تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنما تھے، وہ ترکی میں پاکستان کے سفیر بھی رہے، وہ نظم و نثر لکھنے میں مہارت رکھتے تھے انہوں نے بہت سے قومی نغمے بھی ترتیب دیے، ایک مؤقر ادبی رسالے'ہمایوں' کے ایڈیٹر بھی تھے۔ مگر اُن کی جو نظم اس کتاب میں درج کی گئی، وہ ساتویں جماعت کے بچوں کی سطح سے بلند تھی! درسی کتب مرتب کرنے والے بیشتر افراد متعلقہ ٹیکسٹ بک بورڈ کے منظورِنظر ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ جس جماعت کے لیے کتاب مرتب کر رہے ہوں، خود انہوں نے اُس سطح پر کبھی پڑھایا ہو یا اُس سطح کے تعلیمی ادارے میں کبھی گئے بھی ہوں۔ اس وجہ سے نصاب خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، اس کو کتاب کی صورت میں ڈھالنے والے اکثر اُسے مسخ کر دیتے ہیں۔ اعتراض نصاب سازوں پر آتا ہے! پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا ایک واقعہ بیان کرنا اس نوع کی ایک مثال کے طور پر بے جا نہ ہوگا: 1967-72 ء کے دوران میں ثانوی، اعلیٰ ثانوی اور بی اے کی سطح پر فزکس کیمسٹری اور ریاضی کے نصابات کی تجدید کی گئی، کتابیں بھی انہی مضامین کی مرتب ہوئیں۔بیالوجی کا مضمون اس پروگرام کا حصہ بوجوہ نہ بن سکا۔بیالوجی کے اساتذہ نے سوچا کہ وہ کیوں نہ اس دوڑ میں شامل ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو ایک منصوبہ تیار کر دیا، جس کے تحت امریکہ میں تیار کردہ Biological Sciences Study Committee - BSCS کی تیار کردہ بیالوجی کی Yellow Version کتاب کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال کر گیارہویں بارہویں جماعت کے لیے تیار کرنا تھا۔ چیرمین ٹیکسٹ بک بورڈ نے BSCS کو خط لکھ کر اس کتاب کو چھاپنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے جواب میں اجازت دیتے ہوئے یہ بتایا کہ اس کتاب کا نیا ایڈیشن چند ماہ میں آنے والا ہے، اس کا انتظار کیا جائے مگر انہیں تو جلدی تھی اس لیے کتاب کے پرانے ایڈیشن پر ہی اکتفا کیا گیا۔ متذکرہ کتاب کے ساتھ Teachers' Handbook ؛ اور لیبارٹری گائیڈ کے علاوہ تقریباً سوا سو (125) دیگر مطبوعات، جن میں ایک جریدے کے متعدد شمارے بھی شامل تھے، اس میں اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل کی تجاویز دی جاتیں اور کتاب کے ادق حصوں کی توضیح شامل کی جاتی۔ ہمارے دانشوروں نے ان سب تصانیف کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور فقط درسی کتاب کو شائع کر دیا۔ البتہ ہمارے فاضل اساتذہ کی درجن بھر ٹیم نے اس کتاب کا ایک صفحے کا پیش لفظ ضرور لکھا باقی کتاب کا چربہ جوں کا توں شائع کر دیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کتاب میں بعض اشکال کے نیچے توضیح میں لکھا ہوتا: نیلے نکتے فلاں چیز کو ظاہر کرتے ہیں، سبز فلاں کو، پیلے نکتوں سے یہ مراد ہے اور سُرخ نکتے فلاں چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر کتاب میں تو ایک بڑا سا دھبا نظر آتا کیونکہ کتاب صرف بلیک اینڈ وہائیٹ میں شائع کی گئی۔ اس پہ مستزاد کتاب کی زبان تھی۔ ہمارے بیشتر اساتذہ امریکن slangسے ناواقف ہیں، اس لیے یہ کتاب جو انتہائی شگفتہ انداز میں لکھی گئی تھی، ہمارے اساتذہ کے لیے سمجھنے میں انتہائی مشکل ثابت ہوئی۔ ٹیکسٹ بک بورڈ والے مصنفین کے انتخاب میں بھی اپنی سہولت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے بیشتر مصنفین لاہور ہی سے تعلق رکھتے ہیں، گویا لاہور سے باہر کوئی اہل مصنف موجود نہیں!! اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، مگر اس سب کو شکائتاً نہیں حکائتاً دیکھا جائے۔ راقم الحروف نے اپنی جوانی میں کتابوں کی تصنیف و تالیف اور نصاب سازی و تربیت اساتذہ میں بھرپور حصہ لیا اور بیشتر خامیوں کا خود کو اور اپنے ساتھیوں کو ذمہ دار بھی سمجھتا ہے! نصاب سازی کے بارے میں پھر کبھی اپنی معروضات پیش کروں گا۔ ……… بہت بہت شکریہ ہاشمی صاحب۔ آپ کا درد ایک ایک سطر سے ظاہر ہورہا ہے۔ آپ کی تحریر نے میرے کالم کی وقعت کو دوچند کردیا ہے۔ اب ملاحظہ کیجیے۔ مانسہرہ کے گائوں میں مصروفِ عمل ایک محب وطن پاکستانی کا ذکر۔ واجد گوجر مانسہرہ سے سیکنڈری اسکول ٹیچر ہیں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول سلاہٹ تنادل سے۔ انہوں نے کرم کیا ہے۔ پورا مضمون ہی بھیج دیا ہے۔ ایس ایم ایس کے ذریعے۔ 30 پیغامات ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم لارڈ میکالے کے فلسفے پر قائم ہے۔ جس کا مقصد غلام پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے بہت ہی پتے کی باتیں کی ہیں۔ کہتے ہیں یہ نظام ایسے جامد اور سوچنے کہنے کی صلاحیت سے عاری مشین کے پرزے تیار کرتا ہے جو سرمایہ داروں کے سرمائے میں مسلسل بڑھوتی اور ریاستی مشینری چلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے باعث معاشرہ طبقات میں تقسیم ہے۔ ایک حقیقی اور آزاد انسانی شعور پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ (جاری ہے) یہ نظام سوال اٹھانے والوں کو مجرم گردانتا ہے اور تنقیدی سوچ کی نفی کرتا ہے۔ اس نظام کے آقا ہر گز نہیں چاہیں گے کہ ان کے غلام ان پر اور معاشرے میں موجود طبقات پر سوال اٹھاتے ہوئے اس نظام کو چیلنج کریں اور تبدیلی کا سوچیں۔ اس تعلیم کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو حقیقت کو جامد اور ناقابل تبدیلی سمجھتے ہوئے قبول کریں۔ اس طرح وہ طبقات کی موجودگی اور جبر و استبداد کی اس صورتِ حال کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں گے۔ تعلیم ہمارے سماج میں ایسی صنعت کے طور پر ابھری ہے جس کا مقصد محض شرح منافع بڑھانا ہے۔ انسانی ترقی اور آزادی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سرمایہ داروں کے بچوں کے لیے عالی شان عمارتوں میں تعلیم کا انتظام ہے تو دوسری طرف پسا ہوا اور بنیادی ضروریات سے محروم طبقہ غلاظت سے پُر اور بنیادی اسٹرکچر سے محروم سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے پر مجبور ہے۔ یہاں سرکاری نیم سرکاری اور شاندار نجی درسگاہوں سے لے کر گلی محلّوں میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے اسکول سب موجود ہیں اور اپنی اپنی اوقات کے مطابق تاریکیاں اور جہالت بانٹ رہے ہیں ان سب کے اپنے نصاب اور پڑھانے کے مختلف طریق کار ہیں۔ امتحانی طریقۂ کار غیر صحت مند مقابلے کو فروغ دیتا ہے۔ نتائج کے خوف سے بعض نوجوان تو خودکشی تک کرلیتے ہیں۔ یہ غیر صحت مند مقابلہ ظلم پر کھڑے اس نظام میں جبر اور تسلط قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام واضح طور پر طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ اک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے بچے پڑھتے ہیں۔ ان اداروں میں عام بندہ اپنے بچوں کے داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ طبقہ کلیدی عہدوں پر تعینات ہوجاتا ہے اور اس نظام کے وجود کو برقرار رکھتا ہے اور سامراج کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کوئی اپنی محنت کے بل بوتے پر تعلیم حاصل کر بھی لے تو روزگار ملنا مشکل ہے۔ جس کے لیے رشوت اور سفارش چاہیے جو عام آدمی کے پاس نہیں ہے۔ الغرض دو قسم کے لوگ تیار ہوتے ہیں ایک کا کام حکمرانی کرنا ہے اور دوسرے کا کام کلرکی کرنا ہے۔ دینی تعلیمی اداروں کے پاس بھی دین اور دنیا کی تفریق پیدا کی گئی ہے۔ ان کا زیادہ تر زور مسلکی اختلافات پر ہوتا ہے اس طریقے سے ان کے اندر شدت پسندی اور انتہا پسندی پیدا کی جاتی ہے۔ جس کو نظام آسانی کے ساتھ اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب مختلف اداروں سے مختلف قسم کے ذہن تیار کیے جائیں تو وہاں پر ایک قوم کا وجود میں آنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ تعلیمی نظام مذہبی، لسانی، علاقائی اختلافات پیدا کرکے لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے اور سسٹم کے شعور سے عاری کردیتا ہے۔ اس طرح انگریزوں کی پالیسی لڑائو اور حکومت کرو کی تکمیل ہوتی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے سرمائے کے زور پر چلتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں کا یہ حال ہے کہ اچھے نتائج کے لیے تعلیمی بورڈز میں پوزیشن کے لیے بھی سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نقل کے کلچر کو گورنمنٹ اداروں میں پروموٹ کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں طالب علم قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تعلقات کی بنیاد پر پوزیشن پاتے ہیں۔ ریسرچ کا تصور بہت کم ہے۔ زیادہ تر کاپی پیسٹ چلتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرتی مسائل کا اکیڈمیا کے پاس کوئی حل نہیں اور انگریزی زبان کو قابلیت کا معیار جانا جاتا ہے۔ لارڈ میکالے لکھتا ہے کہ وہ ہندوستان کے ہر مکتبۂ فکر سے ملا۔ مذہبی طبقات، علماء اور تاجر وغیرہ کوئی شخص جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ کوئی مانگنے والا نہیں تھا۔ کوئی بداخلاق نہیں سارے آزادی کو ضروری سمجھتے تھے اور غلامی کو لعنت۔ ایسی قوم کو زیادہ عرصے تک غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ایسا نظام تعلیم لایا جائے جو اجتماعیت سے کاٹ کر انفرادیت پیدا کرے۔ بے حیائی کا تمدن فروغ پائے۔ جب انگریز ہندوستان میں آیا تو یہاں 90فیصد تعلیم تھی۔ باقی 5فیصد لوگ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ انگریز جب گیا تو 8فیصد تعلیم یافتہ طبقہ تھا انگریز نے ظالمانہ نظام قائم کیا جو غربت اور قحط پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستانی 5 روپے ماہوار پر انگریز کے ملازم ہونے پر مجبور ہوگئے۔

اب حال یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 1000 اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں بھارت کی 16، ایران کی 8یونیورسٹیاں، چین کی 90 اور پاکستان کی صرف ایک یونیورسٹی شامل ہے۔ ہمارے ہاں کل 177 یونیورسٹیاں ہیں جن سے سالانہ قریباً ساڑھے چار لاکھ طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے مقابلے میں پرائمری تعلیم میں 50 برس اور سیکنڈری تعلیم میں 60 برس پیچھے ہے۔ نوجوان طبقے کو بے مقصد تعلیم میں الجھا کر اس کی قوت عمل مضمحل کردی گئی ہے اسے فکری انتشار کا شکار کردیا گیا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اجاگر ہونے کی بجائے ختم ہوکررہ گئی ہیں۔ عوام کو معاشی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے۔ اسے کسب معاش سے بھی فرصت میسر نہیں آتی جس کی بنا پر وہ قومی سطح پر کوئی کردار ادا کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ بہت بہت شکریہ واجد صاحب۔ میں نے آپ کی آواز پورے پاکستان تک پہنچا دی ہے۔ آپ نے بہت ہی صدق دل سے حقائق کا اظہار کیا ہے۔ اب دیکھیں قارئین اوصاف کیا کہتے ہیں۔ ایس ایم ایس کیجیے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved