وزیراعظم اور آرمی چیف کا مشترکہ دورہ
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آزاد کشمیر کی جنگ بندی لائن کامشترکہ دورہ ایک اہم پیش رفت ہے۔جس سے عوام اور اگلے مورچوں پرالرٹ فوج کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب بھارت کی جانب سے جنگی دھمکیاں مل رہی ہیں۔یہ روایتی اور نفسیاتی جنگ بھی ہے۔بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کے بعد ان کے نائب وزیر داخلہ ہنس راج گنگا رام نے مسئلہ کشمیر کے حل کی وہی مضحکہ خیز بات کی ہے کہ آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لئے نریندر مودی کام کر رہے ہیں اور اس طرح کے حل کے لئے بھارت میں ہمت ہے۔ یہ ہمت جنگی دھمکی ہے۔ اس کے جواز میں بھارتی پارلیمنٹ کی 22فروری 1994کی قرارداد پیش کی جا رہی ہے۔ جس میں آزاد کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر اس پر قبضے کو قانونی اور آئینی جوازبتایا گیا۔ مگر آج کسی دستاویز الحاق کی بھی منطق سامنے لائی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو موقع کی تلاش ہے۔ پاک فوج اور عوام بھی غافل نہیں۔ وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کے گزشتہ روز کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی موجودگی نے ظاہر کیا ہے کہ ملک کے دفاع، سلامتی اور کشمیر کی آزادی کے لئے سب ایک صفحہ پر ہیں۔ پالیسی اور موقف ایک ہے۔ ان کالموں میں جنگ بندی لائن پر موجوچوں کی فوری تعمیر کی ضرورت بیان کی جاتی رہی ہے۔ حکومت نے شہری آبادی کے تحفظ کے لئے کمیونٹی سیفٹی بنکرز کی تعمیر کا اعلان اور متاثرین کی امداد کا اعلان کر کے اہم قدم اٹھایا ہے۔ ان اعلانات پر فوری عمل کی ضرورت ہے۔ نیز جو سڑکیں اور بائی پاس تعمیر کی جا رہی ہیں۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے رہائشی مکانات، زمینیں، پھل دار درخت تباہ ہو رہے ہیں، کچھ لوگ نقل مکانی بھی کر گئے ہیں۔ انہیں معاوضے اور امداد دی جانی چاہیئے۔ سیز فائر لائن پر بھارتی جارحیت سے بچنے کے لئے لوگوں نے مورچے تیارکئے تھے۔ یہ مورچے 2005کے زلزلہ میں تباہ ہو ئے۔ کچھ بارشوں اور برفباری کی نذر ہوئے۔ 1989سے 2003تک جنگ بندی لائن پربھارت نے مسلسل گولہ باری کی۔ جس سے ہزاروں کی تعداد میں شہری شہید ہوئے۔ شہداء میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی بھی تھی۔ ہزاروں لوگ معذور ہوئے۔ عوامی ، تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہوئیں۔ معیشت تباہ ہوئی۔ کھیتی باڑی کا سلسلہ رک گیا۔ لوگ مال و مویشیوں سے بھی محروم ہوئے۔ زیر تعلیم بچے شہید اور زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ سکولوں کیعمارتیں بھی گولہ باری سے زمین بوس ہو گئیں۔ جنگ بندی لائن پر کئی راستے بھارتی گولہ باری کی زد میں آ گئے۔ جس کی وجہ سے ان کے متبادل بائی پاس راستے تعمیر کئے گئے یا قدیم راستوں کے آگے کنکریٹ دیواریں لگائی گئیں۔ یہ سب عارضی انتظام تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضی انتظام ناکارہ ہو گیا۔ دیواریں بھی گر گئیں۔ نئے راستے بھی تباہ ہو گئے۔ ان پر بعد ازاں توجہ نہ دی گئی۔ کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔ 2003میں پرویز مشرف کے دور میں جمالی کی وزارت عظمی میں پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا۔ قدیم راستے پھر کھل گئے۔ بھارت نے اس معاہدہ کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ اپنے مورچے تعمیر کر لئے۔ نئی شاہرائیں بھی تعمیر کیں۔ خار دار تاریں اور دیواریں لگا دیں۔سنسرز، کیمرے، لائٹس وغیرہ لگائیں۔ تاہم پاکستان یا آزاد کشمیر کی حکومتوں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ زمانہ امن سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ بائی پاس راستوں کی مرمت نہ کی۔ متعلقہ لوگ پتہ نہیں کیوں چادر تان کر سوئے رہے اور دوسری طرف جنگی تیاریاں جاری رہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی بھی کچھ نہ کیا گیا۔ جنگ بندی لائن پر بھارت نے شیلنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بھارت کی مکاری اور عیاری بھی کسی کو خواب سے بیدار نہ کر سکی۔ آج ایک بار پھر بھارت نے سیز فائر لائن پر چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے۔ وہ گولہ باری سے آبادی کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ بلا شبہ عوام بہادر اور دلیر ہیں۔ وہ بھارت سے کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔ تا ہم یہ بھی درست ہے کہ اگر بھارت نے گولہ باری کا سلسلہ تیز کیا تو اہم راستے اس کے نشانہ پر آ جائیں گے۔ کم از کم بائی پاس راستوں کی مرمت کی جانی چاہیئے یا قدیم راستوں کو گولہ باری سے بچانے کے لئے کوئی اقدام ہی کیا جائے۔ نئی دیواریں بھی تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ تباہ ہونے والی کنکریٹ اور حفاظتی بندوبست کی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگ بندی لائن پر اشیائے خوردنی کا سٹاک، طبی امداد ہنگامی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ گولہ باری سے بچنے کے لئے گھروں کے ملحقہ تباہ ہونے والے بنکرز اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی حکومت کی توجہ چاہتے ہیں۔ ان کی فوری تعمیر اور مرمت ضروری ہے۔ گولہ باری کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو جاتی ہیں۔ اس لئے جنگ بندی لائن پر ہنگامی طور پر تمام انتظامات پر از سر نو غور ہو تو زیادہ بہتر ہو گا۔ خاص طور پر زیر زمین بنکرز کی تعمیر اولین ترجیحات کی حامل ہے۔ بھارتی گولہ باری سے عوام کو محفوظ رکھنا ان ہی بنکرز کی وجہ سے آسان ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ زیر زمین مورچوں کو سکولوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی گولہ باری کی زد میں رہنے کی وجہ سے سپلائی لائن کٹ جاتی ہے۔ لاکھوں کی آبادی ان علاقوں میں محصور ہو کر رہ جاتی ہے۔ سب جانتے ہوں گے کہ حکومت نے دفاعی لحاظ سے اہم کیرن بائی پاس شاہراہ پہاڑوں اور سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر تعمیر کی۔ جس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ جو آج انتہائی خراب حالت میں ہے۔ اس کی مرمت ہو رہی ہے۔ کمال ہے یہ بائی پاس بھی بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حید خان نے کبھی سات ارب روپے حفاظتی اقدامات کے لئے مختص کرنے کا اعلان کیاتھا۔اب وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کا مشترکہ دورہ اور اعلانات ہوئے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وفاق اور ریاست مل کر کشمیر کی جنگ بندی لائن پر زیر زمین مورچوں کی فوری تعمیر اور مرمت کے لئے کام کریں۔ نیز بھارتی گولہ باری کی زد میں آنے والی شاہراؤں کی تعمیر اورحفاظت کے لئے بھی معقول بندو بست کیا جائے۔لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر بالکل تیار نہیں ہیں۔ وہ بھارت کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کی مزید تربیت اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے،آزاد کشمیر کی آبادی کو اسلحہ کی ٹریننگ ، فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی ضروری ہے۔ جنگ بندی لائن پرآبادی کی سپلائی لائن ، بائی پاس سڑکوں، زیر زمین مورچوں کی مرمت اور تعمیر کے لئے ہنگامی فنڈز اور شفاف نظام کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کی صورت میں بھارت کی ناکامی اور شکست کے تمام اسباب یکجا کر سکتا ہے۔ اس طرح بھارتی ہمت بھی خاک میں مل سکتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved