گورننس کا انوکھا انداز
  13  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پنجاب حکومت ،بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے صوبے میں گورننس کا ایک ایسا نیا اور انوکھا نظام متعارف کرایا ہے جس کی ماضی میں نظیر ملتی ہے نہ اس دور کے بعد یہ ممکن ہو سکے گا۔ایک وقت تھا جب سرکاری ملازمت کے کچھ قواعد و ضو ابط ہوتے تھے جن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اعلیٰ افسران میرٹ کے مطابق حکومتی کام سر انجام دیتے تھے اسی طرح کسی بھی افسر کی تعیناتی سے پہلے اس کا گریڈ ،تجربہ اور اہلیت دیکھی جاتی تھی مگر اب تو ایک ہی کام ہوتا ہے وہ یہ کہ ،،دلہن وہی جو پیا من بھائے،،۔پوسٹیں خالی ہیں تو خالی رہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اضافی چارج دے دے کر ڈنگ ٹپاو کام چلایا جا رہا ہے حالانکہ افسروں کی بھی کمی نہیں ہے ،ہاں میں ہاں ملانے والے افسروں کی ضرور کمی ہے مگر اب اب اس کمی میں �آہستہ �آہستہ بہت زیادہ کمی ہوتی جا رہی ہے۔کوئی افسر پنجاب نہیں چھوڑنا چاہتا سو کچھ نے سمجھوتہ کر لیا ہے،کچھ نظام کو سمجھ گئے ہیں باقی سمجھنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔سول سیکر ٹریٹ کے مقابلے میں وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ بہت زیادہ طاقت پکڑ چکا ہے کیونکہ اسکی رسائی وزیر اعلیٰ تک زیادہ ہے بلکہ رسائی ہی اسکی ہے باقی افسران تو صرف میٹنگز اور جھاڑیں کھانے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔اعلیٰ بیوروکریسی کا کام سیاستدانوں کے خلاف ضابطہ کاموں کی نشاندہی کر کے یا ان پر اعتراض لگا کر انتظامی ،فنانشل اور ترقیاتی معاملات کو صاف شفاف رکھنا ہوتا ہے مگر اب یہ کام بیوروکریسی کی لغت سے خارج ہو چکا ہے ،نو کہنے کا رجحان اور معاملہ اب ختم ہی سمجھیں۔سیاستدانوں کا قصور نہیں وہ ووٹ لے کر آ تے ہیں اور انہوں نے دوبارہ بھی ووٹ لینے کیلئے عوام کے پاس جانا ہوتا ہے اس لئے وہ ہر کام کو ہی جائز سمجھ کر اسے فوری طور پر کرانا چاہ رہے ہوتے ہیں انہیں اور صوبے کے انتظامی سربراہ یعنی وزیر اعلیٰ کو اصل حقیقت بتانا بیوروکریسی کا ہی کام ہوتا ہے جو اب نہیں ہو رہا۔اب توجو کام وزیر اعلیٰ کرنا یا کرانا چاہ رہا ہو وہی ہوتا ہے وہ ضابطوں کے مطابق ہو یا نہ ہو۔اگر کوئی افسر غلط کام کرنے سے انکاری ہو تو پہلے وقتوں میں اسے وفاق یا کسی دوسرے صوبے کی ہوا کھانی پڑتی تھی مگر اب وہ او ایس ڈی ہوتا ہے ،پھر کسی دوسرے صوبے کے دوردراز مقام کا باسی بنا دیا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے پنجاب میں اکثر انتظامی عہدے خالی رہتے ہیں۔بیوروکریسی کے معاملات کی خبریں دینے والے لاہور کے باخبر رپورٹرز خالد رشید،قیصر کھوکھراور حسن رضا روز خبر دے رہے ہوتے ہیں کہ یہ پوسٹ خالی ہے اس پوسٹ پر جونیر افسر لگا دیا گیا ہے یا پھر اس کا اضافی چارج کسی دوسرے افسر کے پاس ہے ،مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز اب کوئی نہیں سنتا۔ پنجاب میں کئی اہم ترین عہدے مسلسل خالی ہیں جبکہ حکومت کے وفادار جونیئر افسروں کو اضافی چارج دیکرکام چلایاجانے لگا، یوں سینئرافسراپنے جونیئرزکے ماتحت کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبہ میں اس وقت انتہائی اہم عہدے خالی ہیں، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کا عہدہ خالی ہے جبکہ اس کااضافی چارج سیکرٹری سروسز فرحان عزیز خواجہ کے پاس ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی کا عہدہ تقریباً ایک سال سے خالی ہے اور اضافی چارج چیئرمین پی اینڈ ڈی جہانزیب خان کودیا گیا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا عہدہ بھی کئی ماہ تک اضافی چارج پر چلانے کے بعد اب یہاں سیکرٹری بلدیات اسلم کمبوہ کو لگایا گیا ہے ۔ چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کا عہدہ بھی خالی تھا اب یہاں عبدالجبار شاہین کو لگایا گیا ہے۔ سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر کا عہد ہ بھی خالی ہے انہیں اضافی چارج پر چلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح سیکرٹری بلدیات ،سیکرٹری اوقاف، سپیشل سیکرٹری زراعت، سپیشل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، سپیشل سیکرٹری بجٹ اینڈ ریسورسز فنانس، سپیشل سیکرٹری کارپوریٹ فنانس اینڈایکسپنڈیچر کے عہدے بھی خالی اور اضافی چارج پر ہیں۔ سیکرٹری سپورٹس ، آرکیالوجی اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے عہدے بھی خالی ہیں جبکہ ان کا اضافی چارج ڈی جی سپورٹس عامر جان کے پاس ہے،پتہ نہیں عامر جان کو سیکرٹری کیوں نہیں لگایا گیا ،عامر جان نے ڈی سی گجرانوالہ کی حیثیت سے بڑا مثالی کا م کیا ہے۔مزیدبرآں چیف آپریٹنگ آفیسر ٹیوٹا کا عہدہ بھی تعیناتی کامنتظر ہے۔کمشنر راولپنڈی کا عہدہ 12مئی 2017ء سے خالی ہے جبکہ گریڈ 18کے افسر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی طلعت محمودکو اضافی چارج دیدیا گیاحالانکہ وہ جونیئرافسرہیں۔ادھر ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع میں اکثر عہدے بھی خالی ہیں، اس وقت کمشنر گوجرانوالہ ڈویڑن محمد آصف کو ایکٹنگ چارج پر لگایاہواہے۔علاوہ ازیں صوبے میں جن افسروں کو ایکٹنگ چارج پر ڈپٹی کمشنر لگایا گیا ہے ، ان میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید، ڈی سی رحیم یار خان سکرات امان رانا، ڈی سی جھنگ مدثر ریاض ملک، ڈی سی فیصل آبادسلمان غنی، ڈی سی بھکرسید بلال حیدراورڈی سی شیخوپورہ ارقم طارق شامل ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس حوالے سے ایک انوکھی پالیسی اپنا ئی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ9سالوں سے جاری ہے کہ من پسندجونیئر بیوروکریٹس کو اضافی چارج دیدئیے جاتے ہیں اورپھران سے اپنی مرضی کے کام کروائے جاتے ہیں،چھوٹے افسروں کوجب بڑے عہدوں پربٹھادیاجاتا ہے تو پھر وہ وہی کچھ کرتے ہیں جوانہیں حکم دیاجاتاہے۔پنجاب کی بیوروکریسی کا اللہ ہی حافظ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved