اب حدیبیہ ملز کیس....!
  12  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭میرے لیے یہ خبر خو ش گوار ثابت ہوئی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے ساتھ کنٹرول لائن پرچلے گئے۔ وہاں بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے ورثائ، زخمیوں اورگھر بار تباہ ہو جانے والے افراد سے ملاقاتیں کیں۔ انہیںحوصلہ دیا۔ ان کے نقصانات وغیرہ کامعاوضہ بڑھانے کا اعلان کیا اور ہدایات دیں کہ سرحدی عوام کی حفاظت کے لیے مضبوط بنکرز( مورچے) تعمیر کیے جائیں! میں کھلے دل سے وزیراعظم کے اس دورے کا خیر مقدم کرتاہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل صرف ایک وزیراعظم 'بے نظیربھٹو' کنٹرو ل لائن پرگئیں۔ انہوں نے نہائت دلیرانہ انداز میں بھارت کی طرف منہ کرکے بلند آواز میں اسے انتباہ کیاکہ مقبوضہ کشمیر کو بالآخر آزاد کرنا ہوگا۔ ان کے بعد اب تک میاں نوازشریف ،آصف زرداری اور دوسرے لوگ برسراقتدار آتے رہے مگر کسی کو حتیٰ کہ آزاد کشمیر کے کسی وزیراعظم کوبھی براہ راست کنٹرول لائن پر جاکردُکھی لوگوں کا حال پوچھنے کی توفیق نہیں ہوسکی۔ اس دور ان پاک فوج کے ہر چیف آف سٹاف اور کور کمانڈروں نے بار بار کنٹرول لائن کے دورے کیے ۔ ( قوم کا حقیقی دُکھ شائد انہی لوگوں کو ہے!) ۔ میاں نوازشریف ایک بار سیاسی مہم پر نیلہ بٹ گئے تھے جو کنٹرول لائن سے بہت دور ہے۔ ان کالموں میں بہت دفعہ آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بھارتی فائرنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی خبریں اور ان متاثرین کی شکائتیں بھی چھپیں کہ پاک فوج کے سوا کوئی حکومت ، کوئی صدر، کوئی وزیراعظم یا وزیر ان کا حال دیکھنے نہیںآیا۔ راجہ صاحب!کبھی کبھی کنٹرول لائن پر چلے جایا کریں یہ آپ ہی کے لوگ ہیں۔ ٭مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔ پانامہ کیس کا معاملہ ابھی جاری تھاکہ حدیبیہ پیپرز ملز کا معاملہ بھی سامنے آگیا۔ پیر کے روز سے سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ اس کی ابتدائی سماعت کررہاہے۔ پانامہ کیس صرف نوازشریف ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے بارے میں ہے۔ حدیبیہ ملزکیس میں پورا شریف خاندان، نوازشریف ،شہبازشریف، ان کی والدہ ،ان دونوں کے تمام بیٹے، بیٹیوں، بیویوں، حتیٰ کہ بہوؤں کے نام بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ارب20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس ہے جو مبینہ طورپر امریکہ ، سعودی عرب اور پاکستان کے بینکوں کے ذریعے کی گئی۔ یہ کیس 2000ء میں پرویزمشرف کے دور میں دائر کیاگیا، جب شریف خاندان کے ساتھ قید کیے جانے والے اسحاق ڈار نے مارشل لا حکام کو اپنے ہاتھوں سے 43 صفحات پر مشتمل ایک تحریر دی ۔اس میں بتایاگیا کہ یہ منی لانڈرنگ کس طرح کی گئی تھی۔ اسحاق ڈار کو جیل سے مارشل لا حکام کے پاس لایاگیا تھا۔ اس تحریر پر شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ ملز منی لانڈرنگ کیس دائر کردیا گیا۔تاہم شریف خاندان کے سعودی عرب منتقل ہو جانے کے بعد اس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔اس خاندان کے واپس آنے کے بعد2011ء میں خود شریف خاندان نے اس زیر التوا کیس کو ختم کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اس کی سماعت کرنے والے دوججوں میں اختلاف پیدا ہوگیاتو چیف جسٹس نے کیس تیسرے ریفری جج کو بھیج دیا۔ اس نے شریف خاندان کے حق میں فیصلہ دے کر کیس کو ختم کردیا۔اب یہ کیس پھر کھل گیا ہے۔سپریم کورٹ کا جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر خیل عالم پرمشتمل سہ رکنی بنچ ابتدائی سماعت کرے گا کہ کیا یہ کیس دوبارہ شروع ہو سکتا ہے یانہیں۔ اس کیس کی تفصیل انٹرنیٹ پر ''حدیبیہ ملز کیس'' میں مل جاتی ہے۔ اس میں بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ایک قاضی فیملی کے مختلف مردوں اورخواتین کے نام پر مختلف بینکوں میں فرضی کھاتے کھولے گئے اور یہ کہ ان مردوں اور خواتین کے دستخط اسحاق ڈار نے خود کیے تھے۔ ن لیگ اس کیس کودوبارہ کھولنے کی سخت مخالفت کررہی ہے۔ یہ کیس پانامہ کیس سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ اس میں الزامات واضح ہیں ۔ یہ شریف خاندان کے لیے واقعی پریشان کن ثابت ہوسکتاہے۔ ٭گزشتہ روز چار اہم سیاسی اعلانات ہوئے۔ لاہورمیں چھ مذہبی جماعتوں نے پرانے اتحاد متحدہ مجلس عمل( ایم ایم اے) کو بحال کرنے کااعلان کیا۔ سندھ میں ممتاز بھٹونے اپنی پارٹی نیشنل فرنٹ کو تحریک انصاف میں ضم کردیا۔لاہور میں سابق وزیر خارجہ سردار آصف علی دوبارہ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور …اور سب سے حیرت انگیز واقعہ! دبئی میں پناہ گزین عدالتی اشتہاری اور مفرور ملزم جنرل(ر) پرویزمشرف نے اپنی زیر قیادت 23 سیاسی پارٹیوں پرمشتمل 'پاکستان عوامی اتحاد' کے قیام کا اعلان کردیا۔ یہ بھی کہا کہ موصوف عنقریب پاکستان آرہے ہیں۔ ان 23پارٹیوں کی تفصیل :آل پاکستان مسلم لیگ، جونیجو مسلم لیگ، کونسل مسلم لیگ،نیشنل مسلم لیگ، پاکستان عوامی تحریک، سنی اتحاد کونسل، مسلم کانفرنس، مجلس وحدت المسلمین ، پاکستان سنی تحریک، پاکستان انسانی حقوق پارٹی، عوام لیگ، ملت پارٹی، جے یو آئی نیازی گروپ، عام لوگ پارٹی، عام آدمی پارٹی، مساوات پارٹی،پاکستان منیارٹی پارٹی،جمعیت مشائخ پاکستان، سوشل جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی،پاک مسلم الائنس، پاکستان مزدور محاذ، کنزرویٹو پارٹی،مہاجر اتحاد تحریک۔ پاکستان عوامی تحریک کی اس اتحاد میں شرکت کی تردید آگئی ہے۔ باقی22پارٹیاں رہ گئی ہیں۔ ان میں چار مسلم لیگیں ہیں۔ شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ ، اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ، ن لیگ، ق لیگ اور پیر پگاڑا کی ف لیگ کے نام شامل نہیں ہیں۔ اتحاد میں رہ جانے والی باقی22 پارٹیوں کے 22چیئرمین اچانک پرویز مشرف کی قیادت میں چلے گئے ہیں۔ ان میں مسلم کانفرنس کے چیئرمین سردار عتیق احمد بھی شامل ہیں!یاحَیرت!!

٭فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے جواب میں کسی وقت مصطفےٰ کمال کی بھی پریس کانفرنس اب تک چھپ چکی ہوگی۔ ان لوگوں کی باتوں سے بہت سے کالم ضائع ہوئے ہیں۔ میں ان سے تنگ آگیاہوں۔ ایک گاؤں کے لوگوں نے پٹواری کی شکائت کی کہ بہت رشوت لیتا ہے۔ اس کی جگہ نیا پٹواری آگیا۔ اس نے نقد رقم کے ساتھ مویشی بھی ہتھیانے شروع کردیئے۔ اعلیٰ حاکم نے گاؤں والوں سے پوچھا کہ نیا پٹواری کیسا ہے ؟ جواب آیا کہ ''جناب نتّھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ وَن اینڈ دی سیم تھِنگ!'' (دونوں ایک ہی ہیں)۔چلتے چلتے، مصطفےٰ کمال کی پریس کانفرنس کا صرف ایک جملہ '' فاروق ستار کوعلم ہے کہ عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کرایا…'' ٭ شیخوپورہ ا یک اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر (سکیل16) پکڑا گیا ۔ 5کروڑ6 لاکھ کی کرپشن، 66 ایکڑ اراضی خریدی۔ بینک میں تین کروڑ6 لاکھ نقد! !اوپر والے اربوں ، کھربوں کی لوٹ مار کریں تو نیچے کیاحال ہوتا ہے!استغفار!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved