’بھل صفائی’ مارشل لاء کے بغیر بھی ممکن ہے
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آسمان کی آنکھ نے ایک بھاری مینڈیٹ والی پارٹی کو اتنا بے بس کہاں دیکھا ہوگا کہ اپنی حکومت۔ اپنے ارباب اختیار ۔ آرمی چیف ۔ نیول چیف۔ ایئر چیف کے تقرر کا اختیار۔ گورنروں کے تقرر کا حق ہونے کے باوجود وہ اپنے قائد کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے نہیں بچاسکی۔ آئین میں ترمیم کے باوجود وہ اپنے قائد کو نا اہل کے لاحقے سے محفوظ نہ کرواسکی۔ تاریخ نے کبھی 20کروڑ انسانوں کے وزیر اعظم کو اس طرح اپنے مربّی ۔ محسن۔ سرپرست کو عدالتوں کے دھکے کھاتا دیکھا ہوگا۔ بر صغیر کی تاریخ نے کب کسی جج کو ایک اکثریتی پارٹی کے منتخب قائد کے بارے میں یہ کہتے سنا ہوگا۔’کہاں ہے ملزم‘۔ کیا یہ واضح نہیں ہورہا ہے کہ اکثریت۔ بھاری مینڈیٹ سب ماند پڑجاتے ہیں۔ جب بات قومی خزانے میں لوٹ مار کرنے کی ہو۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خائن۔ کاذب پکڑ میں آجاتے ہیں تو دنیوی طاقتیں بے اثر ہوجاتی ہیں۔ ان گنہ گار آنکھوں نے سابق صدور۔ سابق وزرائے اعظم کو تو عدالتوں میں پیش ہوتے دیکھا۔ لیکن اس وقت جب ان کی اپنی پارٹی کی حکومت کہیں بھی نہیں تھی۔ جب ان کے اپنے ان سے دور بھاگتے تھے۔ اس ملک میں جہاں ایک ڈپٹی کمشنر۔ ایک ایس ڈی ایم اپنے دوستوں۔ عزیزوں کے خلاف مقدمے رکواسکتا ہے۔ انہیں پیشیوں سے مستثنیٰ کرواسکتا ہے۔ وہاں ایک وزیر اعظم وفاقی وزراء کی فوج ظفر موج اپنے محبوب قائد۔ اپنے آئیڈیل۔ اپنے رہنما کو در بدری سے نہ بچاسکے۔ وزیر داخلہ رینجرز کے سامنے بے بس ہو۔ وزیر قانون عدالتوں کو ڈکٹیشن نہ دے سکے۔ ایسی حکومت اور ایسے اختیار کا کیا فائدہ۔ اکثریتی پارٹی اگر واقعی سیاسی پارٹی ہوتی تو اپنے قائد کو یوں نا اہل قرار دیے جانے کو اگر واقعی نا انصافی سمجھتی۔ عدل کا خون خیال کرتی تو ساری پارٹی اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجاتی ۔ پارلیمنٹ کی رُکنیت سے دستبردار ہوجاتی۔ اس احتجاج کا اثر صرف اپنے ملک میں ہی نہیں۔ دنیا پر پڑتا۔ لیکن کسی نے احتجاجاً اپنا عہدہ نہیں چھوڑا۔ کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ بلکہ وزیروں میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔تاریخ ایک انوکھا منظر دیکھ رہی ہے کہ سرکاری گاڑیوں۔ سرکاری عہدوں۔ سرکاری پیٹرول استعمال کرتے ہوئے احتجاج ہورہا ہے۔ کس کے خلاف ۔ ججوں کے خلاف۔ جو انہوں نے خود مقرر کیے۔ جج کیوں سرکش ہوگئے ہیں۔ کبھی دور تھا کہ یہ چیف جسٹس بھی خرید لیتے تھے۔ یا کوئی چیف جسٹس سرکش ہوجاتا تو اسے اپنی مسند سے بھاگنے پر مجبور کردیتے تھے۔ کسی معزول چیف جسٹس کو اربوں روپے لگاکر بحال کروالیتے تھے۔ اور اپنی ساری قانونی سزائیں۔ ساری پابندیاں معاف کروالیتے تھے۔ اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ دنیا اتنی کیوں بدل گئی ہے۔ انہیں اندازہ کبھی تھا ہی نہیں۔ ہر ایک ظلم کی اک انتہا بھی ہوتی ہے ہر انقلاب کی اک ابتدا بھی ہوتی ہے مگر ان کے دلوں پر تو ہمیشہ سے تالے لگے رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی رہی ہیں ۔ وہ اب بھی بی ایم ڈبلیوز۔ پراڈوز۔ پجیروز۔ ڈبل کیبنز۔کو اپنی عزت نفس۔ وقار اور اعتبار پر ترجیح دیتے ہیں۔ ملزم ہیں مگر انگلیوں سے فتح کے نشان بناتے ہیں۔ شکستوں پر شکستیں کھا رہا ہوں نشاناتِ ظفر ہیں اب بھی میرے وہ اب بھی اس یقین میں مبتلا ہیں کہ عوام النّاس اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی کے اربوں روپے کی خرد برد بھول جائیں گے۔ ووٹ دینے والے یہ سوچیں گے ہی نہیں کہ ان کی زندگی تو ووٹ لینے والے بسر کرگئے۔ ان کی راحتیں تو ووٹ لینے والے ہی اغوا کرتے رہے۔ انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں اور شاید اب بھی نہیں سوچ رہے کہ اللہ کی مخلوق کیا یہ نہیں دیکھتی ہوگی کہ ان کی ذاتی سلطنتیں وسیع ہوتی جارہی ہیں۔ محلّات پر محلّات بن رہے ہیں۔ کاروں کے کارواں میں اضافہ ہورہا ہے۔ لندن۔ دبئی تو اس طرح جاتے ہیں جیسے بھاٹی سے گلبرگ۔ جیسے پی ای سی ایچ ایس سے کلفٹن۔ کیا نادار ۔ پامال اور بے بہرہ۔ وسوسوں میں مبتلا نہیں ہوتے ہوں گے۔ ان کے دل پر میل کی تہہ نہیں جمتی ہوگی۔ وہ کرب کے بوجھ تلے نہیں دبتے ہوں گے۔ وہ اب بھی نہیں سمجھتے کہ اخبارات کے صفحات۔ ٹی وی چینلوں کی اسکرینیں۔ چیخ چیخ کر ان کی رہزنی کے جو ثبوت پیش کررہی ہیں ۔ کیا عام پاکستانی کے ذہن اسے قبول نہیں کررہے ہوں گے۔ وہ اب بھی اس خیال میں ہیں کہ ان کے ارکان پارلیمنٹ ان کے کٹھ پتلی وزیر اعظم۔ ان کے وفاقی وزیر بالآخر انہیں بچالیں گے۔ وہ اب بھی اس گمان میں ہیں کہ وائٹ ہاؤس واشنگٹن سے کوئی مدد آئے گی۔ ریاض سے شہنشاہ کوئی راستہ نکالیں گے۔ وہ بے چارے تو خود ان دنوں مشکلات میں ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ وہ سمجھ ہی نہیں پارہے۔ دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ 90کا دَور نہیں ہے۔ فوج بھی بیسویں صدی کی ’’ہتھ چھٹ ‘‘ فوج نہیں ہے۔جو فوراً میرے عزیز ہم وطنو کے موڈ میں آجاتی تھی۔ اب تبدیلی کے نئے راستے۔نئے طریقے آچکے ہیں۔ عدلیہ بھی اب جسٹس قیوم ملک یا جسٹس نسیم حسن شاہ والی نہیں رہی ہے اور نہ ہی سید سجاد علی شاہ والی۔ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے کرپشن کے خلاف جس مہم کا آغاز کیا تھا جس کے لیے وہ 25سے زیادہ ملکوں کے سربراہوں سے بھی ملے تھے۔ یہ احتساب اور انصاف کا موسم اس ساری جدو جہد کا ثمر ہے۔ اکیسویں صدی کی فوج کو مارشل لاء لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’بھل صفائی‘ کے اب نئے راستے تلاش کرلیے گئے ہیں۔ جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہت کا نسخہ اب کارگر نہیں ہورہا۔ اپنی لوٹ مار کے خلاف مزاحمت کو آمریت کا در پردہ ایجنڈا کہنا اب موثر نہیں رہا۔ یہ جمہوریت اور آمریت میں کشمکش نہیں ہے۔ یہ فوج اور سیاستدانوں میں ٹکراؤ نہیں ہے۔ یہ ہے اچھی حکمرانی اور خراب حکمرانی میں مقابلہ۔ عوام کورہزنوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ان سے پوچھا جائے تو وہ تو دوسرے سب ڈاکوؤں۔ خائنوں۔اور راتوں رات ارب پتی بننے والوں سب کو اسی طرح شکنجے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں ہوں۔ کسی بھی محکمے میں ہوں۔ عدالتوں میں ہوں۔ فوج میں ہوں یا میڈیا میں۔ عوام کا پیسہ۔ عوام کے کام آنا چاہئے۔ مافیاؤں کے نہیں۔ جو بھی مادر وطن کی بالیاں چھیننتا ہے۔ انگوٹھی اترواتا ہے۔ زیورات پر ہاتھ مارتا ہے۔ زمینوں پر قبضہ کرتا ہے۔ اسے احتساب عدالت کے کٹہرے میں ملزم کی حیثیت سے فردِ جرم سننا ہوگی۔ عبرت حاصل کرو۔ آنکھیں رکھنے والو۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved