مشکور حسین یاد بھی چلے گئے!
  14  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭معروف استاد، شاعر، ادیب اور دانش ور مشکور حسین یاد اچانک انتقال کر گئے۔ عمر93 برس تھی مگر صحت مند افراد کی طرح چلتے پھرتے، تقریبات میں شرکت کرتے اور مسلسل مختلف موضوعات پر زبانی اور تحریری طور پر اظہار خیال کیا کرتے۔ ہفتہ کے روز شام کے وقت اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ خاموش ہو گئے۔ علم و ادب کی دنیا ایک بہت بری باعلم شخصیت سے محروم ہو گئی۔ 1925ء میں ہریانہ کے ایک شہر ڈب والی میں پیدا ہونے والا ایک ایسا شخص جس کے سامنے 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر مظفر نگر میں ہندو سکھ بلوائیوں نے ان کے گھر پر حملہ کر کے ان کے گھرانے کے 35 افراد کو شہید کر دیا ان میں مشکور صاحب کے والد، والدہ، بیوی، تین سالہ بچی، بھائی بہنیں سب شامل تھے۔ خود مشکور صاحب بھی شدید زخمی ہوئے مگر بلوائی انہیں بے جان سمجھ کر چھوڑ گئے۔ وہ کسی طرح لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ایسے عالم میں اترے کہ جسم زخموں سے چور چور تھا، لاہوربلکہ پورے پاکستان میں کوئی شخص جاننے والا نہ تھا، رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی…اور پھر یہ نوجوان ملک کے مشہور گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر بنا، نوازشریف اور شہباز شریف کو ان کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دوسرا پہلو یہ کہ اپنے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی، آج ایک بیٹا پاک فوج کا سینئر جرنیل، ایک مشہور ماہر تعمیرات ہے۔ مشکور حسین مرحوم سے میرے بہت قریبی تعلقات رہے۔ مجھ سے بہت سینئر تھے۔ بڑی شفقت سے پیش آتے۔شاعری، انشائیہ، تنقید اور دوسرے موضوعات پر 20 سے زیادہ اہم کتابوں کے مصنف تھے۔ پاکستان کی آزادی کے چشم دید واقعات کے بارے میں ایک اہم تاریخی کتاب 'آزادی کے چراغ' لکھی جو اعلیٰ ترین سطح پر نصاب میں شامل ہے۔ بہت زندہ دل، شگفتہ مزاج شخص تھے۔ مجھے ان کے ساتھ اکثر مشاعروں میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ بے حد محب وطن انسان! سادہ زندگی! ان کی باتوں کے لئے الگ مضمون لکھوں گا۔ دکھ یہ کہ اتنی بڑی شخصیت چلی گئی مگر ایک آدھ میڈیا کے سوا کسی نے خبر تک نہ دی۔ گلبرگ لاہور کی ایک مسجد میں بہت بڑا اجتماع، بہت سے نامور ادیب، شعرا اور دانش ور! ایک تابوت، نمازیوں کی قطاریں! اللہ اکبر کی آوازیں اور پھر قبرستان کو جاتی ہوئی ایک گاڑی، اور مشکور صاحب چلے گئے!! اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون! ٭یہ خبر اس لحاظ سے خوش گوار ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے ایک ہی وقت میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جارحیت کی مذمت کی، بلکہ یہ کہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع 57 اِسلامی ممالک کی کانفرنس کے ہیڈ کوارٹرز میں گزشتہ روزایک تصویری نمائش کا افتتاح ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کے مظاہروں اور ان پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور ظلم و تشدد کی تصویریں دکھائی گئی ہیں۔ ظاہر ہے یہ اہتمام پاکستان کے سفارت خانے نے کیا ہے اس کے سفیر خان ہشام بن صدیق اور اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری بن احمد افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔ دونوں نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا مطالبہ بھی کیا۔ اس تقریب کو معمول کی روائتی تقریب کہا جا سکتا ہے جس کا بھارت پر شائد کوئی اثر نہیں ہو گا مگر یہ بات اہم ہے کہ یہ تقریب سعودی عرب میں منعقد ہوئی جس کا ایک عرصے سے بھارت کی طرف سے گہرا رجحان رہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں ایک بیان میں کشمیری عوام کی حمائت پر سعودی عرب کی شاہی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ کے دوران ایران کے سپریم رہبر آئت اللہ خامنہ ای نے بھی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمائت کی ہے۔ سعودی عرب اور ایران ایک عرصے سے اس مسئلہ پر خاموش تھے۔ تاہم اب ان کی طرف سے کشمیری عوام کی حمائت میں آواز کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال ستمبر میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اسلامی کانفرنس کی طرف سے مقبوصہ کشمیر کے عوام پر بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کی گئی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمائت کی گئی ہے۔ اس سے قبل 1999ء میں تہران میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے اجلاس میں کشمیری عوام کی جدوجہد اازادی کی حمائت کے لئے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مگر اس کی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ 57 اسلامی ممالک میں سے بیشتر اس مسئلے پر خاموش ہو چکے ہیں۔ رسمی بیانات اپنی جگہ مگر ایران نے اپنی بندرگاہ چاہ بہار بھارت کے سپرد کر دی اور سعودی عرب کی طرف سے بھارتی وزیراعظم مودی کا جو غیر معمولی شاندار استقبال کیا گیا تھا اور متعدد اہم تجارتی معاہدے کئے گئے وہ اسی طرح موجود ہیں۔ ٭حدیبیہ پیپرملز کا کیس شروع نہ ہو سکا۔ سہ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کی سربراہی سے اس بنا پر معذرت کر دی کہ وہ پانامہ کیس میں پہلے ہی اس کیس کو کھولنے کا فیصلہ دے چکے ہیں۔ اس لئے اب وہ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔ ان کی معذرت کے بعد اب نیا بنچ بنے گا۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے صرف یہ کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بارے میں ن لیگ نے جو پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اس کے پیش نظر ان کا علیحدہ رہنا ہی مناسب ہے۔ ٭پنجاب کے محکمہ تعلیم کی ضلعی تعلیمی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اچھی کارکردگی کے حساب سے ضلع پاک پتن اول، بھکر دوم، جہلم سوم، ٹوبہ ٹیک سنگھ چوتھے، گجرات پانچویں اور منڈی بہائوالدین چھٹے نمبر پر رہے۔ تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر والے بڑے شہروں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ راولپنڈی 16 ویں، ملتان 19 ویں، گوجرانوالہ 27 ویں؟ فیصل آباد 26 ویں، سیالکوٹ 29 ویں اور لاہور 30 ویں نمبر پر رہا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت کی ''اعلیٰ'' کارکردگی ۔پنجاب کے 36 اضلاع میں ضلع لاہور کا 30 واں نمبر11 ایک چیز شرم نام کی ہوتی ہے، چلیں چھوڑیں۔

٭جاوید ہاشمی نے عمران خاں کو چیلنج دیا ہے کہ وہ آئین کی صرف چار دفعات زبانی سنا دیں تو وہ (جاوید ہاشمی) سیاست چھوڑ دیں گے۔ عمران خاں صاحب کے لئے ہاشمی صاحب کو سیاست سے باہر کرنے کا بہت آسان نسخہ ہاتھ آیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ خاص صاحب آئین کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں۔ میں ان کی آسانی کے لئے آئین کی چند بہت مختصر آسان دفعات درج کر رہا ہوں۔ وہ ان میں سے چار یاد کر لیں اور جا کر جاوید ہاشمی کو سنا دیں۔ دفعات یہ ہیں۔ دفعہ نمبر2: اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہو گا۔ نمبر-2 الف: قرارداد مقاصد کے اصول اور احکام آئین کا مستقل حصہ ہوں گے، نمبر-9 کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ قانون اجازت دے۔ نمبر 16: قانونی پابندیوں کے تحت ہر شہری کو پرامن طور پر اسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہو گا۔ نمبر 23 ہر شخص کو قانون کے تحت جائیداد حاصل کرنے، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہو گا۔ نمبر35 مملکت شادی، خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت کرے گی۔ نمبر -50 پاکستان کے صدر، قومی اسمبلی اور سینٹ پر مشتمل ایک پارلیمنٹ ہو گی۔ نمبر65 کسی ایوان کے سامنے حلف اٹھائے بغیر کوئی شخص نشست نہیں سنبھالے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved