شہداء محبت کا امام ۔۔۔شہید ٹیپو سلطانؒ
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہندوستان سے خبریں آرہی ہیں کہ فتح علی ٹیپو المعروف ٹیپو سلطانؒ کے 265 ویں یوم ولادت کے موقع پربدبودار ہندو بڑے سیخ پاہورہے ہیں ۔۔۔ مسلمانوں کے اس عظیم جرنیل کو گالیاں بک رہے ہیں ۔۔۔ اور دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر دس نومبر2017 ء کو ٹیپو سلطان شہید کے یوم ولادت کے دن ان کی یاد میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔۔۔ تو ان تقریبات پر حملے کیے جائیں گے‘ فتح علی ٹیپوؒ سلطان شہید ہوں‘ محمد بن قاسمؒ ہوں یا سلطان محمود غزنویؒ ہوں‘ مسلمانوں کے ان عظیم جرنیلوں کے خلاف بھارت کے انتہا پسند ہندو ہوں یا پاکستانی سیکولر شدت پسند ۔۔۔ ان کے سینے بغض سے بھرے رہتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ اس قدر کم ظرف اور بیوقوف ہیں کہ جو یہ بات بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ گیدڑ شیر کی کھال پہن کر چاند پر بھی چلا جائے وہ گیدڑ ہی کہلائے گا ۔۔۔ اور ’’بہادر‘‘ ہزار قسم کی زنجیروں میں باندھ کر ۔۔۔ کسی تنگ و تاریک تہہ خانے میں بھی قید کر دیا جائے مگر وہ ’’بہادر‘‘ ہی کہلائے گا۔ 10 نومبر 1750 کو میسو ر میں پیدا ہونے والے ٹیپو سلطانؒ نے تو فرمایا تھا کہ ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘۔۔۔ لیکن اب اندازہ ہوا کہ گیدڑ ڈھائی سو سال بعد بھی ۔۔۔’’شیر‘‘ کی بہادری سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔۔۔ ٹیپو سلطانؒ نے میدان جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی تھی ۔۔۔ اس نے سارے زخم اپنے سینے پر کھائے تھے ۔۔۔ شہادت کا جام نوش کرکے ۔۔۔ اللہ کے حضور پہنچنے والے ٹیپو سلطانؒ کی بہادری کو تو دشمنوں نے بھی کھلے دل سے تسلیم کیا تھا ‘ آج ٹیپو سلطانؒ نور اللہ مرقدہ‘ کی روح یہ دیکھ کر مسکرا رہی ہوگی ۔۔۔ کہ265 سال بعد بھی ۔۔۔ ’’گیدڑ‘‘ ان کے جہاد سے سہمے ہوئے ہیں ‘ کمپیوٹر آگئے‘ انٹرنیٹ عام ہوگیا‘ ٹی وی چینلز نے اجارہ داری قائم کرلی ۔۔۔ سڑکیں‘ عمارتیں‘ گھر جدید انداز میں بنالیے گئے ۔۔۔ مگر ’’گیدڑوں‘‘ نے نہ اپنا مزا ج بدلا اور نہ ہی ذہنیت تبدیل کی۔ تین سو سال پہلے والے ’’گیدڑ‘‘ ہوں ‘ ایک ہزار سال پہلے والے قدیم ’’گیدڑ‘‘ ہوںیا آج کے دورکے جدید ’’گیدڑ‘‘ اسلام اور مسلمان دشمنی ان گیدڑوں کی وہ مشترکہ ’’میراث‘‘ ہے جو انہیں کسی پل چین نہیں لینے دیتی ۔۔۔ ہندوستانی گیدڑ اور ان کے ہمنوا سیکولر گیدڑ‘ کبھی اورنگزیب عالمگیرؒ جیسے بہادر‘ درویش اور فاتح حکمران کو گالیاں بکتے ہیں ۔۔۔ اور کبھی حضرت ٹیپو سلطان شہید کے خلاف ۔۔۔ بغض اور غلاظت بھری گندی ذہنت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شاید یہ ’’گیدڑ‘‘ نہیں جانتے کہ ۔۔۔ 265 ء برس بعد بھی ۔۔۔ جس طرح ’’گیدڑ‘‘ ٹیپو سلطان شہید کو نہیں بھولے ۔۔۔ ویسے ہی ۔۔۔ مسلمان بھی اپنے ٹیپو سلطانؒ شہید کی بہادرانہ اداؤں کو نہیں بھولے ۔۔۔ آج بھی مسلمان مائیں اپنے بچوں کے نام میں ’’ٹیپو‘‘ شامل کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتی ہیں۔ آج بھی مجاہدین ٹیپو سلطانؒ کی بہادری سے جہادی پیغام سیکھتے ہیں ۔۔۔ آج بھی ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اہل ایمان کے دلوں کو ولولہ تازہ عطا کرتی ہے ۔۔۔ کیوں؟ اس لئے کہ ٹیپو سلطانؒ 265 سال قبل پیدا ہوئے ۔۔۔ پھر 12 مئی1799 کو سرنگا پٹم میں انگریز کے ساتھ آخری معرکے میں ’’میر‘‘ صادق اور ’’دیوان پورنیا‘‘ جیسے غداروں کی غداری کی وجہ سے زخموں سے چور چور ہوکر خلد برین کے مالک بھی بنے ۔۔۔ مگر ’’مرے‘‘ ابھی تک نہیں‘ کیونکہ وہ شہید ہیں ۔۔۔ اور قرآن مقدس میں اللہ کے فرمان کے مطابق جو اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہوئے قتل ہوجائے ۔۔۔ اسے مردہ مت کہو ۔۔۔ بلکہ وہ زندہ ہے اور تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے ۔۔۔ جب تک آسمان کا سورج زمین کو اپنی کرنوں سے منور کرتارہے گا ۔۔۔ جب تک چاند ستارے چمکتے‘ دمکتے رہیں گے ۔۔۔ جب تک ہوائیں چلتی رہیں گی ‘ موسم بدلتے رہیں گے ۔۔۔ جب تک دریااور سمندر بہتے رہیں گے ‘ جب تک درختوں پر ہریالی آتی رہے گی ۔۔۔ اس وقت تک سلطان فتح ٹیپو شہید کا نام زندہ رہے گا ۔۔۔ اگر ’’گیدڑوں‘‘ کے شور مچانے ‘ گیدڑوں کے رونے اور چلانے کی وجہ سے یہ نام مٹ سکتا تو 12 مئی1799 کے دن سرنگا پٹم میں ہی مٹ چکا ہوتا ۔۔۔ اگر ٹیپو سلطانؒ کا نام مٹانا یا اسے بدنام کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو گورے اور کالے گیدڑ دوسو سال پہلے ہی مٹا چکے ہوتے‘ مگر اپنی پیدائش کے265 برس بعد بھی اگر مجھ جیسے خاکسار سلطان فتح علی ٹیپوؒ شہید کی زندگی کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیپو شہید زندہ ہیں اور ان کے نام کو مٹانے کی کوششیں کرنے والے ۔۔۔ خود مٹ جائیں گے ۔۔۔ وہ اگر مر گئے تو ان کی لاشوں کو بھی جلاکر ان کی راکھ کو ہی گنگا جمنا میں بہا دیا جائے گا۔ مسلمانوں کے ’’ہیرو‘‘ سلطان فتح علی ٹیپوؒ شہید کے یوم ولادت کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرنے والے ازلی بدبخت گیدڑوں کو کوئی بتائے کہ ڈھائی سو سال بعد بھی ۔۔۔ اگر ’’گیدڑوں‘‘ کو ٹیپو سلطان شہید نہیں بھولتا اور اس کا جادو تمہارے سر چڑھ کر بول رہا ہے تو یہی تو اس عظیم شہید جرنیل کی ’’کرامت‘‘ ہے ۔۔۔ جس کی سمجھ مشرک پلیتوں کو آہی نہیں سکتی۔ ٹیپو سلطانؒ تو دین محمد ﷺ پر ۔۔۔ جام شہادت نوش فرمانے والا ۔۔۔ وہ عظیم ’’انسان‘‘ ہے ۔۔۔ جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے ٹیپو سلطان ؒ کی قبر پر حاضری دی۔۔۔ کافی دیر وہاں کھڑے رہے ۔۔۔ باہر نکلے تو شدت جذبات سے رو پڑے اور فرمایا۔ آں شہیداں محبت را امام آبروئے ہند و چین و روم و شام نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر خاک قبرش ازمن و تو زندہ تر (ترجمہ) ٹیپو سلطانؒ ’’شہداء محبت‘‘ کے امام ہیں ۔۔۔ اور روئے زمین کی آبرو ہیں ‘ ان کا نام سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے ۔۔۔ اور ان کی قبر کی مٹی مجھ سے اور تجھ سے زیادہ زند ہ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved