احتجاج میں بھی ''آداب '' ملحوظِ خاطر رکھیں
  12  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہماری فکر کے زاویے کس مرکزی نقطہ ٔ سے چلے؟کن راستوں کے کانٹے چنتے ہوئے کس منزل پر پہنچے؟ اس وقت ہماری خواہشات کا تقاضا کیا تھا؟ اس وقت ہماری خواہشات کا تقاضا کیا تھا؟ آج اس وقت ہماری سوچ کا مرکز کیا ہے جب منزل پر پہنچ کر 65سال کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم نے اپنے وجود کا حصہ پہلے کھود یا صرف طاقت آزمائی کے جوش میں ، خود غرضی کی طلب میں ، اپنی حماقتوں اور غیر سنجیدہ حرکتوں سے، لالچ کی دلدل میں ، مکاری کے فن میں ، منافقت کی چالوں میں ہم نے مادرِ وطن کو اس بے دردی سے چیرا پھاڑاکہ منزل کے تمام نشان مٹا دیے۔تاریخ نے ہمیں جگہ جگہ خبردار کرنے کی کوشش کی۔ واقعات کی تلخیوں نے ہمیں جا بجا ٹوکا۔فکری گہرائیوں نے ہمیں بار بار جھنجھوڑا۔وقت کی رفتار نے ہمیں کئی بار وارننگ دی۔سوز کی تپش نے ہمیں آہ و بقا سے اپنے رخ بدلنے کے واسطے دئیے لیکن ہم نے اس کو مداری کا کھیل سمجھا۔اس وطن کے اعضاء کو ہم نے کس بے دردی سے مفلوج کیا؟کس طرح بے رحم عمل سے معصوموں کا خون بہایا؟ہم نے کس بے حسی سے غریبوں ، ناداروں اور کمزوروں کے خون سے ہاتھ رنگے اور ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے؟ دشمن کی خواہش پر ملک میں ہر جگہ بدامنی اور بے چینی پھیلانے کی کوشش کی۔آج کس کس کا خون کن کن ہاتھوں پر تلاش کریں ؟اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں ، دو کان دئیے ہیں ۔تاکہ ہم ہر چیز کی آواز سن سکیں ،دیکھ سکیں اور پرکھ سکیں ۔لیکن زبان ایک دی ہے تاکہ انسانیت کا میزانیہ ان ظاہر حقائق کو جانچ پھٹک کر زبان نکالے۔لیکن آج زبان درازی کے فن، مکاری کے روپ، ظلم کی سرشت نے سب پر سبقت لے لی ہے۔آج ہم چرب زبانی پر کٹھ پتلی بنے بیٹھے ہیں ۔ہم غیروں کے ظلم کی داستانیں بھول گئے۔ہم ایثار اور قربانی کے تمام سبق ذہنوں سے اتار چکے۔ہماری آزادی کے تمام زخم مندمل نہ ہونے پائے تھے کہ اپنوں کے نشتر، انکے جابجا خونی رنگ بڑھتے جا رہے ہیں ۔اور پھر یہ زخم اس قدر شدید ہیں کہ ہم رشتوں کے تقدس کو بھول گئے۔قومیتوں کے روپ میں بٹ گئے۔گروپوں کی شکل میں بکھر گئے۔مفادات کے ٹکڑوں میں بٹتے رہے۔مرکزی نقطہ غائب ہو چکا ہے۔منزل اوجھل ہو چکی ہے۔ہم نے کبھی سوچا کہ غلامی میں جکڑے مقید وجود میں آزادی کے ذہنی ابھار اور جدوجہد کی حرارت نے کیسے کروٹ لی؟ بکھرے اور منتشر معاشرے میں اتفاق، اتحاد اور یکجہتی کی روح کیسے ابھری؟ملت کی بکھری کڑیاں کس طرح زنجیر کی شکل میں جڑیں ۔بکھری روحوں میں محبت کے جوڑ کیسے ملے۔ قوم کے اجزاء وطن کی محبت میں کیسے جڑے۔یہ کونسا مرکزی نقطہ تھا جس نے ملت کے تصور میں بکھرے دانوں کو تسبیح کا روپ دھارا۔ہم نے بے سروسامانی میں سفر کا آغاز کیا تھا۔اس وقت ملازم تھے تنخواہیں نہیں تھیں ۔مزدور تھے فیکٹریاں نہیں تھیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے جذبے دئیے ، عمل کی توفیق دی، ہمت اور روشنی دی، لیکن آ ج کیا ہو گیا؟آج کیوں ہم دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے۔دشمن کی خواہش پر اپنے ہی ملک کو جلانے لگے۔جو ملک لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنا ۔ اس کو ہم نے مختلف گروہوں میں کیوں بانٹ دیا؟ کالم کی ابتداء میں پاکستان کی اہمیت پر زور دینے کی کوشش کی گئی۔موجودہ حکومت ِ وقت کو چاہیئے کہ وزیر اعظم ہاؤس سمیت تمام اہم جگہوںاور مساجد میں محفلِ میلاد کا انعقاد کرائیں ۔ ملک کے ممتاز نعت خوانوں کو دعوت دی جائے۔اس کے علاوہ عشقِ رسول کا نفرنسز کا انعقاد کرایا جائے۔جس سے ممتاز علمائے کرام اور مشائخ عظام شانِ رسالت پر خطاب فرمائیں ۔آج مولویوں اور احتجاجیوں میں ایسے لوگ بھی گھسے ہوئے ہیں جن کو پوری نمازبھی نہیں آتی۔لیکن وہ علمائے کرام کی بغل میں گھس کر تین دن سے پورے راولپنڈی اور اسلام آباد کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں ۔ایک طرف لوگ احتجاج والوںکی ہٹ دھرمی سے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کی نالائق ، نا اہل اور انتہائی بدتمیز ٹریفک پولیس عوام سے جس انداز میں مخاطب ہو رہی ہوتی ہے وہ دیکھ کر اپنے ہی ملک میں ڈوب کر مرنے کو دل کرتا ہے۔ایمبولینسز رُکی ہوتی ہیں ادھر نو دولتیئے نئی گاڑیوں کے ہارن پر ہارن بجا رہے ہوتے ہیں ۔چھٹی کے وقت سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بچیاں اور بچے جب گھروںکا رخ کرتے ہیں تو ہر طرف سے سڑکیں بند ملتی ہیں ۔ ٹریفک پولیس والے راستہ پوچھنے پر اس بدتمیزی اور بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں جیسے سب سے بڑا دہشت گرد ان کو ابھی نظر آیا ہو۔طالبات 20منٹ کا فاصلہ 3گھنٹے میں نہیں طے کر پاتیں ۔وہ انسان ہیں ۔ کسی کی بیٹیاں ہیں ۔ان کی اس تکلیف کو کون محسوس کرے گا۔یقیناً وہ کر سکتا ہے جس کے اپنے گھر میں ماں ، بہن ، بیٹی ہوگی۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس بے گناہ مخلوق کو تنگ کر کے دین کی کونسی خدمت ہو رہی ہے۔یا حضرت محمد مصطفی ۖ کے ساتھ کس محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔وہ بچیاں انہی پیغمبرِ اسلام کی امت ہیں ۔میں جب ان کو انتہائی مایوس چہروں کے ساتھ ڈری اور سہمی ہوئی صورت میں کالج یا سکول بسوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے ترس آتا ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں انسانیت کی خدمت، بہنوں ، ماؤں اور بیٹیوں کی عزت واحترام کا کیا سبق دیتا ہے کہ ہم اسی مذہب کی آڑ میں ان کا کیا حشر کر رہے ہیں۔مجھے اس سے اتفاق ہے کہ توہینِ رسالت پر اپنا احتجاج ضرور ریکارڈ کرنا چاہیئے لیکن احتجاج کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ مسلمان اپنے ملک اور اپنے مذہب پر مٹنے والی قوم ہے۔

لیکن ہم بعض اوقات دشمن کا آلہ ٔ کار بن کراپنے آپ ، اپنے بے گناہ اور مظلوم لوگوں کے لئے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔پاکستانی مسلمانوں نے اپنے مذہب سے زیادہ اپنے ملک کے لئے جانی قربانیاں دی ہیں اور شہادتیں حاصل کی ہیں ۔بدقسمتی سے اپنے ملک کے لئے شہادتیں مولوی صاحبان کے حصے میں نہ ہونے کے برابر آئیں ۔ملک کے لئے لوگوں نے جانی و مالی ہر قسم کی قربانیاں دیں ۔مذہب نے ہم سے بہت کم قربانیاں مانگیں لیکن جب بھی ضرورت پڑی تو ہم میں سے ہی غازی علم دین شہید اور غازی مرید حسین شہید جیسے لوگوں نے جانوں کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ملک کے حصول اور اس کے دفاع کے لئے ہمیں لاکھوں جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں ۔حلف کی تبدیلی میں قصور کس کا تھا اور کیوں تھا؟لیکن اس کی سزا راولپنڈی اسلام آباد کے بے گناہ اور بے قصور بیماروں، ماؤں اور بیٹیوں کو مل رہی ہے۔اور یہ احتجاج اس وقت ہو رہا ہے جب سارا معاملہ ختم ہو گیا ہے۔حلف نامے کو اسی جگہ بحال کر دیا گیا ہے۔اب راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوںکو ان یرغمالیوںسے آزاد کرایا جائے۔مخلوقِ خدا بہت تنگ ہے۔بہتر یہ ہو گا کہ علمائے کرام خود ان احتجاجی لوگوں کو گھر جانے کے لئے کہہ دیںاور ملک بھر میں میلاد کی محفلوں کا آغاز کرایا جائے۔وہاں شانِ رسالت میں خطاب کر کے ثوابِ دارین حاصل کریں ۔میلاد کی محفلوں کا حکومت خود بھی انعقاد کرائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved