سعودی عرب میں منفرد'' انقلاب''
  15  ‬‮نومبر‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پچھلی صدی کے اوائل میں پہلی جنگ عظیم لڑی گئی، جس میں سلطنت عثمانیہ اور جرمنی کو شکست ہوئی اور ترکی کے زیر تسلط علاقے کو فاتح یورپین فوجوں نے مختلف اور متعدد ملکوں میں تقسیم کردیا، اگر آپ مشرق وسطیٰ کے ممالک کا نقشہ دیکھیں تو ا س میں بیشتر عرب ممالک کی سرحدیں سیدھی لکیروں کی طرح ہیں یہ اسلئے کہ یہ ممالک نقشے پر لکیریں کھینچ کر تقسیم کئے گئے تھے، اگر اس پورے خطےّ کو ایک اکائی رہنے دیا جاتا تو مسلمانوں کی تقریباً نوّے فیصد آبادی کا یہ ملک ایک اور سلطنت عثمانیہ کا پیش خیمہ بن سکتا تھا، عرب کی سلطنت عثمانیہ سے آزادی کیلئے وہاں برطانیہ سے ایک فوجی افسر کو بھیجا گیا۔ جس نے عرب کے متعدد قبائل میں سے ایک قبیلے کے جنگجو سردار عبدالعزیز بن سعود کا انتخاب کیا اور اس کی رہنمائی کرتے ہوئے عرب کا علاقہ ترکی سے آزاد کرالیا، عبدالعزیز بن سعود بادشاہ بن گئے اور اپنی مملکت کا نام سعودی عرب رکھا۔1938 تک شاہ عبدالعزیز نے ہر قبیلے کو شکست دے کر سلطنت کی فرماں روائی اپنے خاندان کے قبضے میں دے دی، شاہ عبدالعزیز کثیر الاولاد تھے اور سرزمین عرب کے ہر قبیلے سے ایک خاتون ان کے نکاح میں آتی رہی اس طرح سارے بڑے قبائل ان کے سسرالی رشتے دار بن گئے اور اسی اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے انھوں نے قانون بنایا کہ ان کے بعد بادشاہت ان کے بیٹوں میں نہیں بلکہ ان کے بھائیوں میں منتقل ہوگی، یہ سلسلہ2015 پر اختتام پذیر ہوگیا۔ کیوں کہ شاہ سلمان بھائیوں کی قطار میں آخری تھے پھر بھی انھوں نے شاہ عبداللہ مرحوم کے بیٹے کو ولی عہد مقرر کردیا مگر یہ نظام اس وقت درہم برہم ہوگیا جب انھوں نے ولی عہد کو ہٹاکر ان کی جگہ اپنے32 سالہ لاڈلے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کردیا یہیں سے ان محلاتی سازشوں کا آغاز ہوا جن کا اندازہ بانی سلطنت شاہ عبدالعزیز سعود کو80 سال پہلے ہوگیا تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان اپنی عمر کے لحاظ سے کم تجربہ کار سہی مگر وہ دوسرے شہزادوں سے یوں مختلف ہیں کہ ان کے خیالات خالصتاً وہابی نہیں، وہ اندرون ملک اصلاحات کرکے اپنی سلطنت کو دنیا کے بہائو میں درمیان یعنیMid Stream رکھنا چاہتے ہیں، سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ایک بہت بڑی پیش رفت ہے اس کے علاوہ وہ انتہا پسندی کے جن کو قابو میں لانا چاہتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ ملکی معیشت کا انحصار محض تیل کی پیداوار سے ہٹانا چاہتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری بہت بڑے پیمانے پر ملک میں لانا چاہتے ہیں، اس تمام پیش رفت کو حقیقت کادرجہ دینے کیلئے ان کو مکمل اختیار چاہئے، ان کے والد شاہ سلمان81 سال کے بیمار اور عمر رسیدہ شخص ہیں اور یوں بھی وہ اپنے لاڈلے بیٹے کے کام کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان گرفتاریوں میں ممتاز ترین دو افراد ہیں، شہزادہ ولید بن طلال جو ملک کے امیر ترین فردشمار ہوتے ہیں اور سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں، دوسرا بڑا نام شہزادہ مطائب بن عبداللہ کا ہے جو مرحوم شاہ عبداللہ کے لاڈلے بیٹھے تھے اور جنھیں اکثر مبصرین شہزادہ عبداللہ بن سلمان کیلئے خطرہ سمجھتے تھے، وہ نیشنل گارڈ کے سربراہ تھے اور گرفتاری سے ایک ہفتہ پہلے انہیں اپنے منصب سے ہٹادیا گیا تھا، یاد رہے کہ سعودی عرب کی زمینی افواج تین حصّوں پر مشتمل ہے، فوج، نیشنل گارڈ اور اندرونی سیکیورٹی فوج ان تینوں افواج کے سربراہان کا تقرّر نہایت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے تاکہ ملکی طاقت کا توازن وسیع شاہی خاندان کے مختلف گھرانوں کے درمیان قائم رہے، اس طرح شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری پر شک کے بادل منڈلارہے ہیں، کیوں کہ ایک تو ان کی گرفتاری سے بیرونی سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہوں گے کیوں کہ شہزادہ طلال ایک بین الاقوامی شہرت کے سرمایہ کار ہیں، پھر یہ بھی یاد رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی ولی عہد تعیناتی کی بیعت کونسل سے منظوری کے موقع پر تین ممبران نے مخالفت کی تھی جن میں شہزادہ طلال نمایاں تھے، کونسل30 ممبران پر مشتمل ہے، یہ بھی یاد رہے کہ شہزادہ طلال کے کئی برانڈ کمپنیوں میں شیئرز ہیں جن میں ٹوئیٹر، نیوز کارپویشن،ایپل اور فورسیزنز جیسے نام شامل ہیں، یہ بھی شنید ہے کہ شہزادہ طلال سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کے شیئرز غیر ملکی افراد کو بیچنے کے مخالف ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ اس سال امریکی صدر کے اہم مشیران جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کُشنر شامل ہیں سعودی عرب کے تین دورے کرچکے ہیں جن میں سے آخری دورہ شہزادہ محمد کے ان اقدامات سے صرف چند دن پہلے تھا، اس سے یاد آیا کہ صدر صدّام حسین کے کویت پر حملے سے پہلے بھی امریکی سفیر نے ان سے ملاقات کی تھی، اس منفرد'' انقلاب'' کے دوسرے دن صدر ٹرمپ نے شاہ سلیمان سے اس واقعہ کا ذکر کئے بغیر شہزادہ محمد بن سلمان کی بہت تعریف کی۔ اگر غور کیا جائے تو ملک سے کمائی ہوئی دولت شاہی خاندان کے ہاتھوں میں رہنا بذات خود کرپشن ہے، ہر شاہ اور ہر شہزادے کے متعدد محلات، غیر ممالک میں جائیدادیں یہ سب کرپشن ہے، شہزادہ محمد بن سلمان نے شروعات تو کردی ہیں، اختتام کہاں کریں گے؟۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved