ابھی تو نکاح ہوا ہے تنسخ بھی ہوگیا
  14  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گذشتہ روز 8نومبر کو ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے مابین ایک اتحاد قائم ہواتھا، اس اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا تھا کہ ابھی صرف نکاح ہوا ہے، ٹھیک ہی کہا تھا لیکن رخصتی کے بارے میں ان کے لب خاموش تھے، حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی نکاح سے متعلق دعائیہ کلمات ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان دونوں مہاجر پارٹیوں کی اکثریت نے اس ''الحاق'' کے بارے میں اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا تھا، عامر خان جو سعودی عرب میں عمرے کی غرض سے گئے ہوئے تھے انہوںنے کہا کہ یہ سب کچھ ان کی مرضی کے خلاف اور ان کی سوچ کے بر عکس ہواہے، اس ہی طرح روف صدیقی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ''اگر برانڈ کو ختم کردیا جاتاہے تو باقی کچھ بھی نہیں بچتا ہے، با الفاظ دیگر اگر ''متحدہ'' کا لفظ ہٹادیا جاتا ہے تو اس پارٹی کی شناخت بے معنیٰ ہوجائے گی، دوسری طرف متحدہ کے قومی اسمبلی کے رکن جناب رضا علی عابدی نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیاہے، انہوںنے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ انہوںنے متحدہ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی، اس لئے وہ انہیں واپس کررہے ہیں، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رضا علی عابدی کے والد اخلاق عابدی (جو کہ ایک مشہور تاجر ہیں) وہ بھی کسی زمانے میں متحدہ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کی نشست جیت کر ایوان تک پہنچے تھے، ان کے ایک چچا سندھ میں صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں، چنانچہ متحدہ اور پاک سرزمین پارٹی کے کارکنوں کے تحفظات کو سنکر کہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ نکاح جلد ہی تنسخ ہوجائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے، کیونکہ یہ دلوں کا ملاپ نہیں تھا، جو قائم رہ سکتا بلکہ یہ مفادات کا ملاپ تھا یعنی ایک بار پھر مہاجروں کا جذباتی استحصال کرکے آئندہ 2018کے انتخابات میں شہری سندھ کی نشستوں کو جیتا جاسکے، لیکن اب نکاح کی تنسخ کے بعد فاروق ستار نے ایک ڈرامہ رچایا ، انہوںنے متحدہ سے استعفیٰ دے دیا اور سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی ، اس سے قبل ایک طویل کانفرنس کرکے انہوںنے اپنے بارے میں اور مصطفی کمال کے بارے میں جو کچھ بھی کہاہے اس سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ آئندہ متحدہ اور پاک سرزمین پارٹی اپنے اپنے منشور کے تحت انتخابات لڑیں گے، اب ایک منشور ایک انتخابی نشان کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا، چنانچہ اردو بولنے والوں کا ووٹ تقسیم ہوگا اور اس خلا کو وہ پارٹیاں پر کریں گی جس کا یہ خواب ہے کہ مہاجر پارٹیوں میں اختلافات برقرار رہے یہ متحد نہ ہونے پائیں، تاکہ وہ اس اختلاف سے فائدہ اٹھاکر ان کا ووٹ حاصل کرسکیں، بہر حال یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ متحدہ اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان ہونے والے اتحاد کو ایک عام آدمی نے بہت سراہا تھا، اور پیشن گوئی کی تھی کہ آئندہ اردو بولنے والوں کے معاشی و سماجی مسائل اس اتحاد کے ذریعہ احسن طریقے سے حل ہوسکیں گے، لیکن اب اس اتحاد کے ٹوٹ جانے کے بعد ان کی امید یں بھی ٹوٹ گئی ہیں، ایک بار پھر مہاجر پارٹیاں ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کر خوداپنے آپکو ہی بد نام ورسوا کررہی ہیں، دیگر سیاسی پارٹیاں اس صورتحال سے فائدہ اٹھایں گی، اس اتحاد کے ٹوٹنے سے متعلق اندورن خانہ کی ایک اطلاع کے مطابق لندن سے فاروق ستار کو دھمکی ملی تھی کہ وہ اس اتحاد سے باز رہیں کیونکہ متحدہ (لندن کا) ایجنڈا مختلف ہے، یعنی ایک مہاجر صوبے کی کوشش ہے جسکی راہ میں پاک سرزمین پارٹی سنگ گراں بن کر ابھری ہے، چنانچہ فاروق ستار نے تقریباً وہی ڈرامہ رچایا جو الطاف حسین حالات کے سامنے بے بس ہوجانے کے بعد رچایا کرتے تھے، فرق صرف اتنا تھا کہ الطاف حسین کارکنوں کے بے حد اصرار اور رونے دھونے پر اپنا استعفیٰ واپس لے لیتے تھے، جبکہ فاروق ستار نے اپنی عمر رسیدہ والدہ کا سہارا لے کر کہا کہ ان کی ''ایما'' پر وہ سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لے رہے ہیں، چنانچہ ان دونوں مہاجر پارٹیوں کے درمیان ہونے والا نکاح صرف 48گھنٹے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، تاہم اب ایک بار پھر اردو بولنے والوں کا جذباتی استحصال کیا جائے گا، انہیں ہر طرح سے مذمتی بیانات کے ذریعہ وفاق پاکستان سے بیزار کرنے کی کوشش کی جائے گی جیسا کہ لندن والے کررہے ہیں، لیکن موجودہ پاکستان 35سال پہلے والا پاکستان نہیں ہے جب ایم کیو ایم نے لسانی بنیادوں پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر وفاق پاکستان سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، اس جماعت کو صرف پرویز مشرف کے دور میں کچھ فائدہ ضرور حاصل ہوا تھا، بلکہ ان ہی کے دور میں اس جماعت نے ہر قسم کی بد عنوانیوں کا سہارا لے کر اپنے کچھ ساتھیوں کو راتوں رات امیروکبیر بنادیا تھا، لندن میں الطاف حسین کو جو پیسہ ترسیل کیا جاتاتھا اسکا اصل حساب اسکالینڈ پولیس کے پاس موجود ہے، جبکہ کراچی کے بعض سرکردہ تاجروں کا کہنا ہے کہ ہم نے ایم کیو ایم کے خوف اور دبائو کے تحت ایک کثیر رقم لندن بھجوائی تھی، مزید براں کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ اور دیگر گھنائونے جرائم میں ایم کیو ایم کے کارکن ملوث پائے جاتے تھے، اسطرح یہ جماعت (متحدہ) پاکستان کے عوام میں بری طرح بد نام ہوگئی تھی اسوقت بھی کراچی والے اسکا نام اور کردار کو اچھے ناموں سے یاد نہیں کرتے ہیں، بلکہ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر ٹارگیڈ آپریشن شروع نہیں ہوتا تو کراچی بہ حیثیت ایک معاشی واقتصادی مرکز کے طورپر تباہ وبرباد ہوجاتا، یہی وجہ ہے کہ تاجروں ، صنعت کاروں اور ایک عام شہریی نے کراچی میں رینجرز کی تعیناتی کا زبردست خیر مقدم کیا ہے، جنہوں نے سندھ پولیس کے ساتھ ملکر جرائم پیشہ عناصر کو کراچی سے پاک کیا ہے، ان کی جدوجہد سے آج کراچی ماضی کے مقابلے میں سوگنا زیادہ پر سکون ہے، معاشی و ثقافتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، کراچی بدل رہاہے، معاشی سرگرمیاں تیزی سے فروغ پارہی ہیں۔

چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاروق ستار اینڈ کمپنی نے پاک سرزمین سے اتحاد یا الحاق کیوں کیا تھا؟ بقول خودان کے چارماہ کے دوران مصطفی کمال سے اس اتحاد کے بارے میں گفت وشنید ہوتی رہی تھی، تب جاکر بروز بد ھ8نومبر کو یہ اتحاد منظر عام پر آیا تھا، لیکن بسا آرزو کہ خاک شدی صرف48گھنٹے میں ٹوٹ کر بکھر گیاہے، اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ سندھ میں محترک وفعال سیاسی جماعتوں کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا، ان کی یہ دلی خواہش تھی کہ یہ اتحاد قائم نہ رہ سکے، چنانچہ ان کی دلی خواہشات بر آیں، اتحاد ٹوٹ گیاہے، فاروق ستار متحدہ کی سربراہی کرتے رہنگے، لیکن اردو بولنے والے اب لسانی سیاست کے چکر مین نہیں آیں گے، انہیںلسانی سیاست نے بہت نقصان پہنچایا ہے، ان کا شدید استحصال ہوا ہے، مہاجروں کی تین نسلوں کو تباہ وبرباد کردیاہے، ان کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر اسلحہ تھما دیاہے، جو مزید ان کی بربادی اور تباہی کا باعث بنا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved