مذہب، منافقت اور بھائی کا رشتہ
  14  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت بھی حقوق کے دائرے میں نکات کی اہمیت کو مرکزی نقطہ بنایا جا رہا تھا۔اس وقت بھی مزدوروں اور محنت کشوں کی آڑ میں شہنشا ہت کا پلیٹ فارم تیار کیا جا رہا تھا۔اس وقت بھی انسانیت کے دشمن اپنے کھیل میں ماہرانہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔اس وقت بھی نمائشی دوستیاں دشمنی کے پورے اسباب پیدا کر رہی تھیں ۔کبھی زبان کے مسئلے، کبھی حقوق کے نعرے، کبھی وسائل کی غیر منصفانہ تسیم کے راگ اور شکوے، کبھی خود مختاری کی خواہش کی چنگاریاں اور پھر بھرپور حملے، انسانی اخوت اور بھائی چارے کی دیواریں ہماری قومیت کا کیوں تحفظ نہ کر سکیں ۔ اس لئے کہ ہم منافق تھے، ہم دین کے ساتھ بھی فریب کر رہے تھے۔ہم بے عمل تھے، ہم نے دین کو بھی خود ہی محدود کر رکھا تھا۔نہ ہی ہم میں دینی جذبے تھے اورنہ ان پر عمل کرنے کی فکر تھی، نہ ہم میں دینی رواداری تھی اور نہ دین کے تقاضے پورے کرنے کی نیت، جب آفت آتی تو دین کو ڈھال بنا لیتے ، عمل سے خالی بے راہ روی میں مقابلے بڑھتے جا رہے تھے۔دین پر چلانے والے اپنی خامیوں پر نظر ڈالنے کی بجائے دوسروں پر کیچڑ اچھالنا اپنا حق سمجھتے تھے۔عمل دین سے مختلف ، دین کی اصل روح کو اس قدر مسخ کیا کہ زبان جو بولتی ، دل اور عقل اس سے بالکل باغی۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کے لئے جھٹکے دیتا ہے۔واقعات سے سبق سکھاتا ہے۔مشکلات کے بعد آسانیاں دیتا ہے۔لیکن ان جھٹکوں اور دکھوں کو سوچ اور عمل کی راہ بدلنے میں انسان کو با اختیار بھی بنایا ہے۔مشرقی پاکستان سے بڑھ کر ہمارے لئے سبق سیکھنے کا سانحہ کیا ہوگا؟جب کسی معاشرہ میں انصاف ختم ہو جاتا ہے، قانون غریب کے لئے ہیں ۔برائی اور لوٹ مار کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتے تو ہر طبقہ اور ہر فرالزام تراشی کا آسان سبق پڑھتا ہے۔ کوئی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کوئی اپنی برائی کو نہیں پہچانتا، کوئی اپنی کمزوریوں پر نظر نہیں رکھتا۔نہ اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے، کوئی اپنی کمزوریوں کے اعتراف کی اخلاقی جرأت نہیں کرتا۔ٹی وی اور اخبارات میں مذاکرات اور تبصرے ہیں ۔تو دوسروں پر تنقید کی آگ میں تپتے ہوئے رویے ہیں تو دشمنی کی جھلک ، سوچیں ہیں تو لیول علاقائی، اثرات ہیں تو گھٹن کے، فکر ہے تو اپنی پہچان کی، نہ ملکی سطح کی فکر میں مجبوریوں کو مدِ نظر رکھا جائے اور نہ دنیاوی حالات کے جھٹکے محسوس کئے جائیں ۔زندگی بھر یہ حسرت ہی رہی کہ کوئی بااختیار دشمن اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اداریے کے اصلاحی پہلو تلاش کرے، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہوئے اپنے کمزور پہلوؤں پر نظر رکھے ۔ اپنے ماتحتوں کی پیدا کرد ہ رکاوٹوں کا ازالہ کرنے کی ترکیب سوچے اور عوام کی تکالیف میں کمی کی کوشش کرے، رشوت اور سفارش کے روپ میں ہمارے حقوق جنم لیتے ہیں ۔ طریقہ انتخاب اس برائی کا سب سے بڑا مؤجد اور آبیاری کرنے والا ہے۔ضوابط کا تقدس ہو، فرائض کی ادائیگی کا احسا س ہو ، آنے والے کا عہدہ یا اس کا معاشی قد کاٹھ ملحوظِ خاطر نہ ہو تو کسی کام میں رکاوٹ نہیں ، ناجائز توقعات مٹ جاتی ہیں ، جائز حقوق اور قانونی سربلندی کا احساس بڑھ جاتا ہے، قیادت میں عاجزی اور انکساری نہیں ۔احساسِ ندامت نہیں ۔غلطیوں کے اعتراف کی اخلاقی جرأت نہیں ، جذبہ ٔ خدمت کا فقدان، طاقتور اپنی کرسی کی طاقت پر نازاں اور حواریوں کی ہاؤ ہو میں مست، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اقتدار میں جھکنے کی ہدایت کی۔انہیںخادم ہونے کا احساس دلایا ، ان کی سوچ کا محور خدمتِ خلق ، ان کا اوڑھنا بچھونا ، آسانیاں پیدا کرنااور بڑھانے کی فکر کرنا۔ ان کی سوچ کا فلسفہ یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں خدمت کا موقع دیا ۔ہم کچھ نہیں ، ہم ناقص اور خود غرض لوگ ہیں۔اس ذات کبریاسے بہتری اور عمل کی توفیق مانگتے ہیں۔اللہ کے بندے اقتدار میں جھکتے ہیں ۔مشکلوں میں ابھرتے ہیں ۔ خود دکھ سکھ سہتے ہیں ۔جھٹکے برداشت کرتے ہیں ۔لیکن خلق خدا کے لئے آسانیاں فراہم کرتے ہیں ۔لیکن ہم بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں ۔ہمارا معاشرہ تباہ ہو چکا ہے۔کوئی کام سفارش اور رشوت کے بغیر ممکن نہیں ۔ جرائم کی کاشت بڑھائے جا رہے ہیں ۔پولیس کے پاس جانا ہے تو سہارے کے بغیر ممکن نہیں ۔ ساری کائنات مختلف مذاہب میں تقسیم کی گئی ہے۔مگر ہم بحیثیت مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں افضل ترین مذہب اسلام ہے۔مجھے تصوف سے بھی گہرا لگاؤ ہے۔پیرصاحب گولڑہ شریف حضرت بابو جی کا مرید ہوں ۔لیکن کچھ دنوں سے اسلام آباد کی سڑکوں پر مذہب اسلام کے رہبروں کے کارنامے دیکھ رہا ہوں ۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے لئے مسلمان کہلوانا بھی باعثِ شرم بن گیا ہے۔

منافقت کے متعلق بڑے بڑے قصے کہانیاں سن اور پڑھ رکھے تھے لیکن جس منافقت کی تہہ تک ایم کیو ایم اورپی ایس پی کے رہنماؤں نے میڈیا پر آ کرانتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ۔ اس طرح کی بے شرمی کا مظاہرہ میری نسل کے لوگوں نے پہلی دفعہ دیکھاہے۔اب تو منافقت سے کیا انسانیت سے بھی خوف آنے لگاہے۔جس طرح ان دونوںنے جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ ہر لفظ ، ہر جملے کے ساتھ بھائی ، بھائی کی رٹ لگائی ہوئی تھی۔اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب ہمیں کوئی بھائی کہے تو ہمیں سمجھ جانا چاہیئے کہ ہمارے متعلق اس شخص کے اندر انتہائی زہریلا مواد جمع ہے جو موقع ملتے ہی ڈنگ مار لے گا۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی حماقتوں ، بے وقوفیوں اور منافقت کا الزام پاکستان کے سب سے معتبر ادارے جس کو ہم اپنی زبان میں اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں اس پر لگا رہے ہیں ۔دراصل یہ اس ادارے کی طرف اشارہ ہے جو پاکستان کی سرحدوں اور اندرونی سازشوں سے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ہمیں تو اب بھائی کہلوانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved